Chitral Times

Jan 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیر اعلیٰ نے صحت کارڈ سکیم کی صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع کے تیسرے مرحلے کااجراءکیا

شیئر کریں:


پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صحت کارڈ پلس سکیم کی صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع کے تیسرے مرحلے کا باقاعدہ اجراءکیا۔ تیسرے مرحلے میں صوبے کے چھ اضلاع بشمول پشاور ، چارسدہ، نوشہرہ، مردان، صوابی، اور ہر ی پورکی تمام آبادی کو قومی شناختی کارڈ کی بنیاد پر صحت کارڈ پلس جاری کئے جارہے ہیں ۔ان چھ اضلاع کی تقریباً ایک کروڑ چالیس لاکھ آبادی اس سہولت سے مستفید ہو گی۔ یاد رہے کہ اس سکیم کی توسیع کے پہلے دو مرحلوں میں ہزارہ اور ملاکنڈ ڈویژن کی سو فیصد آبادی کوصحت کارڈ پلس جاری کئے گئے ہیں۔


اس سلسلے میں ایک تقریب جمعہ کے روز وزیراعلیٰ ہاو س پشاور میں منعقد ہوئی۔ تقریب سے بحیثت مہمان خصوصی اپنے خطاب میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اس سکیم کو موجودہ صوبائی حکومت کا ایک فلیگ شپ منصوبہ اور وزیراعظم عمران خان کے وژن فلاحی ریاست کے قیام کی طرف اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہاہے کہ یہ صحیح معنوں میں عام آدمی کی فلاح کا منصوبہ ہے ، جو بلا امتیاز صوبے کے تمام باشندوں کو علاج معالجے کی مفت سہولت فراہم کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس مہینے کے آخر تک اس پروگرام کے دائرہ کار کو پورے صوبے کی سو فیصد آبادی تک توسیع دی جائیگی۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت اس اہم منصوبے پر سالانہ 18 ارب روپے خرچ کر رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبے کے عوام کی وسیع تر مفاد میں کڈنی اور لیور ٹرانسپلانٹ کو بھی صحت کارڈ پلس سکیم میں شامل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ آئندہ بجٹ میں ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کو صحت کارڈ کے تحت دی جانے والی سالانہ کوریج چھ لاکھ روپے سے بڑھا کر دس لاکھ روپے فی خاندان سالانہ کر دی جائیگی تاکہ پورا صوبہ یکساں طور پر اس منصوبے سے مستفید ہو سکے۔


خیبرپختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا کے علاوہ کابینہ کے دیگر اراکین اکبر ایوب ، شہرام ترکئی، کامران بنگش، مذکورہ چھ اضلاع سے اراکین صوبائی اسمبلی ، محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور میڈیا کے نمائندوں نے بھی تقریب میں شرکت کی۔ صحت کارڈ منصوبے کو موجودہ حکومت کی طرف سے صوبے کے عوام کے لئے بہت بڑا تحفہ قرار دیتے ہوئے محمود خان نے کہا کہ منصوبہ صوبے کے عوام کو صرف علاج معالجے کی مفت سہولیات فراہم کرنے کا منصوبہ نہیں بلکہ یہ سماجی تحفظ کا ایک مکمل پیکج ہے ، جس سے صوبے میں غربت کی شرح کو کم کرنے اور لوگوں کے معیار زندگی کو بہتر بنانے میں بھی مدد ملے گی۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے عوام سے جو وعدے کئے تھے وہ ایک ایک کرکے پورے کئے جارہے ہیں ، گزشتہ ڈھائی سالوں میں موجودہ صوبائی حکومت نے عوامی فلاح و بہبود کے لئے جو اقدامات اٹھائے تھے ان کے ثمرات اب سامنے آنا شروع ہو رہے ہیں، جبکہ اس طرح کے مزید کئی منصوبوں پر کام جاری ہے جن کی تکمیل سے صوبے کے عوام اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی محسوس کریں گے۔ اس موقع پر وزیراعلیٰ نے پوری قوم اور خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام کو نئے سال کی مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ نیا سال ملک کی تعمیر و ترقی اور امت مسلمہ کی یکجہتی کا سال ہوگا۔


  قبل ازیں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیرصحت تیمور سلیم جھگڑا نے کہا کہ ملاکنڈ ریجن میں پروگرام کے توسیع کے بعد ان ریجنز کے سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کی ماہانہ ایڈمیشن میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
<><><><>

وزیراعلیٰ کی کرک میں مسمار کئے گئے مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے گزشتہ روز کرک کے علاقے ٹیری میں مشتعل ہجوم کی طرف سے مسمار کئے گئے مندر کو دوبارہ تعمیر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت منہدم مندر کی جلد تعمیر کو یقینی بنا.ئے گی ، جس کے لئے متعلقہ حکام کو ضروری ہدایات جاری کئے گئے ہیں۔


دریں اثناءوزیراعلیٰ سے اقلیتی حقوق کمیشن کے سربراہ شعیب سڈل نے ملاقات کی اور کرک واقعے سے متعلق معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ اقلیتی رکن قومی اسمبلی رمیش کمار اور چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز بھی اس موقع پر موجود تھے ۔ اس موقع پر گفتگو میں وزیراعلیٰ نے اس واقعے کو انتہائی قابل مذمت اور افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت واقعے میں ملوث افراد کے خلاف سخت کاروائی عمل میں لانے کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔اس سلسلے میں پولیس اور انتظامیہ کو ضروری احکامات جاری کئے جا چکے ہیںا ور واقعے میں ملوث متعدد افراد کو گرفتار بھی کرلیا گیا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ صوبائی حکومت اقلیتوں کے مقدس مقامات کے تحفظ کو یقینی بنائے گی ۔ واقعہ میں ملوث افراد کو قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ کمیشن کے چیئرمین شعیب سڈل اور ایم این اے رمیش کمار نے اس سلسلے میں صوبائی حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ قبل ازیں شعیب سڈل اور رمیش کمار نے کر ک میں مسمار کئے گئے مندر کی جگہ کا بھی دورہ کیا۔
<><><><><><>


دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان نے کورونا سے متاثرہ ڈاکٹر فہد لیاقت کے انتقال پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لواحقین سے تعزیت اور دلی ہمدردی کا اظہار کیا ہے یہاں سے جاری ایک تعزیتی بیان میں وزیر اعلیٰ نے مرحوم کی مغفرت اور پسماندگان کے لیے صبر جمیل کی دعا کی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے کورونا وباءکے دوران ڈاکٹرز و دیگر طبی عملے کی خدمات اور قربانیوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت ڈاکٹرز کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔


شیئر کریں: