Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پشاور ہائی کورٹ نے چترال کے فنڈ ز صوبے سے وفاق کو واپس کرنے پر پابندی لگادی۔چترالی

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)ممبر قومی اسمبلی مولانا عبد الاکبر چترالی نے پشاور پریس کلب میں ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے چترال کے دونوں اضلاع کو SAP پروگرام میں فیڈرل حکومت کی جانب سے محروم رکھنے کے خلاف سٹے آڈر جاری کر دیا۔ رٹ پٹیشن کی سماعت مسٹر جسٹس اعجاز انور نے کی جبکہ رٹ پٹشنر مولانا عبدالاکبر چترالی کی طرف سے (ر) جسٹس ملک غلام محی الدین ایڈوکیٹ نے پیروی کی۔ فاضل عدالت نے کیس کے فیصلے تک ضلع چترال کے دونوں ضلعوں کے فنڈ ز سالانہ مبلغ پندرہ کروڑ روپے دیگر حلقوں میں استعمال کرنے اور صوبے سے وفاق کو واپس کرنے پر پابندی لگادی۔اسی طرح فاضل عدالت نے 20 جنوری 2021؁ء کو وفاق سے جواب طلب کر لیا۔ واضح رہے کہ وفاقی ترقیاتی فنڈز سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ اچیومنٹ گول پروگرام میں چترال کے دونوں پسماندہ ضلعوں کو ترقیاتی فنڈ سے تیسری بار محروم رکھنے پر مولانا عبدالاکبر چترالی MNAکی طرف سے (ر) جسٹس ملک غلام محی الدین ایڈوکیٹ نے رٹ پٹیشن پشاور ہائی کورٹ میں دائیر کردی تھی۔جس کی سماعت آج 5 جنوری 2021؁ء کو ہوئی۔

رٹ پٹیشن میں کیبنٹ ڈویژن اسلام آباد۔ چئیرمین اسٹیرنگ کمیٹی پرویز خٹک سیکرٹری اسٹیرنگ کمیٹی ملک عامر ڈوگر، ایڈیشنل چیف سیکر ٹری خیبر پختونخوا اور ڈائیریکٹر جنرل سسٹینیبل ڈیویلپمنٹ اچیومنٹ گول پروگرام خیبر پختونخواکو فریق بنایا گیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں مولانا چترالی نے کہا کہ اس سے پہلے 2 قسطیں جاری ہو چکی ہیں مجموعی طور پر خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں کو 16 ارب 65 کروڑ روپے ریلیز ہو چکے ہیں انہوں نے کہا کہ تقسیم کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں البتہ پرویز خٹک کے فون پر 36 حلقوں کو فنڈز دیے گئے ہیں جبکہ مجھے پارٹی تبدیل کرنے یا حکومت کی حمایت کرنے اور بالخصوص ایف اے ٹی ایف بل میں حمایت کرنے کا کہا گیا نہ ماننے کی وجہ سے میرے حلقہ نیابت کے دونوں اضلاع کو یکسر محروم رکھا گیا ہے۔انہوں نے پشاور ھائی کورٹ کا شکریہ ادا کیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ عدالت ہی مجھے انصاف فراھم کرے گی۔


شیئر کریں: