Chitral Times

Jan 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

فطرت کا استحصال (حصّہ اول)…. تحریر: افضل ولی بدخشؔ

شیئر کریں:

’’کیا تہذیب  نے انسان کو پسماندہ بنایا ہے؟‘‘  یہ وہ موضوع تھا جس پر فرانس کی ایک اکیڈمی نے مضمون نویسی کا انعقاد  کیا تھا اور جس میں فرانس کے مایہ ناز  فلاسفر جین جیک  روسو (1718۔1712)  نے حصّہ لیا اور پہلا انعام جیتا۔ اس وقت وہ  کوئی مشہور  فلاسفر نہیں تھا بلکہ ایک گمنام شخص تھا۔اپنے اس مضمون کی وجہ سے وہ شہرت کی پہلی سیڑھی پر   جو قدم رکھا   ، کامیابیاں اور کامرانیاں  ساری عمر اس کے قدم چھومتی رہیں۔  روسو نے اپنے مضمون میں جس نقطہ نظر کو اختیا ر کیا وہ یہ تھا کہ انسان کی تاریخ میں ابتدائی دَور کہ جس کو شکار اور غذا جمع کرنے کا دور کہا جاتا ہے، اس وقت وہ فطرت سے قریب تھا، اس کی فطرت سے ہم آہنگی تھی،محبت تھی اور دوستی تھی۔ اس عہد میں نہ تو نجی جائیداد کا سوال تھا اور نہ ہی اس کی وجہ سے لوگوں میں نفرت و عداوت اور دشمنی تھی۔ لیکن انسان اور فطرت کے درمیان جیسے جیسے فاصلے بڑھتے چلے گئے اس کے ذہن ، عادات اور رویوں میں تبدیلی آتی چلی گئی۔ تاریخ میں جس عمل کو تہذیب کہا جاتا ہے اس نے آہستہ آہستہ انسان اور فطرت میں دوری پیدا  کرکے ان کو مدمقابل بنا دیا۔   

اگر روسو کی دلیل کو صحیح تسلیم کر لیا جائے اور تہذیب کا تجزیہ کیا جائے تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ تہذیب کے ارتقاء کے ساتھ کس طرح سے انسانی سماج میں تبدیلیاں آئیں۔ ابتدائی دور میں انسانوں کے درمیاں کوئی تفریق نہیں تھی، عورتوں اور مردوں کے درمیاں  فرق نہیں تھا مگر تہذیب کے ارتقاء کے ساتھ ریاست کا ادارہ وجود میں آیا۔  اس میں جنگ جُو طبقہ نے طاقت و اقتدار کے حصول کے بعد اپنی مراعاتی حیثیت کو قائم کر لیا۔ مذہبی طبقہ نے روحانی اجارہ داری کے نام پر لوگوں کے دل و دماغ پر حکومت کرنی شروع کر دی۔ دونوں طبقات اپنے عہدوں کا استعمال کرکے   مساوات اور انصاف کی  ایسی دھجیاں اڑا دیں کہ اس دن سے آج تک فطرت اور عورت دونوں سماج کے پست ترین طبقوں میں چلےگئے۔ یوں فطرت اور عورت  اس تہذیب  کے بھینٹ چڑھ گئیں۔   اس تہذیب نے  فطرت پر قابو پانے کے بعد عورت  پر بھی  حق جما لیا  اور اسے بھی  مَردوں کی  ملکیت  میں دے دیااور یوں سماج کی ایک آزاد آبادی  آج تک مختلف حیلوں اور بہانوں سے استحصال کا شکار ہے۔  فطرت اور عورت مساوات اور انصاف کے لئے اتنا ترستی ہیں کہ ہر انقلاب جو مساوات کا نعرہ لگاتا ہے تو وہ ان دونوں میں ایک نئی امید اور نئی زندگی کو پیدا کرتا ہے۔

استحصال کی کہانی یہاں پر ختم نہیں ہوتی ۔اسی تہذیب نے  فطری ذرائع کا جس  طرح استحصال کیا گیا وہ ان سے بھی درد ناک ہے۔     اسے Philip Sherrard نے اپنی کتاب  The Rape of Man and Nature میں فطرت کیساتھ غیر اخلاقی، غیر قانونی (جو فطرت کے قوانین کے منافی ہیں) اور ناجائز تعلقات قرار دیا ہے۔  ان کے مطابق طاقت اور اقتدار کے ہوس میں فطرت کے ذرائع کا بے دریغ استعمال کیا گیا۔ معدنیات کی کانوں سے تانبا ، پیتل، لوہا، اور دوسری معدنیات نکالنی شروع کیں تاکہ ان کو استعمال کرکے اپنے قوم قبیلے کیلئے مضبوط آلات اور اوزار بنائیں اور ان کی مدد سے طاقت حاصل کریں۔  کانسی اور لوہے کے بعد کوئلے کو بطور ایندھن اور صنعت میں استعمال کرنا شروع کیا تو اس کی کانیں دریافت ہوئیں، اس کے بعد سونا اور چاندی کو بطور کرنسی شروع کیا تو زمیں کے اوپر ایک اور آفت آگئی۔ اب صورت حال یہ ہے کہ انسان نے معدنیات کے حصول کے لئے زمین کھود کھود کر کھوکھلا کر دیا ہے۔

اس بے دھنگ تہذیب سے پہلے انسان جب سادہ زندگی گزارتا تھا وہ فطرت کے حسن اور خوبصورتی سے متاثر ہوتا تھا۔ تہذیب نے اسے زندگی کی پیچیدگیوں میں مبتلا کرکے رکھ دیا ہے۔ شہربنانے کی خواہش نے اسےفطرت سے دور کر دیا ہے۔ وہ  جنگل اور دیہات کی صاف فضاء، پرندوں کی چہچہاہٹ اور ان کی خوبصورت آوازوں سے محروم ہو گیا ہے۔ وہ دریا کے پُرسکون پانی، آبشاروں کی موسیقی سے بے گانہ ہو گیا ہے۔ انسان کی  بےجا عقلیت پرستی کی تحریک  نے اس میں رومانی تحریک کو مار دیا  ۔

تاریخ گواہ ہے کہ  ہم مختلف ادوار سے ہوتے ہوئے موجودہ دور میں داخل ہوئے۔ پتھر کے دور  سے ہوتے ہوئے زرعی اور پھر  صنعتی دور میں آئے  اور آج   ڈیجیٹل دور میں جی رہے ہیں۔  ان سارے ادوار میں اگر ہمیں جینے کا سہارا ملا      وہ فطرت کا سہارا     تھا۔ اس فطرت میں موجود حیوانات، نباتات، جمادات اور چرند پرند ہمیں موجودہ  دَور میں داخل ہونے میں مدد دی ہیں۔ پتھر کے زمانے میں حیوانات کا شکار کرکے زندہ رہے تو زرعی دَور میں نباتات ہمیں زندگی بخشی۔ صنعتی دور میں زمین  اپنے اندرموجود  خزانے ہمارے لئے کھول دئیے اور انسان جو حیوانوں میں پلابڑھا تھا آج ان سب پر سردارہے۔ خود کو اشرف المخلوقات کے خطاب سے نوازا ہے۔ فطرت پر اجارہ داری کو اپنا حق سمجھتا ہے۔  وہ زمین جو اللہ کے تمام مخلوقات میں یکساں تقسیم تھی اور جن کا اس پر یکساں حق تھا، اسی انسان نے آپس میں بانٹ دیئے۔   دوسرے مخلوقات کو خود سے کم تر سمجھنے لگا۔ جو اس کے قابو میں آئے ان سے فائدہ لینے کیساتھ ساتھ ان کی تحقیر و تذلیل کا روش اختیار کیا۔   اپنی زہنی ترقی کا غلط فائدہ اٹھا کر دوسرے مخلوقات کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ان کا استحصال کرتے ہوئے اس پر اِتراتا ہے۔  وہ جانوار جو اس  سے مانوس ہوئے  انہیں پالتو بنایا اور ان کے ساتھ حقارت کا سلوک کیا مثلاً کتا، گائے، بھینس، اونٹ وہ جانور ہیں جنھوں نے مشقت کے کاموں  سے لے کر غذا کی فراہمی تک ہماری مدد کی۔   انسانی کمزوری، کمینگی اور خباثت کو مختلف جانواروں سے منسوب کر کے ان کی حیثیت کو اپنی تہذیب میں  کمتر پیش کرنے کی کوشش کی،  کتے کی وفاداری کا  یہ صلہ ملا کہ اسے آج تک بطور گالی یاد کیا جاتا ہے۔ گائے کو سیدھا سمجھ کر اس کا مذاق اڑایا جاتا ہے۔ بھینس کے آگے بین بجانا کا محاورہ اس کی حماقت کے لئے اور اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھا اس کی کوڑ مغزی کے لئے ہے۔ مگر جن جانوروں نے انسان کی مزاحمت کی اور اس کے پالتو نہیں بنے ایسے جانوروں کےلئے انسان کے دل میں عزت و احترام ہے مثلاً شیر کی بہادری، چیتے کی چالاکی اور لومڑی کی عیاری وغیرہ۔

اسے ہم انسان کی بے حسی کہیں یا غرور لیکن یہ بات حقیقت پر مبنی ہے کہ جانور انسان کی تنہائی میں اس کا ساتھی اور غم خوار ہوتا ہے اور انسان کو جانوروں کی صحبت میں خوشی و مسرت حاصل ہوتی ہے۔ ان کی قربت  انسان میں صحبت و شائستگی کو جنم دیتی ہے اور اس سے تشدد و جارحانہ جذبات کا خاتمہ ہوتا ہے۔ یہ انسان اور فطرت کے رشتہ کو مضبوط کرتی ہے۔ ان سے بہتر سلوک ان کا حق ہے اور اگر ہم بحیثیت اشرف المخلوقات  یہ حق ان سے چھین لیں گے تو ہم بھی رحم اور بہتر سلوک کے مستحق نہیں۔ (جاری ہے)


شیئر کریں: