Chitral Times

Mar 7, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

خواتین کے ساتھ ہمارا معاشرتی رویہ…….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

چینی مقولے کے مطابق خواتین نے آدھے آسمان کو بلند رکھا ہوا ہے۔قوم کا مستقبل معاشرے میں خواتین کے کردار پر منحصر ہے۔خواتین مستقبل کی معمار تصور کی جاتی ہیں۔کوئی بھی معاشرہ خواتین کی طاقت، تخلیقی صلاحیتوں اور ان کی تربیت کی اہمیت کو صحیح معنوں میں استعمال کیے بغیر ترقی نہیں کر سکتا۔عالمی سطح پر ناخواندہ افراد میں خواتین کی شرح 66% ہے۔ دنیا بھر میں 70%خواتین اپنے خاندان کی بلا معاوضہ دیکھ بھال کر رہی ہیں۔عالمی سطح پر خواتین کی ان بلا معاوضہ خدمات کا تخمینہ سالانہ 11 ٹرلین امریکی ڈالر سے زیادہ ہے جو کہ عالمی جی ڈی پی کا ایک تہائی حصہ بنتا ہے۔خواتین دنیا میں صرف 1%زمین کی ملکیت رکھتی ہیں۔ترقی یافتہ ممالک میں انتظامی شعبو ں میں خواتین کی شراکت کا تناسب 33%، افریقہ میں 15%، ایشیاء اور پیسیفک میں یہ تناسب13% ہے۔دنیا بھر میں صرف 14%خواتین پارلیمنٹ کی ممبرز اور صرف 7%کیبنٹ ممبرز کے طور پر کام کر رہی ہیں۔حتی کہ اقوام متحدہ میں بھی محض 9%خواتین بڑے عہدوں پر 21%درمیانے درجے کے عہدوں پر اور 40%معمولی عہدوں پر اپنی پیشہ وارانہ خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔

پاکستان اور آزادکشمیر دونوں میں خواتین کی صورتحال تسلی بخش نہیں ہے۔جنوبی ایشیاء کی طرح ہمارے ملک کی زیادہ تر خواتین نجی شعبے سے وابستہ ہیں۔ سرکاری شعبوں میں ابھی تک مردوں کا تسلط قائم ہے۔ہمارے معاشرے کے مرد وہ سارے کام کر تے ہیں جو لوگوں کو ظاہری طور پر نظر آتے ہیں جبکہ باقی ماندہ ساری ذمہ داریاں جو عوامی آنکھوں سے اوجھل رہتی ہیں وہ خواتین کے حصے میں آتی ہیں۔  اگرچہ یہ رواج صرف ہمارے ملک تک ہی محدود نہیں ہے تاہم یہ رواج نسل در نسل منتقل ہوا ہے اور اس کے خلاف بغاوت غداری سے بھی بڑا جرم سمجھا جا تا ہے۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کو فرمانبردار، کمزور، فیصلہ سازی میں ضعیف العقل اور معاشرتی روابط کے لحاظ سے مرد کے مقابلے میں کئی گناہ کمتر سمجھا جاتا ہے۔

آزادکشمیر میں خواتین سے متعلق ایک مشہور کہاوت ہے (ان کی عقل ٹخنوں میں ہوتی ہے)۔ یہ کہاوت بڑی عجیب ہے اگر ٹخنوں سے تھوڑ ا نیچے جائیں تو اللہ نے ماں کے قدموں تلے جنت رکھی ہے مگر ہم جنت تک نہیں جاتے بس ٹخنوں سے واپسی کی راہ لیتے ہیں۔ ہمارے ملک میں دیہی علاقوں کے 80%  اور شہری علاقوں کے 70%مرد عورت کو اپنے سے کمتر یا ضعیف تصور کر تے ہیں۔اگر آزاد کشمیر کی بات کریں تو یہ شرح کافی زیادہ ہو جاتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں لڑکوں کو اولیت اور فوقیت دی جاتی ہے اورانہیں نسل کے تسلسل کا ضامن تصور کیا جا تا ہے جو کہ غیر منطقی بات ہے۔ نسل کا بقاء اور تسلسل عورت کے بغیر ناممکن ہے۔ لڑکوں کو معاشی ذمہ دار اور لڑکیوں کو معاشی بوجھ سمجھا جا تا ہے۔ہم بھائیوں کے کام بہنوں سے کرواتے ہیں کیا بہنوں کے کام بھائیوں سے کرواتے جہنم واجب ہوتی ہے؟ہمارے معاشرے میں سوائے چند مثالوں کے عملی طور پر گود سے گور تک لڑکے اور لڑکی میں مساوات کا تصور محض کتابوں اور واعظوں تک محدود ہے۔لڑکے کی پیدائش کے لیے دعائیں، منتیں، حاجتیں، پیر فقیر کوئی کونہ ہم نہیں چھوڑتے کیا ہم لڑکی کے لیے بھی یہ سب کر تے ہیں؟ایسی بھی واقعات ہیں جہاں پر بیٹی پیدا کر نے پر طلاق دے دی جاتی۔ کیا بیٹا یا بیٹی پیدا کر نا صرف عورت کا اختیار ہے؟ ہماری عقل پر پردہ کیوں پڑ جاتا ہے اگر کسی کی لڑکی نہ ہوتی تو ہم لڑکے کی امید کس سے کرتے۔

ایسے واقعات بھی ہیں جن میں مسلسل تین یا چار بیٹیاں ہونے پر باپ خودکشی کرنے کی دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے اگر لڑکی ہوئی منہ نہیں دیکھوں گا۔ استغفراللہ ہمیں لڑکی کے مقام کا علم نہیں ہے۔لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکیوں کو زیادہ اور اچھا پڑھایا جا تا ہے، انکا زیادہ خیال رکھا جاتا ہے۔ باپ بیٹے کو ساتھ لے کر گھومتا ہے مگر لڑکی کو ہم بزدل بنا کر گھر میں مقید کر دیتے ہیں۔تحقیق کے مطابق لڑکیوں کی نسبت مائیں لڑکوں کو زیادہ عرصہ تک اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ لڑکوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے جبکہ لڑکیوں کو ڈانٹ پلائی جاتی ہے۔ ہم بیٹوں کے معاملے میں سینہ تان کھڑے ہو جاتے مگر بیٹی کے معاملے میں ہم کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر کے بھیگی بلی بن جاتے اور صبر کے درس دینے لگ جاتے۔ لڑکوں کو آنے جانے کھیلنے کودنے، دوست بنانے اور دیگر کئی اقسام کی رعایتں عنایت کی جاتی ہیں جبکہ بیٹی کے معاملے میں ہم ان پر امریکہ والی پابندیاں لگاتے جاتے۔

ہمارے معاشرے میں زیادہ تر خاندان لڑکیوں کے معاملے میں کوئی واضع سوچ نہیں رکھتے وہ بس نسل در نسل چلے آنے والی رسوم و رواج پر عمل کر تے جاتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں قانونی نقطہ نظر سے بھی خواتین کے تحفظ کے لیے اتنے قوانین موجود نہیں جتنے مردوں کے لیے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ قانون بنانے والے زیادہ تر مرد ہیں اور وہ اپنے معاشرتی تسلط کے خلاف قانون بنانا گوارہ نہیں کرتے۔ زیادہ تر دیہی علاقوں میں تو لڑکیاں اور خواتین مردوں کے بعد کھانا کھاتی ہیں۔ اسلامی اصولوں کو صحیح معنوں میں سمجھنے کی ہماری کوتاہی کی وجہ سے اس وقت جنوبی ایشاء میں مسلم خواتین دیگر اقلیتوں کے مقابلے میں زیادہ ناخواندہ ہیں۔ہمارے معاشرے میں عملی طور پر لڑکیوں کو جائیداد میں حصہ نہیں دیا جاتا۔ اگر کوئی اصرار کرے تو اسے مختلف طریقوں سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا تا ہے۔

ہمارے معاشرے میں سیاسی میدان میں اترنے کی جرت کرنے والی خواتین کو بھی اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا، اسکے خلاف فتوے لگانے والے ملاان کے اقتدار میں آنے پر انکے ہاتھ پر بیعت بھی کر لیتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں ابھی بھی رسوم و رواج اور نام نہاد اسلامی توجہیات ہی عورت کے کردار کا تعین کر تے ہیں۔اس وقت ملک میں 1.8% خواتین الیکشن کمیشن کی نمائندگی کر تی ہیں اور کسی عورت کے پاس کوئی کلیدی عہدہ بھی نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں 50% سے زیادہ خواتین ووٹر ز کا اندراج نہیں ہے۔ ملین کے حساب سے خواتین قومی شناختی کارڈ نہ ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں ڈال پاتی۔ جنرل نشستوں پر خواتین کی نمائندگی کا تناسب لگ بھگ 3%ہے اور آزاد کشمیر میں یہ تناسب اس سے بھی کم اور وادی نیلم میں 0% ہے۔ جنوبی وزیرستان اور فاٹا میں صرف 7%خواتین ووٹ ڈالتی ہیں، بلوچستان میں 48% جبکہ آزاد کشمیر میں یہ تناسب بلوچستان سے کم ہے۔2.7ملین خواتین کے قومی شناختی کارڈ پر تصویر موجود نہیں ہے جسکا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گردوں نے کئی خواتین کو قومی سلامتی کے خلاف استعمال کیا۔

چاہیے ہم عملی زندگی میں خواتین کے ساتھ غیر اسلامی سلوک روا رکھیں مگر شناختی کارڈ پر تصویر کے معاملے میں اسلام اچھل کر ہمارے لبوں پر آجاتا ہے۔ پنجائیت، جرگہ، سائیں، ملک، نمبردار، ذیلداراور نام نہاد اسلامی حوالدار معاشرے میں خواتین کی تنزلی اور پس ماندگی کے ذمہ دار ہیں۔ یہ عوامل خواتین کو آگے نہیں نکلنے دیتے کیونکہ ایسا کرنے سے ان کی اجارہ داری کو خطرہ لاحق ہے۔ ملک کی سیاسی پارٹیوں نے جن میں سے اکثریت کے نام ہی شخصیت پر مبنی ہیں اس سے اندازہ لگا لیں وہ کتنی جمہوری ہو سکتی ہیں صرف 1.4%خواتین کو پارٹی ٹکٹ کے لیے نامزد کیا۔ تحقیق کے مطابق ہمارے معاشرے کی خواتین مردوں کے مقابلے میں زیادہ قدامت پسند ہیں۔ دیہی علاقوں میں کام کرنے والے زیادہ تر خواتین زیادہ عمر کی ہوتی ہیں جبکہ شہروں میں زیادہ تر نوجوان لڑکیاں کام کرتی ہیں۔ شائد اسکی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے اب لڑکیاں دیہاتوں میں رہنا پسند نہیں کرتی یا وہ اپنے آپ کو تعلیمی لحاظ سے دوسروں سے اعلی تصور رکرتی ہیں۔ کام کرنے والی خواتین میں بھی مساوات نہیں ہے۔

ہم اعلی تعلیم یافتہ اور اچھے عہدوں پر کام کرنے والی خواتین کی عزت کر تے ہیں جبکہ کم تعلیم یافتہ اور نچلے طبقے پر کام کرنے والی خواتین پر دھونس جماتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین امیدواروں کے خلاف غیر اخلاقی مہمات بھی چلائی جاتی ہیں نہ صرف یہ بلکہ ہمارے ملک کے اعلی ترین عہدوں پر فائز افراد کال پر خواتین کو ادبی گالیاں بھی نکال جاتے اور بعد میں پیشمان ہونا پڑتا ہے۔


شیئر کریں: