Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صوبے کی آبادی 35.55 ملین جس میں اضافہ کی سالانہ شرح 2.89 فیصد ریکارڈ کی گئی۔سید احمد

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے بہبود آبادی سید احمد حسین شاہ نے کہا ہے کہ آبادی اور وسائل میں توازن لانے کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کیونکہ اس کی شرح کو کم کرنا بہت ضروری ہے بصورت ورنہ تین دہائیوں میں ہماری آبادی دوگنا بڑھ جائے گی اور وسائل کم پڑھ جائینگے۔ ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی برائے بہبود آبادی سید احمد حسین شاہ نے اپنے محکمے کی دو سالہ کارکردگی کے حوالے سے محکمہ اطلاعات کے اطلاع سل پشاورمیں منعقدہ پریس کانفرنس سے سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ سال 2017 کی مردم شماری کی ابتدائی رپورٹ کیمطابق خیبر پختونخوا کی آبادی(بشمول ضم شدہ اضلاع) 35.55 ملین ہے۔ جس میں اضافہ کی سالانہ شرح 2.89 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

صوبے کی آبادی میں اضافے کے باوجود محکمہ بہبود آبادی کے اہداف میں کافی حد تک بہتری آئی ہے اورپاکستان ڈیموگرافک ہیلتھ سروے (2012-13) کے مطابق مانع حمل ادویات کے استعمال کی شرح 28.1 فیصد سے بڑھ کر PDHS(2017-18) میں 31 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے اور ماضی کے مقابلے میں اب لوگ رضا کارانہ طور پر خاندانی منصوبہ بندی کو اپنا رہے ہیں۔ پاکستان ڈیموگرافک ہیلتھ سروے 2017-18 کی مطابق شادی شدہ جوڑوں کی خاندانی منصوبہ بندی کی سہولیات تک رسد میں کافی حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ آبادی میں توازن اور اعتدال کو مد نظر رکھتے ہوئے اس وقت محکمہ بہبود آبادی صوبے میں سرگرم عمل ہے۔صوبے کے شہری اور دیہی علاقوں میں خاندانی منصوبہ بندی کے مراکز اپنی خدمات مہیا کر رہے ہیں۔جس میں بچوں کی پیدائش میں مناسب وقفہ لانے کیلئے مختلف مانع حمل ادویات بشمول ماں اور بچے کی صحت کیلئے عام ادویات بہم فراہم کی جاتی ہیں۔

معاون خصوصی نے کہا کہ محکمہ بہبود آبادی صوبہ خیبر پختونخوا نے مشترکہ مفادات کونسل کی سفارشات کے مطابق مانع حمل ادویات کے استعمال کی موجودہ شرح 30 فیصد سے بڑھا کر 2030 میں 49 فیصد تک پہنچانے کا عزم کر رکھا ہے۔اسی طرح اوسطاً فی عورت بچوں کی موجودہ شرح 4 سے کم کر کے 2030 میں 3 بچے فی عورت کیلئے منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ان اہداف کے حصول سے ہمارے صوبے کی آبادی میں موجودہ سالانہ شرح اضافہ2.8 فیصد سے کم ہوکر 2030 میں 1.7 فیصد رہ جائے گا۔

سید احمد حسین شاہ نے کہا کہاس وقت محکمہ بہبود آبادی اپنے مراکز سے لوگوں کومفت مانع حمل اور دوسرے ادویات، سہولیات و خدمات فراہم کر رہا ہے۔ ان مراکز میں فلاحی مراکز(FWCs) کی تعداد 682، موبائل سروس یونٹس (MSUs) 41، تولیدی مراکز صحت(RHSC-A)35، جبکہ ٹریننگ سنٹرز(RTIs)کی تعداد تین ہے۔محکمہ بہبود آبادی خیبر پختونخواکی دو سالہ کارکردگی (2018-20) کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمے نے 1,583,747 شادی شدہ جوڑوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی ادویات و خدمات فراہم کی ہیں۔جبکہ1,038,891 عام مریضوں کو مفت ادویات مہیا کی گئیں۔

معاون خصوصی نے مزید بتایا کہ فلاحی مراکزاور موبائل سروس یونٹس کے تحت دورافتادہ علاقوں میں 16000میڈیکل کیمپس کے انعقاد سمیت محکمہ کے مختلف ٹریننگ سنٹرز کے زیر اھتمام 2600 سٹاف کو تربیت فراہم کی گئی اور خاندانی منصوبندی کی ترغیب اور مختلف قسم کی غلط فہمیوں کو دور کرنے کیلئے علماء اور عوامی نمائندوں کیلئے پورے صوبے میں 17,346 ورکشاپ اور سیمینارز کا انعقاد کیا گیا۔ محکمہ کے فیلڈ سٹاف نے لوگوں کو خاندانی منصوبہ بندی کی ترغیب دلانے کیلئے 268,469 گروپ میٹنگز کیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ خاندانی منصوبہ بندی اور چھوٹے کنبے کے فروغ کیلئے 170 اشتہارات مختلف قومی، صوبائی اور علاقائی اخبارات میں شائع کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کثیر تعداد میں خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت پر مبنی پیغامات کو ریڈیو اور کیبل نیٹ ورک کے ذریعے عوام الناس تک پہنچایاگیاہے۔

خاندانی منصوبہ بندی کے پیغامات بینرز اور بل بورڈز کے ذریعے آویزاں کرنا پروگرام کا ایک باقاعدہ حصہ ہے۔خصوصاً 11 جولائی عالمی یوم آبادی کو منانے کیلئے بڑے پیمانے پر اشتہارات دیئے جاتے ہیں۔ معاون خصوصی بہبود آبادی نے کہاکہ حفظان صحت کے حوالے سے سکولوں میں 1,500 لیکچرزمنعقد کئے گئے۔ سید احمد حسین شاہ نے کہا مختلف کیڈر میں 140 ملازمین کی بھرتی کی گئی۔انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے “The Khyber Pakhtunkhw Reproductive Healthcare Rights Act 2020″کا قانون منظور کر لیا۔سید احمد حسین شاہ نے کہاکہ حفظان صحت، زندگی کے ہنر پر مبنی تعلیم اور پاکستان کی آبادی کے متعلق مضامین نصاب میں شامل کرنے کیلئے محکمہ اعلیٰ اورثانوی تعلیم کیساتھ پیش رفت جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ خاندانی منصوبہ بندی کے حوالے سے اگاہی دینے اور رائے عامہ ہموار بنانے کے لئے 200 مذہبی سکالرز/علماء /آئمہ/خطباء کو خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے حوالے سے جوڈیشنل اکیڈمی پشاور میں بطور ماسٹر ٹرینر تربیت دی گئی۔ ان ماسٹر ٹرینرز کے ذریعے مزید علماء، خطباء کی تربیت کا سلسلہ تمام اضلاع میں شروع کیا گیا ہے۔

سید احمد حسین شاہ کا کہنا تھا کہ کئی عالمی ادارے، غیر سرکاری تنظیمیں اور پرائیویٹ ادارے محکمہ بہبود آبادی خیبر پختونخوا کے ساتھ خاندانی منصوبہ بندی اور تولیدی صحت کے فروغ میں تعاون فراہم کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ182 ملین کی لاگت سے محکمہ بہبود آبادی نے موجودہ سہولیات و خدمات کو بہتر بنانے کیلئے مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کئے ہیں۔پاپولیشن پروگرام کو فروغ دینے کیلئے جدید تقاضوں پر مبنی منصوبہ جس میں SDGs, FP2020 اور صوبائی پاپولیشن پالیسی کے اہداف کا حصول کے لئے 291 ملین روپے،موجودہ خدماتی مراکز کو بہتر بنانے کا منصوبہ کے لئے 115 ملین روپے، 200 علماء کی بحیثیت ماسٹر ٹرینرز تربیت کے منصوبے کے لئے88 ملین روپے،نوجوانوں کی تولیدی صحت بہتر بنانے کیلئے 10 مراکز کا قیام کے لئے 94 ملین روپے،

ضلع کوھستان اپر اور کولائی پالس میں موبائل سروس یونٹس کے قیام کے لیے 19 ملین روپے، اور ضم شدہ اضلاع میں بہبود آبادی مراکز کو بہتر بنانے کے منصوبے کے لئے58 ملین روپے شامل ہیں۔معاون خصوصی بہبود آبادی نے کہا کہ صوبائی حکومت نے 858 ملین روپے کی لاگت سے 200 نئے فلاحی مراکز کا ایک نیا ترقیاتی منصوبہ حال ہی میں منظور کیا ہے۔ انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستان آبادی فنڈکے تحت وفاقی حکومت نے بڑھتی ہوئی آبادی کی روک تھام کیلئے2 ارب روپے مختص کئے ہیں۔سید احمد حسین شاہ نے کہا کہ پاکستان میں 37 فیصد بچے سٹنٹنگ کا شکار ہیں ایسے میں اگر اس طرف توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں تقریباً نصف آبادی پست قد آور ذہنی طور پر معذور افراد کی ہو گی۔ اس انتہائی گھمبیرصورتحال کو دیکھتے ہوئے حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت (پست قد) اور غذائی ضروریات کے حوالے سے پانچ سال سے کم عمر کے بچوں کے خاندانوں کیلئے غیر مشروط مالی معاونت شروع کی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


شیئر کریں: