Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

زندگی کا ایک اور سنہرا سال رخصت ہوا ! …قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

نئے عیسوی برس کا آغاز ہے، دنیا بھر میں نئے سال کی آمد پر روایتی جشن و جوش و خروش دیکھنے میں نہیں آیا، کرونا کے سبب دنیا سمٹ گئی ہے، خوف کے سائے میں دبکے عوام سمجھنے سے قاصر ہیں کہ یہ کیسا عذاب و آزمائش مسلط ہے، 2021 کا آغاز ہوچکا، گو  تاریخی طور پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یوم ولادت کے سال سے عیسوی سال کا آغاز ہوتا ہے، تاہم وقت کے ساتھ ساتھ اس میں تبدیلی واقع ہوتی رہی ہے، مثلاً پوپ گریگوری نے سولہویں صدی میں تاحال آخری قابلِ ذکر تبدیلی کی تھی اسی لیے اسے ہم گریگورین تقویم بھی کہتے ہیں۔ مسلم امہ نئے برس کا آغاز محرم الحرم سے کرتی ہے،  بیشتر مسلم اکثریتی ممالک میں ہجری تقویم سے مراد تواریخ کا حساب حضرت محمد  ﷺ  کی مدینہ کی طرف ہجرت سے لگانا ہے۔ اس میں جو مہینے  آتے ہیں ان کا استعمال اسلام سے پہلے بھی تھا۔ جس میں سے محرم پہلا مہینہ ہے۔ چونکہ ایک قمری تقویم ہے لہذا اس کا ہر مہینہ چاند کو دیکھ کر شروع ہوتا ہے۔


کلینڈر(تقویم) کی چار اقسام معروف ہیں، تاہم بعض ممالک (ایران، چین وغیرہ) میں اپنی اپنی روایت کے مطابق بھی کلینڈر بنایا جاتا ہے، بہرحال خوشی کا جو بھی تہوار ہو، جشن منانے کی روایات سینکڑوں برسوں سے چلی آرہی ہے، نوجوان نسل اس حوالے سے زیادہ جاننا بھی نہیں چاہتی کہ انہیں کس تقویم پر چلنا چاہیے، انہیں بس خوشی کے کسی بھی ایونٹ کا انتظار رہتا ہے، جو اخلاقی دائرے میں رہ کر بھی کیا جاسکتا ہے اور مدر پدر آزادی کے خود ساختہ نظریے کے تحت بھی۔ یہ ایک ایسی بحث ہے جس کے لئے دماغ و دلائل برہا ن کے ساتھ قوت برداشت، سننے کا حوصلہ بھی ہونا ضروری ہے، جو بدقسمتی سے ہمارے معاشرے سے ناپید ہوتا جارہا ہے۔


سال گذر رہے ہیں، انسان و دنیا کی عمر کم ہوتی جا رہی ہے اور خوشی کی تلاش و غم سے پر امن ماحول کے لئے بے چین دنیا سکون کی متلاشی و سرگرداں ہے۔ کہنے والے تو کہتے ہیں کہ ’سکون قبر میں ہے‘۔ لیکن یہ سب جانتے ہیں کہ قبر کا سکون کیسے ملتا ہے، عالم برزخ ابھی ہمارے سامنے منکشف نہیں ہوا، قرآن کریم کی آیات کریمہ میں کھلی نشانیاں ہیں، جو سمجھنے اور غور وفکر کرنے والوں کے واضح ہیں، اس لئے دنیا و آخرت میں مکافات عمل ایک ناقابل تردید، متعین قانون فطرت ہے،جس سے انکار و روگردانی کوئی بھی نہیں کرسکتا۔ نیا سال ہے، نئی امیدیں ہیں اور سب کی دلی خواہش ہوتی ہے کہ ہر نیا برس ان کے خوابوں کی خوشنما تعبیر بنے اور انہیں وہ کچھ ملے جس کی وہ آرزو کرتے ہیں، لہذا اس لمحے پر سب کے لئے دعا گو ہوں کہ رب کائنات بنی نوع انسان کی تمام جائز دعاؤں کو قبول فرمائے،ہدایت دے اور دنیا کو امن و سکون کا گہوارہ بنانے کے لئے صراط مستقم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔


نئے برس کی آمد کے پہلے ہی دن بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، لیکن زندگی رہی تو اظہاریہ لکھتے رہیں گے، دوسرے لفظوں میں دل کی بھڑاس نکالتے رہیں گے، تاہم درحقیقت جو صورتحال وطن وعزیز میں ہے، اس کے بعد دل و دماغ میں بے چینی و بے اطمینانی با افراط ہے، لیکن ظاہرسی بات ہے،چاہتا تو یہی ہوں کہ نئے برس کا آغاز ملک و قوم کے لئے نیک تمناؤں سے کروں۔ مایوسی و گھبرانے والی باتوں سے اجتناب کروں، لیکن گھبراہٹ تو ایک فطری اَمر ہے۔ خراب حالات ہوں گے تو بندہ بشر گھبرائے گا نہیں تو اور کیا کرے گا، لہذا اگر تھوڑا گھبرا بھی لیا جائے تو فرسٹرشن میں کمی ہواقع ہوجاتی ہے، ڈیپریشن کا شکار ہونے سے بچنے کی سبیل بھی پیدا ہوجاتی ہے، بُرا، مشکل و کڑا وقت تو ہر کسی پر آتا ہے، فرد و ملک پر آنے والے سخت دور کو گذارنا پڑتا ہے، چار و ناچار ہر طور ملک و قوم پر سخت وقت بھی گذر جاتا ہے، ہر سیاہ رات کے بعد روشن صبح بہتر مستقبل کا پیغام بھی لاتی ہے، اسی طرح ڈر و خوف کے سائے کے مقابل احساس کرنا ہو تو دنیا بھر میں جہاں جہاں مہاجرین ہیں، خانہ جنگیاں ہیں، جارحیت ہیں، جبر و ظلم ہے، اس سے اپنے و ملک کے حالات کا موازنہ کرکے اللہ تعالی کا شکر ادا کرنا فرض بن جاتا ہے کہ جیسا بھی ہے، جو بھی ہورہا ہے، الحمد للہ اب بھی بہتوں سے بہتر ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ خامیان و کوتاہیاں بھی ہیں، لیکن ایسا بہرحال نہیں ہے کہ ایسے سدھارا نہیں جاسکتا۔


عیسوی ہو یا ہجری سال نو، خوشیوں و سلامتی و امن کے ساتھ اُن تمام مذاہب و برادریوں سے تعلق رکھنے والے پیروکاروں کو دلی مبارکباد دیتے ہیں، رب عزوجل کے بارگاہ میں دعا کرتے ہیں کہ ہر دن، ہفتہ، مہینہ سال سب کا مالک تو ہے، تو کن فیکون ہے، وطن عزیز کو درپیش تمام مشکلات و پریشانیوں کو دور فرما، عوام کو درپیش تکالیف کا خاتمہ کرنے کے اسباب پیدا فرما، مملکت کو ایک ایسی ایماندار، صلاح، صادق امین قیادت نصیب فرما جو پاکستان کے قیام کے اصل مقصد کے تحت اسلام کا قلعہ بنانے کے لئے فروعی مفادات سے بالا تر ہو کر صرف ملک و قوم کی خدمت کرے۔ اللہ تعالی سے یہی دعا ہے کہ انتہا پسندوں، دہشت گردوں سے وطن عزیز کو محفوظ رکھ، پوری دنیا میں اسلام فوبیا جیسے قدامت پسندوں کو اسلام کے اصل تشخص کو سمجھنے کی توفیق دے۔ جو جو مسائل ملک و قوم کو درپیش ہیں انہیں مخلص قیادت کے ہاتھوں حل کرنے میں غیبی امداد فرما، سود کے نظام سے پاک ایک ایسی زندگی کا ضابطہ حیات کے تابع کردے جو مافیاز و ملک دشمن عناصر کی ناکامی کا حرف آخر بنے۔ ہم گناہ گار ہیں، ہمیں اُس راستے پر چلا، جس پر تو  راضی ہو۔(آمین)


شیئر کریں: