Chitral Times

Jan 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افضل اللہ افضل ؔکا انٹرویو۔۔(پہلی نشست) …تحریر: مبشر علی مبشر

شیئر کریں:

    قدیم زمانے  کے یونانی  سائنسدانوں  کے بارے میں  ایک کہاوت ہے‘جن سائنسدانوں   نے  سائنس کو  سمجھ لیا  وہ خدا  کے ہونے سے انکار کرگئے تھیں لیکن جنہوں نے سائنس کو مکمل طور پر  سمجھ لیا  وہ خدا  پر  ایمان لے آئے تھیں۔  آج اگر ہم  ادب کو   اس  زمرے  میں لیں  تو  لکیر عرض یہ کرتی ہے‘ جن ادیبوں نے ادب کو جانا وہ  اپنے سے بہترلکھاریوں کے رنگوں میں ہوکر صرف اپنے نام کرگئے لیکن جن ادیبوں نے  ادب کو  ایک نئی جہت بخشی وہ  اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئیں۔

    ہمارے افضل اللہ افضل ؔ صاحب بھی کھوا ر  ادب کی کائنات کا ایک ایسا  روشن  ستارہ ہیں جس نے اپنی  شاعری سے  اپنی ایک الگ کامیاب  پہچان بنائی ہے۔   افضل  ؔ صاحب  کی  شاعری میں  انکار  کی لے  ہمہ تن رقص کرتی ہے مگر  انسان اور حضرتِ انسان  دونوں  کے جذبات کی نمائندگی  بھی ملتی ہے‘  ا ن کی شاعری میں اگر چہ حسا سیت  سر بہ سر ہے تو ان کی  رہنمائی بھی برابر ہے۔

    چترال کی فضاؤں  میں  افضل ا للہ افضل ؔ  کو کھو ار  ادب  کا  ساغر  صدیقی ؔ  ماناجاتا ہیں۔  اس کی ایک وجہ میرے نزدیک  ذرِمعاش کے  خاطر  ان کا    مختلف  پیشے اپنائے جانا‘  جہاں  ہر بار مزاج کی نزاکت  او ر  لفظِ ذندگی ایک دوسرے سے ٹکڑاتی رہی‘ دوسری طرف  ادبی بیٹھک سے دوری اور چڑھتے سورج کے مانند شوقِ تنہاہی۔۔۔ جس کی وجہ سے  انہیں  ساغر صدیقی  ؔ کاخطاب دیا گیا‘ لیکن  حقیقت میں  افضل ؔ صاحب   ساغر  صدیقیؔ  نہیں ہیں۔  ساغر  صدیقیؔ بہت بڑے شاعر تھیں لیکن  افضل اللہ افضل ؔ  بھی بہت بڑا شاعر  ہیں۔  افضل ؔ صاحب بھی غالب ؔ کے مصدق  اپنے نام کی طرح افضل ہیں‘  کہ  ہم  دورِ حاضر میں یا آنے والے وقت میں دوسرے شعرا کو  افضل للہ افضل    ؔ کہہ سکتے ہیں لیکن خود افضلؔ  کو کسی  ایک شاعر کی  رنگ میں  نہیں سمو سکتے۔

    میں کچھ عرصہ  پہلے جناب افضل اللہ افضل ؔ  صاحب کا  انٹرویو کرنے  ان سے ملنے چلا گیا‘  درمیاں میں جمعے کی نماز کا وقت آگیا‘  وہ  اُٹھے ‘  مجھ سے ہاتھ ملائے اور  نماز پڑھنے چلے گئے۔

  آپ اُن کا انٹرویو  ملا حظہ کیجئے۔

س:  اپنے بچپن کی ذندگی کو آپ کس طرح سمیٹیں گے؟

ج:   میری پیدائش۱۹۵۲  میں  چترال کے  ژانگ بازار میں  ہوئی‘ میرے آباؤاجداد یہاں سات پشتوں سے آباد ہیں۔  سکول کے ساتھ میرا تعلق صرف ۸ سال تک رہا‘ ابھی ساتویں جماعت میں ہی تھا کہ والد صاحب جہان ِفا نی سے کوچ کر گئیں اور دنیاوی تعلیم سے میں نے کوچ کرلی۔  اور جہاں تک بچپن کی یادوں کا تعلق ہیں۔۔۔ تو میرے ذہن میں وہ کسی بلیک اینڈ وائیٹ فلم کی طرح پیوست ہیں۔۔کچھ چیزیں مجھے پوری طرح یاد ہیں اور کچھ ذرا بھی نہیں۔!   مثلاً،مجھے اچھی طرح یاد ہے  کہ میں بچپن ہی سے کافی کم گو تھا‘ لیکن  یار واحباب کہتے ہیں کہ تم وہ شراراتی افضل نہیں رہے جو بچپن میں ہوا کرتے تھے‘ پر مجھے آج تک سمجھ نہیں آئی کہ کو نسا افضل رہا اور کونسا نہیں۔

س:   دیوانگی۔۔۔ شاعری ۔۔عشق‘ یہ جوڑ کیسے  استوار ہوا تھا؟

ج:   ریڈیو اور ٹیپ ریکارڈر پر میں  ہمیشہ گانے ہی سنتا تھا۔۔بس یو نہی گانے سنتے سنتے اور  خود کو شغر کے کسی بند میں سمولینے کی اپنی سی کو شش نے مجھے شاعری سے آشکار کرادیا۔  سو  شاعری کے ساتھ میرا تعلق سننے سے پیدا ہوا تھا۔  گھر کے بڑے اکثر مجھ سے کہا کرتے تھیں‘ٹیپ ریکاڈر جب  بھی گم  ہوتا  تو اس کا واحد پتہ تمھارا سرہانہ ہوتا۔  پہلے پہل سننے  کے اس سارے عمل میں  خود مجھے کبھی  لکھنے کی آرزو  نہیں ہوئی‘لیکن پھر ایک دن  اک  غزل سنتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہوا‘ فنکار کی زبان سے نکلی غزل کے شغر  اس  محفل کی قیادت نہیں کررہے  بلکہ پورے  منصوبے کے ساتھ  میرے دل پر پیوست ہو رہے ہیں۔۔۔ دوسرے ہی لمحے میں نے وہ ساری غزل ایک ورق پر اُتاردی‘ نجانے پھر کتنے گھنٹوں تک اُس ورق کو ہاتھوں میں تھامے رکھا۔  اُس شاعر کی دوسری درجنوں غزلوں کے ساتھ بھی میں نے یہ ہی کچھ کیا۔۔ ورق در ورق منتقل کرتا رہا‘اُن کے اندر چھپے درد، تشنگی،عشق وا محبت کو ڈھونڈنے کی ایک ناکام کوشش کرتا رہا اور جتنی بار کوشش کی ہر بار ایک نئی داستان  بنتی  گئی۔  میں حیراں ہوگیاکہ ا للہ تعالیٰ  نے اس شخص کو کیسا علم اور کیسی طاقت عطا کی ہے کہ وہ خیال کی کسی کائنات میں ملے ہو ئے چند خیالوں کو لفظوں کی چادر یوں پہناتا ہے کہ جیسے وہ لفظ بنے  ہی ان کے لئے ہو۔!!!  اُس عظیم ہستی کا نام امیر گل امیرؔ  تھا‘میرا پہلا استاد  اور وہ انسان جن سے میں پوری زندگی متاثر رہا۔ 

    امیر گل امیرؔ صاحب ایک ہرفنِ مولا انسان تھے‘شاعر بھی تھے‘ گلوکار بھی اور”کمپوزر“ بھی۔۔العرض ا نہوں نے ادب کے جس فن کو بھی چھوا کمال کردیا۔  اُن کی شاعری خالصتاً ہوتی تھی‘ نہ اُردو کے ا لفط استعمال کرتے تھے  نہ فارسی اور  نہ پشتو‘سارے الفاظ ان کے کھوار ہی کے تھیں۔۔بس اپنے آپ میں وہ سرتاپا  ایک خالص شخصیت تھی۔

    میں اُن کی شاعری سے اس قدر متاثر ہو ا کہ دوسرے ہی دن اُن کے گھر کی راہ اختیار کی‘ کچھ مہینے بعد دوستوں کو بھی جوُ کیا‘  پھر ہفتے میں تقریباً ایک بار امیر گل صاحب کے ساتھ نشست  ہوتی تھی اور  یہ سلسلہ ان کی  رحلت تک جاری رہا۔  اس نشست اور امیر گل امیرؔ صاحب کی صحبت کا مجھ پر یہ اثر ہوا۔۔کہ زندگی میں پہلی بار میں نے بھی کاغذ سیاہ کیا۔

    میں روزگار کے سلسلے میں شاہ بحران محلہ پشاور میں رہتا تھا‘ غالباً  یہ  ۱۹۸۲  کا دور تھا‘وہاں ہونہی کسی دن میں نے ایک ورق اور قلم اُٹھائی اور زندگی میں اپنا پہلا مصرع  تحریر  کیا۔!!  میری نہ پختگی اس قدر تھی کہ مجھے سمجھ نہیں آئی کہ آیا یہ غزل ہے نظم ہے یا نثر‘ وہ پہلا  مصرع کچھ  یوں تھا۔۔

             ” فلک  تہ  گُرزین  دیوانان قا فَس

             قافَسی   اسوم    مستانہ        بیتی “

    یہ ایک مصرعہ لے کے پھر میں مبارک ؔ صاحب کے پاس چلا گیا‘ (مبارک خان مبارکؔ ایک نامو ر نظم نگار تھے) اُن سے پوچھنے کہ یہ  مصرع  ادب کے کس زمرے میں آتا ہے‘لیکن وہ بھی میری طرح یک طرفہ کچھ کہنے سے قاصر رہے۔

    اس کے بعد لکھنے کی راویش چل پڑی‘ ۱۹۹۳ میں انجمن ترقیِ ِکھوار میں باقاعدہ  شمولیت اختیار کی اور پھراس کی ذیرِنگرانی محفلوں میں باقا عدگی سے اپنی غزلیں کہتا رہا اور اب بھی کہتا ہوں۔

س:  آپ کی محبت کا مرکز کیا تھا؟

ج:  محبت صرف محبت ہے جو اس کا مرکز ہے‘وہ شاعری ہے اور جس چیز سے آپ کو محبت ہوجائے وہ آپ کا عشق ہیں‘عشق کسی بھی چیز سے ہوسکتا ہے بلکل اسی طرح جس طرح  حسن  کسی بھی روپ میں تم پر وارد ہو سکتا ہے۔۔۔  یہ دونوں وقت اور حالات سے مبرہ ہیں۔  جہاں تلک میری شاعری کا مرکز ہے تو وہ ہمیشہ حسن رہا ہے اور یہ  حسن بھی حسن کی طرح تبدیلی  کا  عادی ہے۔۔میرا سب سے پہلا مرکزبھی حسن تھا‘ مجھے اُس وقت کسی سے محبت نہیں ہوئی تھی۔ (جاری ہے۔        


شیئر کریں: