Chitral Times

Jan 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔۔اتفاق رائے اور جر گہ۔۔۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

شیئر کریں:

دشمن کے کارندوں نے بلو چستان میں ایک اور حملہ کیا 11مزدور بے در دی سے قتل کئے گئے لیکن وطن عزیز کے سیا سی کھلا ڑی اس سفا کی سے بے خبر ہی رہے اور شا ید دشمن نے ملک کے سیا سی حا لات، پار لیما نی نظام کی کمزوری، سیا سی جما عتوں کی صفوں میں مو جو د افراتفری اور ملک کی مجمو عی سیا سی فضا میں انتشار کا فائدہ اٹھا نے کے لئے اپنے کا رندوں کو خصو صی ٹاسک دیا ہے ان کی ذمہ داری لگا ئی ہے کہ سیا سی افرا تفری سے خو ب فائدہ اٹھا یا جا ئے مو جو دہ سیا سی تعطل کی فضا ملک اور قوم کے لئے کس قدر نقصان دہ ہو سکتا ہے اس کا اندازہ ملک کے عوام کو بھی ہے ذرائع ابلا غ کو بھی ہے اگر کسی کو اس کا اندازہ نہیں تو وہ سیا ستدانوں کا طبقہ ہے ؎
پتہ پتہ بوٹا بوٹا حال ہمارا جا نے ہے
جا نے نہ جا نے گل ہی نہ جا نے باغ تو ساراجا نے ہے
افسوس نا ک صورت حا ل یہ ہے کہ حکومت اور اپو زیشن دونوں اس افراتفری کے برابر ذمہ دار ہیں کسی ایک فریق کو بری الذمہ قرار دینا مشکل ہے ”دونوں طرف ہے آگ بر ابر لگی ہوئی“ ہم سوئے ہیں مگر ہمارا دشمن جا گ رہا ہے مگر ہمیں اس کا احساس تک نہیں ؎
وائے نا کا می متاع کا رواں جا تا رہ ا
کارواں کے دل سے احساس زیاں جا تا رہا


مو جو دہ انتشار اور افراتفری کو ختم کرنے کے لئے جو اہم تجویز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ پا رلیمنٹ کو بطور جر گہ استعمال کر کے سیا سی مسائل کا حل ڈھونڈ لیا جائے اگر غور کیا جائے تو پارلیمنٹ کا کر دار ہی جر گہ والا ہے ملک کے اہم مسائل پا رلیمنٹ میں زیر بحث آتے ہیں پڑو سی ملک افغا نستان میں آئین سازی بھی جر گہ کے ذریعے ہو تی ہے لویہ جر گہ کے اراکین ملک کے آئین کی منظوری دیتے ہیں اس وقت پا کستان میں جو حا لا ت ہیں وہ حزب اختلا ف کا احتساب کرنے کے گرد گھو متے ہیں حکومت کہتی ہے کہ حزب اختلا ف کے چیدہ اراکین کا احتساب کرنے کے لئے ان کو جیلوں میں ڈالا جا نا ضروری ہے حزب اختلا ف کہتی ہے کہ حکومت سیا سی انتقام لے رہی ہے اس لئے حکومت کو مستغفی ہو کر نئے انتخا بات کا اعلا ن کرنا چاہئیے دونوں گروہ اپنی بات پر بضد ہیں درمیا نہ راستہ نکا لنے کے لئے کوئی تیا ر نہیں احتساب کا ذکر ہو تا ہے تو بات دور تک جا تی ہے اور اس کے ڈانڈے عدا لتوں سے جا ملتے ہیں کسی شاعر کا مصرعہ ”بات چل نکلی ہے دیکھیے کہاں تک پہنچے“ درمیان میں نیب کا ذکر آئے تو سب لو گ اپنے کا نوں کو ہاتھ لگا تے ہیں اور کسی ویرانے کا مشہور واقعہ سنا تے ہیں کہتے ہیں کسی ویرانے سے طوطا اپنی بیوی یعنی طوطی کو لیکر گزر رہا تھا طوطی نے کہا کتنا بڑا ویرانہ ہے یہاں اُلّو کا بسیرا ہو گا طوطے نے کہا اُلو ہی نے اس کو ویرانہ بنا دیا ہو گا اتنے میں الو کا وہاں سے گذر ہوا الو نے دونوں کی دعوت دی د عوت کے بعد دونوں جا نے لگے تو الونے طوطی کو جا نے سے منع کیا اُس نے کہا تم میری بیوی ہو طوطے کے ساتھ کہاں جا رہے ہو،

طوطے نے کہا یہ میری بیوی ہے جھگڑے کو حل کرنے کے لئے وہ قاضی کی عدالت میں گئے قاضی نے فیصلہ دیا کہ طوطی الو کی بیوی ہے جب روانہ ہونے لگے تو الو نے طوطے سے کہا اپنی بیوی لے جاؤ، طوطا بولا قاضی نے تمہارے حق میں فیصلہ دیا ہے الو بولا بیوی تمہاری ہے میں تمہیں یہ دکھا رہا تھا کہ بستیاں الو کی وجہ سے ویراں نہیں ہوتیں قاضی کے غلط فیصلوں کی وجہ سے ویراں ہوتی ہیں اگر حزب اقتدار اورحزب اختلا ف کو ایک میز پر بٹھا نا ہو ا تو وہ میز جیل میں لگانی پڑے گی گرینڈ نیشنل ڈا ئیلاگ یا وسیع تر قو می مکا لمے کی تجویز دینے والے محمد علی درانی کو پتہ ہے کہ حکومت اور حزب اختلا ف کے درمیاں مذاکرات کے لئے پارلیمنٹ کو جر گہ تسلیم کر لیا جائے تو مذاکرات کا راستہ مل سکتا ہے ورنہ دونوں فریق ایک دوسرے کو دیوار سے لگا نے کی کوشش میں ملک اور قوم کے دشمن کو سازشوں کا مو قع دینگے دشمن کی نظر صرف بلو چستان پر نہیں وہ سندھ اور جنو بی پنجا ب کو بھی نشا نہ بنا سکتا ہے خیبر پختونخوا کو بھی نشا نہ بنا سکتا ہے حب الوطنی کا تقا ضا یہ ہے کہ سیا سی کھیل کے دونوں فریق پا رلیمنٹ کو جر گہ تسلیم کر کے اتفاق رائے کی راہ ہموار کریں ورنہ دونوں فریقوں کو پچھتا نا پڑے گا۔


شیئر کریں: