Chitral Times

Jan 25, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سستی بجلی کی پیداوار کیلئے صوبے میں 800میگا واٹ کے منصوبے شروع کئے ہیں۔مشیرتوانائی

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر پختونخوا حکومت نے توانائی کے شعبے میں گزشتہ 2سالوں کے دوران انقلابی اقدامات اٹھائے ہیں سستی بجلی کی پیداوار کیلئے 800میگا واٹ کے منصوبے شروع کئے گئے ہیں جن کی تکمیل سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی آمدن ہوگی۔ صوبائی حکومت نے پہلی مرتبہ صنعتی شعبے کی ترقی کیلئے ویلنگ ماڈل متعارف کرایا ہے جسکے ذریعے صنعتی شعبے کو15روپے فی یونٹ بجلی اب تقریبا ساڑھے 4روپے فی یونٹ میں مل رہی ہے۔ویلنگ ماڈل فیز 1کی کامیابی کے بعد جلد ہی148میگا واٹ کی مزید بجلی صنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر فروخت کی جائے گی۔جس سے ایک طرف صوبے کی انڈسٹریز ترقی کریں گی۔تو دوسری طرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہونے کیساتھ ساتھ سالانہ اربوں روپے کی آمدن ہوگی۔صوبائی حکومت نے این ٹی ڈی سی کے اجارہ دار رویے کی وجہ سے صوبے میں بجلی کے نظام کی ترسیل کیلئے پہلی بار اپنی خیبر پختونخوا ٹرانسمیشن اینڈ گرڈ کمپنی کا قیام عمل لایا ہے۔ جس کے ذریعے صنعتی شعبے کو بلا تعطل بجلی کی ترسیل ممکن ہو سکے گی۔

محکمہ توانائی و برقیات کے استعداد کار بڑھانے کیلئے اپنے ضلعی اداروں پختونخوا انرجی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (پیڈو) اور خیبر پختونخوا آئل اینڈ گیس کمپنی میں اصلاحات لاتے ہوئے ری سٹرکچرنگ کی گئی ہے جبکہ ایل پی جی مارکیٹنگ اور الیکٹرک انسپکڑیٹ کی کارکردگی کو بھی بہتر بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے گئے ہیں۔صوبے کے حقوق کے حصول کیلئے پن بجلی منافع کی مد میں وفاق کے ذمے اربوں روپے بقایا جات کی وصولی پر اتفاق کیا گیا ہے۔ وفاقی اداروں ایس این جی پی ایل، پی پی آئی بی، نیپرا سمیت 9اداروں میں پہلی مرتبہ صوبے کی نمائندگی ممکن بنائی گئی ہے۔ قبائلی اضلاع خصوصاً تیل اور گیس کی پیداورا والے اضلاع میں ترقیاتی عمل شروع کیا گیا ہے۔ کوہاٹ ایریا ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت کوہاٹ کرک اور ہنگو میں اربوں روپے کے منصوبے شروع کئے جارہے ہیں۔ان خیالات کا اظہاروزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے توانائی و برقیات حمایت اللہ خان نے معاون خصوصی کامران بنگش کے ہمراہ محکمہ توانائی و برقیات کی گزشتہ دو سالوں کی کارکردگی کے حوالے سے منعقدہ میڈیا بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس موقع پر سیکرٹری توانائی محمد زبیر خان، چیف ایگزیکٹیو آفیسر پیڈو انجنیئر نعیم خان، چیف ایگزیکٹیو کے پی او جی سی ایل عثمان غنی خٹک ایڈیشنل سیکرٹریز ظفر الاسلام خٹک، افتخار علی مروت اور محکمہ کے دوسرے افسران نے بھی شرکت کی۔

مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے بتایا کہ18میگا واٹ پیہور پن بجلی گھر سے ویلنگ ماڈل کے ذریعے صنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر بجلی کی فروخت کے بعد اب جلد ہی ملاکنڈ تھری، درالخوڑ، کروڑہ، جبوڑی اور مچئی بجلی گھروں سے 148میگا واٹ پیدا ہونے والی بجلی کی بھی صنعتی شعبے کو جلد فروخت شروع کر دی جائے گی۔ جس کے لئے 66صنعتی یونٹس نے دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ صوبے کے حقوق کیلئے ہم نے ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہے۔ آئین کے آرٹیکل 162کے تحت پن بجلی منافع کی مد میں وفاق کے ذمے اربوں روپے کے بقا یا جات کے حصول کیلئے اے جی این قاضی فارمولے پر اتفاق کیا گیا ہے۔ اور جلد ہی ادائیگیوں کا طریقہ کار بھی طے کر لیا جائے گا۔حمایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دس سالوں سے مکمل ہونے والی بجلی کے منصوبوں سے پیدا ہونے والی بجلی کی فروخت کیلئے وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ محمود خان کی ذاتی دلچسپی سے بجلی کی فروخت کے معاہدے طے پا گئے ہیں۔ جن سے صوبے کو سالانہ اڑھائی ارب روپے کی آمدن ہو رہی ہے۔اور امید کی جا رہی ہے کہ وفاق کے ذمے 524ارب روپے کے بقایا جات جلد ہی صوبے کو مل جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت جلد ہی ایشیائی ترقیاتی بینک کے تعاون سے رواں سال صوبے کے سب سے بڑے تین سو میگا واٹ کے بالاکوٹ منصوبے پر کام شروع کر رہی ہے۔ جس کی تکمیل سے صوبے کو سالانہ اربوں روپے کی آمد ن ہوگی۔ حمایت اللہ خان کا کہنا تھا کہ4400 مساجد8000سکولوں اور187بنیادی مراکز صحت کو شمسی توانائی کے نظام پر منتقلی کے منصوبوں پربھی کام تیزی سے جاری ہے۔عالمی بینک کے مالی تعاون سے 245میگا واٹ کے دو منصوبوں 88میگا واٹ گبرال کالام اور157میگا واٹ مدین پاور پراجیکٹ پر بھی تعمیراتی کام جلد شروع ہونے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کورین حکومت کیساتھ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے موڈ کے تحت پہلی مرتبہ لوئیر سپاٹ گاہ 496میگا واٹ کا منصوبہ بھی شروع کیا جائے گا۔ تیل و گیس کے پیداواری اضلاع کیلئے 15ارب روپے کا ترقیاتی منصوبہ کوہاٹ ایریا ڈویلپمنٹ پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔

اس وقت صوبے میں تیل و گیس کی وسیع دخائر موجو د ہے صوبائی حکومت نے کے پی او جی سی ایل کے نام سے تیل و گیس کی پیداوار کیلئے کمپنی 2014سے قائم کی ہے۔ جو اس وقت تیل و گیس کی تلاش کیلئے متعدد بلاکس پر کام کر رہی ہے۔ اس وقت صوبے میں 27 بلاکس موجود ہیں اور صوبے میں 500ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا ہو رہی ہے۔ آئندہ چار سالوں میں صوبہ خیبر پختونخوا تیل و گیس اور بجلی سے اربوں روپے کی آمدن حاصل کرنے والا صوبہ بن جائے گا۔بریفنگ کے دوران صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی منصوبے کی تکمیل میں سست روی یا کسی بھی قسم کی کرپشن کا عنصر نا قابل برداشت ہے جو بھی آفیسر یا اہلکار ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔


شیئر کریں: