Chitral Times

Mar 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

آزاد امیدوار۔۔۔۔۔اورعذاب امیدوار۔۔۔۔۔پروفیسر عبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

امیدوار ایسا لفظ ہے جس میں امید اوروار دونوں موجودہیں۔ امیدوار کے ساتھ آزاد کا سابقہ لگا دیں تو آزاد امیدوار بن جا تا ہے۔ آزاد کا سابقہ امیدوار کو بہت ساری ذمہ داریوں اور پریشانیوں سے آزاد کردیتا ہے مگر اس سابقے کے لگتے ہی اس کی امید کم ہو جاتی ہے۔ جب کوئی پارٹی آزادامیدوار کی امید ختم کر دیتی ہے اور اس پر ٹکٹ نہیں وارتی تووہ آزاد امیدوار بن جا تا ہے۔ ٹکٹ نہ ملنے پر وہ امید کم اور وارزیادہ کرنے کی کوشش کر تا ہے۔ امیدوار کو انگریزی میں کینڈی ڈیٹ کہتے ہیں۔ یہ لوگ الیکشن کے نتائج تک عوام کو کینڈی دیتے ہیں اگر جیت جائیں تو ڈیٹ پہ ڈیٹ دیتے ہیں اور اگر ہار جائیں تو سارے وعدوں اور دعووں سے آزادہو جا تے ہیں۔ جیتنے والا کینڈی ڈیٹ کام کرنے کے لیے ڈیٹ پہ ڈیٹ دیتا جا تا ہے یہاں تک کے اگلے الیکشن کی ڈیٹ آجاتی ہے۔

اسطرح جیتنے والا امیدوار آزاد تو نہیں بن سکتا اسے کچھ نہ کچھ کرنا پڑتا ہے۔ یوں جیتنے والا امیدوار آزادکے بجائے عوام کے لیے عذاب بن جا تا ہے۔ امیدواروں اور آزاد امیدواروں کی بہت ساری اقسام ہیں اورہمارے ملک عزیزمیں تو یہ گھاس کی طرح اگتے ہیں اور جیتنے کے بعد عوام کو گھاس تک نہیں ڈالتے۔ ہماری وادی نیلم میں گریس کے لوگوں نے ماضی میں ایک امیدوار کو گھاس بھی کھلائی تھی۔ الیکشن کی ہوا چلتے ہی امیدوارں میں بھی غبارے کی طرح ہوا بھرنا شروع ہو جاتی ہے۔ یہ ہوا یا تو انہیں اڑاکر اسمبلی تک لے جاتی ہے یا پھر الیکشن کے آخری دن ان کے غبارے سے ہوا نکل جاتی ہے۔ آزادکشمیر میں الیکشن قریب ہیں اور سیاسی مہرے ایسے تڑپ رہے جیسے قریب المرگ ہوں۔ آزادکشمیر میں بھی پاکستان کی طرح بے شماری آزادامیدوار نظر آرہے ہیں اور ابھی کچھ کی سیاسی کونپل کھلنے والی ہے۔

آزاد امیدوارں کی تعداد  دیکھ کر یوں لگتاہے جیسے یا تو سب کو سیاست کی سمجھ آگئی ہے یا پھر کچھ سمجھ میں نہیں آرہا۔ آزادامیدواروں کی ایک قسم الیکشن سے پہلے ہی آزادہو جاتی ہے۔ ایسے امیدوار کسی پارٹی یا کسی پیسے والے امیدوار پر پیسے کی امید پر وار ہو جاتے ہیں۔اکثر آزاد امیدوار اسی قسم میں شمار کیے جاتے ہیں۔ آزادامیدواروں کی دوسری قسم پارٹی کا ٹکٹ نہ ملنے کیوجہ سے بطور آزاد امیدوار الیکشن لڑتے ہیں۔ انہیں تو جیتنے کی پکی امید ہوتی ہے۔ اگرجیت جائیں تو ان کی پارٹی ان پر وار ہو جاتی ہے اگریہ آزاد کے سابقے پرقائم رہیں توحکومتی پارٹی میں شامل ان کی امید ان کے اندازے سے زیادہ مفید ثابت ہوتی ہے۔تیسری قسم وہ آزاد امید وارہیں جو پہلے تو کسی پارٹی کے سپورٹر تھے مگر اچھا عہدہ یاکوئی اور مید بر نہ آنے پر الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیتے ہیں۔

آزاد امیدواروں کی ایک قسم بطورپریشر گروپ بھی کام کرتی ہے جس کا مقصد پوشیدہ ہوتا ہے۔ کچھ آزاد امیدوار پارٹیاں جان بوجھ کر میدان میں لاتی ہیں تاکہ مخالف پارٹی پر نفسیاتی دباو ڈالا جائے۔ ایسے امیدوار ظاہری طور پر آزاد اور باطنی طور پر غلام ہوتے ہیں۔کچھ آزاد امیدوار ہوا کے رخ چلتے ہیں۔ وہ اندازہ لگا لیتے ہیں کون سے امیدوار کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں وہ الیکشن کے آخری ہفتے میں لین دین کر کے بیٹھ جا تے ہیں۔بعض امیدوار ایسے ہوتے ہیں جن کی نہ تو کوئی سیاسی وابستگی ہوتی ہے، نہ ووٹ بینک اورنہ ہی عوامی پذیرائی۔ وہ محض شہرت یا نام کے لیے میدان میں کودپڑتے ہیں۔آزاد امیدواروں کی ایک نایاب قسم ایسے امیدوار ہیں جو اپنے ملک، علاقے اور لوگوں کے لیے کچھ کرنے کی جستجو رکھتے ہیں۔ آزاد امیدواروں کی یہ قسم سب زیادہ قابل رحم ہے۔ انکو کوئی یہ سمجھائے کیا آج تک ملک و قوم کی بھلائی کے لیے سوچنے والے بھی کبھی جیتے ہیں۔

ملک کی صحیح معانی میں خدمت کرنے والے الیکشن نہیں لڑتے بلکہ وہ اپنی صلاحیتوں کے ساتھ ملک دشمن قوتوں سے لڑتے ہیں۔ بہرحال یہ امیدوار یا تو امید نہیں ہارتے اور کوشش کر تے رہتے ہیں یا یہ بھی امیدوار دیتے ہیں اور قومی کی سیاسی فہم و فراست پر ماتم کرتے ہوئے کسی دھن میں لگ جا تے ہیں۔امید واروں کی ایک قسم ایسی بھی ہے جو نہ تو آزاد امیدوار ہیں اور نہ ہی عذاب امیدوار۔ وہ بچارے خود عذاب میں مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ پارٹی ٹکٹ کے معاملے میں بھی عذاب کرب سے گزر رہے ہوتے اور آزاد لڑنے کی سکت بھی نہیں ہوتی۔ انکو پارٹی نہ تو ہاں کر تی ہے اور نہ ہی نہ۔ ایسے امیدواروں کو پارٹیوں نے گاوں کی منگنی کی طرح لٹکایا ہوتا ہے جس کا کچھ پتہ نہیں ہوتا شادی ہو گی یا رشتہ ٹوٹ جائے گا۔ ایک اور قسم ایسی بھی ہے جو بیک وقت کئی پارٹیوں میں کنڈی ڈال کے بیٹھے ہوتے کے کسی نہ کسی طرف سے کوئی مچھلی نہ سہی کوئی ڈڈو ہی پھنس جائے تو بہت ہے۔ آزاد امیدواروں کی ایک قسم قربانی کے بکرے جیسی ہے جنہیں پارٹی دونشستوں سے جیتنے پر ایک نشست کا ٹکٹ دینے کا وعدہ کر کے عین موقعے پرٹکٹ کسی اور کو دے کر انہیں قربان کر دیتی ہے۔ اب یہ بچارے نہ تو الیکشن لڑسکتے، نہ کچھ اور بس دانت بسیچ کر رہ جاتے۔

پارٹیاں عام طور پر یہ چھری بہت طاقتور امیدواروں کے لیے استعمال کر تی ہیں۔کچھ امیدوار آزاد تو نہیں ہوتے مگر الیکشن جیتنے کے ساتھ ہی وہ آزاد ہو جاتے ہیں۔ ایک پارٹی کے ٹکٹ سے جیت کر دوسری پر وار ہو جاتے۔ شنید ہے آزادکشمیر 2021کے الیکشن میں وسیع پیمانے پر ایسا ہونے والا ہے۔ سیاسی امیدوار محض سیاست کے امیدوار ہوتے ہیں عوام کے لیے یہ تلوار کا وار ہوتے ہیں۔ آزاد امیدواروں میں ایک قسم ایسی بھی ہوتی ہے جن کو کبھی اپنے علاقے میں نہیں دیکھا گیا ہوتا۔ وہ عرصہ دراز سے دوسرے ممالک میں رہائش پذیر ہوتے ہیں ہم انکے چہرے صرف الیکشن کے اشتہاروں میں دیکھتے ہیں۔ ایسے امیدوار نہ تو امید رکھتے اور نہ ہی آزاد  سے عذاب بنتے۔ یوں سمجھ لی جیئے یہ بے ضرر امیدوار ہو تے ہیں۔

کچھ امیدور چار سال تک پارٹی سے فائدے اٹھانے کے بعد ایک الگ گروپ بنا لیتے ہیں جس کا مقصد پارٹی پر دباو ڈال کر اپنے مفادات حاصل کرنا ہوتا ہے اگر تو مطلوبہ فائدے مل جائیں یہ ناراضگی دورکر کے دوبارہ پارٹی کا حصہ بن جاتے اور اگر یہ امیدپوری نہ ہو تو اپنے آپ کو بطور آزاد امیدوار ظاہر کرتے۔ ہمارے ہاں ایسے امیدوار بھی ہوتے ہیں جو امید پوری کرنے کے لیے تسبی سیاست شروع کر دیتے۔ ہاتھ میں تسبی پکڑے جگہ جگہ فاتحہ خوانی کے نام پر جاتے ہیں۔ کچھ امیدوار پیروں کا رخ بھی کرتے۔ اس ملک میں دو طبقوں نے عوام کو صحیح معنوں میں لوٹا ہے ایک پیروں نے دوسرا وزیروں نے۔ ہماری اسمبلی میں کافی پیر وزیر موجودہیں جو سیاست سے کرپشن کا جن نکالنے کے نام پر آتے اور پھرا نہیں سیاسی جن ایسا چمٹتا ہے کہ سانس نکلنے پر ہی نکلتا ہے۔

ایک آخری قسم ایسے آزاد امیدواروں کی ہے جو اپنی ساری جمع پونجی امید پرالیکشن پر لگادیتے ہیں اور امید پوری نہ ہونے پر اپنے لیے خود عذاب بن جاتے ہیں۔ امیدوار سوچ سمجھ کر فیصلہ کریں۔ جتنا انہیں کمانے کی امید ہے کم از کم اس کاتین گنا لگانا پڑتا پھر کہیں جا کر امید بھر آتی۔سیاست امیروں کے لیے کاروبار اور آزادامیدواروں کے لیے جوا ء ہے جس میں جیت جائیں تب بھی نقصان اور ہار جائیں تب بھی۔


شیئر کریں: