Chitral Times

Jan 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال، لوئردیراوراپردیرمیں تھری جی سروس فراہم کرنے کیلئے فنڈز جاری کئے جاچکےہیں۔ضیاء اللہ بنگش

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاء اللہ بنگش کا کہنا ہے کہ پورے صوبے بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں بہترین انٹرنیٹ کی فراہمی صوبائی حکومت کے ایجنڈے میں شامل ہے۔ عوام کوٹیلی فون اور انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کے معاملے میں صوبائی حکومت، وفاق اور ٹیلی کمیونیکیشن سے وابستہ تمام سٹیک ہولڈرز ایک پیج پر ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے دفتر میں منعقدہ صوبے کے تمام اضلاع میں انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی کے حوالے سے جائزہ اجلاس کی صدارت کے دوران کیا۔

اجلاس میں آئی ٹی بورڈ کے ڈائریکٹر فنانس محمد منعیم، ڈپٹی ڈائریکٹر عمران خان، پراجیکٹ منیجر جواد خان، مختلف ٹیلی کمیونیکشن کے نمائندگان اور دوسرے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ کے مشیر ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے تمام اضلاع بشمول نئے ضم شدہ اضلاع میں معیاری انٹرنیٹ کی سہولت کی فراہمی وقت کی اہم ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ اس مد میں صوبائی حکومت نے مرکزی حکومت کو تمام تر ضروری دستاویزات فراہم کردئیے ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ رواں سال اس مسئلے کو بڑی حد تک حل کرلیا جائے گا۔

یونیورسل سروس فنڈ کا حوالہ دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر صاحبزادہ علی محمود یونیورسل سروس فنڈ کے حکام کے ساتھ مکمل رابطے میں ہیں اور امید کی جاتی ہے کہ رواں سال جون تک اس کے خاطرخواہ نتائج سامنے آجائینگے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ صوبائی حکومت وزیراعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر صوبے میں سیاحت کے فروع کے لئے سنجیدہ اقدامات اٹھارہی ہے۔ اس سلسلے میں صوبے کے تمام سیاحتی مراکز میں بہترین انٹرنیٹ کی فراہمی بہت ضروری ہے۔

اجلاس میں گفتگو کے دوران پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) کے نمائندے کا کہنا تھا کہ پی ٹی سی ایل نے صوبے کے تقریبا تمام اضلاع میں فائبر کے ذریعے انٹرنیٹ کی ترسیل مکمل کی ہے، ان کے مطابق سیاحت کو مدنظر رکھتے ہوئے مالاکنڈ سے بحرین تک انٹرنیٹ کی فراہمی جاری ہے جبکہ چترال میں بھی فائبر کی سہولت موجود ہے۔ قبائلی اضلاع کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پی ٹی سی ایل کے حکام کا کہنا تھا کہ ضلع خیبر کے 80فیصد علاقوں میں فائبر کی ترسیل کی جاچکی ہے۔ضلع مہمند کے تحصیل غلنئی اور تحصیل یکہ غنڈمیں انٹرنیٹ کی فراہمی جاری ہے۔ باجوڑ کی تحصیل خارمیں جبکہ کرم اور اورکزئی کے کچھ علاقوں میں بھی فائبر بچھائی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیرستان کے علاقوں وانا، میران شاہ اور شکئی میں بھی فائبر کے ذریعے انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

اجلاس میں ٹیلی کمیونیکیشن کے دوسرے نمائندگان نے بھی اپنی سروس سے وزیراعلیٰ کے مشیر برائے سائنس و انفارمیشن ٹیکنالوجی کو آگاہ کیا۔دو مبائل فون کمپنیوں کوبھی یونیورسل سروس فنڈ کی جانب سے چترال، لوئردیر اور اپر دیر میں تھری جی سروس فراہم کرنے کے لئے فنڈز جاری کئے جاچکے ہیں۔

ضیاء اللہ بنگش نے اجلاس کے دوران تمام کمپنیوں کے مسائل سے بھی آگاہی حاصل کی اور ان کے حل کے لئے بروقت اور فوری اقدامات اٹھانے کی یقین دہانی کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ دور میں تمام کاروبار زندگی انٹرنیٹ کے ساتھ وابستہ ہے۔ صوبے کے عوام کو بہترین سہولت فراہم کرکے نہ صرف ان کو ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے کے قابل بنایا جاسکتا ہے بلکہ سروس کی توسیع سے صوبے میں روزگار کے مواقع بھی پیدا کئے جاسکتے ہیں۔


شیئر کریں: