Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آگ کی بددعا اور نیرو کا سکون ۔۔! ….. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

روم جل رہا تھا اور لے پالک بد نام زمانہ حکمراں بانسری بجا رہا تھا، نیرو نے پہلے اپنی ماں ’ایگریپینا دی ینگر“پھر اپنی دونوں بیویوں کو قتل کیا اور اپنی مجنونانہ اشتعال انگیز طبعیت کی غلامی میں نئے شہر بسانے کے لئے’گریٹ فائر آف روم‘کی منصوبہ بندی کی، نیرو خوش تھا کہ وہ ”نیا روم“ بنائے گا، اس کی کج ذہنی یہیں تک محدود نہیں تھی بلکہ اس نے کئی شہروں کو آگ میں جھونکنے کے الزام میں شدید تشدد کے بعد روم کے بچ جانے والے شہریوں کو بھی مقدمات چلا کر مروا دیا،لیکن اُسے سکون و خوشی پھر بھی نصیب نہیں ہوئی اور بالاآخر نیرو نے خود کشی کرلی۔ نیرو کا روم آج بھی ہر سال نو پر جلتا ہے۔  نئے سال کی تقریب میں اہل روم نے وہی کچھ دوبارہ کیا جو ہر برس کرتے ہیں،2021کے جشن انسانی میں آتش بازی سے سیکڑوں پرندے جل مرے۔ مئیر روم کا کہنا تھا کہ عوام نے پابندی پر عمل نہیں کیا۔ انسانوں کی خوشی پر نذرِ آتش ہوکر قرباں ہونے والے سیکڑوں پرندوں کو سڑکوں پر مرے پڑے دیکھا،تو محسوس ہوا نیرو آج بھی زندہ ہے۔
 اسلام آباد میں ایک شہری کو پولیس اہلکاروں نے مبینہ پولیس مقابلے میں گولیاں ماردیں، قابل مذمت، شرم ناک و افسوس ناک سانحہ ہے جس نے بھی احساس کیا، وہ خون کے آنسو رویا۔ سیاسی جماعتوں کے سربراہان نے سخت تشویش کا اظہار کیا تو سوشل میڈیا میں تو سونامی آیا ہوا تھا۔ جذبات میں جو جو کچھ لکھا گیا، غم و غصے کا جتنا اظہار ہوا، وہ کم لگ رہا تھا۔ شدت جذبات میں اہل علم بھی وہ وہ کچھ کھل کر کہہ گئے جو اس سے قبل دبے دبے لفظوں میں کہتے رہے تھے۔ سانحہ کو ساہوال، ماڈل ٹاؤن، نقیب اللہ محسود سمیت ان گنت واقعات سے تشبہہ دی گئی۔ سری نگر سے مماثلت کا ایک اور ٹرینڈ ریاست مخالف رویئے کی ضد میں چلایا گیا۔ غرض کہ جو جیسا کہہ سکتا تھا اس نے کہا، جو لکھ سکتا تھا، اُس نے لکھا۔


جب بھی روم کے نیرو کو پڑھتا ہوں تو کراچی کے وہ معصوم بے گناہ شہری یاد آجاتے جو سینکڑوں کی تعداد میں لسانیت کی سیاسی آگ میں مارے گئے،منی پاکستان جل رہا تھا، لیکن نیرو سب ٹھیک ہے کہ بانسری بجا رہا تھا، سوات، شمالی و جنوبی وزیرستان سمیت قبائلی علاقے و ملاکنڈ ڈویژن سمیت خیبر پختونخوا مکمل انتہا پسندی کے ہاتھوں جل رہے تھے، لیکن نیرو بانسری بجاتا رہا۔ بلوچستان ابھی تک جل رہا ہے، مچھ کے علاقے گشتری میں کان کنی کے محنت کشوں کو لسانی شناخت کے بعد پہاڑی علاقے میں مار دیا گیا، لیکن نیرو اب بھی سب ٹھیک ہے کہ بانسری بجا رہا ہے۔ ریاستی اداروں نے مختلف آپریشن کرکے دہشت گردی کے خلاف موثر اقدامات کئے، کراچی کو لسانی دہشت گردوں سے بچایا تو شمال مغربی سرحدوں کے رہنے والوں کو قوم پرستی و مذہب کے نام پر مزید جلنے سے بچایا۔ بلوچستان میں پہاڑوں پر جانے والوں کو واپس بلانے و معاف کرنے کی دعوت دی گئی، لیکن جلتی آگ کی چنگاری اب بھی بھڑک رہی ہے، یہ آگ ابھی بجھی نہیں۔
سیاسی جماعتوں (حکمراں و حزب اختلاف) کے درمیان دنگل ہے، کوئی ایسے سرکس کہتا ہے تو کوئی ایسے جمہوری حق، لیکن سب کے ہاتھ ایک دوسرے کے گریبان چاک کررہے ہیں۔ عوام مہنگائی، بے روزگاری، عدم تحفظ اور بے یقینی کے فضا میں جل رہے ہیں لیکن نیرو بانسری بجائے جا رہا ہے۔ جس سمت نظر آٹھائیں تو نیرو کو بانسری بجاتے و وطن عزیز کو جلتے دیکھیں گے۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ نیرو عوام سے بھی ہیں، کیونکہ شارٹ ٹرم میموری کی بیماری کا شکار ہیں،جو آئے روز اندوہناک واقعات کو دیکھتے ہیں، لال لال لہرائے گا، کا نعرہ بھی لگاتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں، پھر کچھ ہوتا ہے، پھر اٹھتے ہیں، پھر بھول جاتے ہیں، انہوں نے جسے اپنا رہبر بنایا، اُسی نے دستانے پہنے بغیر لہو بہایا، کمین گاہ سے نکلے، اپنوں کے تیر سے زخمی ہونے والوں نے، اپنے جسم سے تیر تو نکالا لیکن اُس کمان کو نہیں توڑا جو آج بھی تیر پر تیر برسا رہا ہے۔


کرک میں ویران مندر کو جلا کر نہ جانے کیا پیغام دیا گیا، تین مرلے کاویران مندر ہو، یااسلام آباد میں اقلیتوں کے لئے نئی پرستش گاہوں کی تعمیر کا معاملہ، مخصوص عناصر اسلام کے عالمگیر انسانیت کے تصور کو مسخ کرانے کے لئے تن من دھن کی بازی لگا دیتے ہیں۔حالاں کہ اسلام کا تو آفاقی حکم ہے کہ کسی کے جھوٹے خدا کو گالی تک نہ دو۔ اسلام کے بعض نام لیوا شاید قرآن میں دیئے گئے احکامات نہیں جانتے، ورنہ وہ سمجھ جاتے کہ امن و سلامتی کے نام پر عالمگیر انسانیت کا دین اسلام ہمیں تمام مذاہب کا احترام سکھاتا ہے، لیکن چنگاری کو نہ بجھانے کی وجہ سے ہر سطح پر وطن عزیز کے خلاف سازشوں کا جال بُنا جارہا ہے اور نیرو اب بھی سکون سے بانسری بجا رہا ہے۔


ابوقلابہ سے مروی ہے کہ”میں نے شام کے بازار میں ایک آدمی کی آواز سنی جو ”آگ آگ“ چیخ رہا تھا۔ میں قریب گیا تو میں نے دیکھا کہ اس کے دونوں ہاتھ اور دونوں پیر کٹے ہوئے ہیں اور دونوں آنکھیں نہیں ہیں‘ منہ کے بل زمین پر پڑا گھسٹ رہا ہے اور ”آگ آگ“ چیخ رہا ہے۔ میں نے اس سے حال دریافت کیا تو اس نے کہا کہ ”میں ان لوگوں میں سے ہوں جو عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر میں گھسے تھے‘ جب میں ان کے قریب گیا تو ان کی اہلیہ چیخنے لگیں‘ میں نے اُن کے منہ پر طمانچہ مارا۔حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا ”تجھے کیا ہو گیا ہے‘ عورت پر ناحق ہاتھ اٹھاتا ہے۔ تیرے ہاتھ پاؤں کاٹے‘  تیری دونوں آنکھوں کو اندھا کرے اور تجھے آگ میں ڈالے!“ مجھے بہت خوف معلوم ہوا اور میں نکل بھاگا۔ اب میری یہ حالت ہے جو تم دیکھ رہے ہو‘ صرف آگ کی بددعا باقی رہ گئی ہے“۔ ضرور ی ہے کہ اب بھی وقت ہے کہ اپنا قبلہ درست کرلیا جائے۔ وگر کسی قوم کو نافرمانیوں پر اتنی مہلت نہیں ملا کرتی۔ یاد رکھیں کہ نیرو کی لگائی ہوئی آگ نے اُسے سکون نہیں دیا۔ وطن عزیز کو آگ میں جھونکنے والوں کو بھی قبر میں بھی سکون نہیں ملے گا۔ آگ کی بددعا سے بھی ڈریں کیونکہ یہی ہم سب کے حق میں بہتر ہے۔


شیئر کریں: