Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلیٰ کی ملاکنڈ سمیت تین ریجن میں بڑے ہسپتالوں کے قیام کیلئے اقدامات اُٹھانے کی ہدایت

شیئر کریں:


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے ملاکنڈ ، ہزارہ اور ساوتھ ریجن میں تین بڑے ہسپتالوں کے قیام کو وقت کی اشد ضرورت قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ اس مقصد کے لئے موزوں زمینوں کی نشاندہی کرکے دو ہفتوں میں حتمی تجاویز پیش کی جائیں تاکہ ان ہسپتالوں کے قیام پر مزید پیش رفت کے لئے اقدامات اٹھائے جا سکیں۔ وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی ہے کہ مجوزہ ہسپتالوں کے لئے زمینوں کی نشاندہی ایسے مقامات پر کی جائے جو ان ریجن کے تمام اضلاع اور علاقوں کے لئے یکساں طور پرقابل رسائی ہو۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان نئے ہسپتالوں کے قیام کا مقصد پشاور کے تدریسی ہسپتالوں میں مریضوں کا بوجھ کم کرنا اور دور افتادہ علاقوں کو علاج معالجے کی تمام تر سہولیات اور خدمات کو ریجن کی سطح پر فراہم کرنا ہے۔


وہ منگل کے روز وزیراعلیٰ ہاو ¿س پشاور میں ہزارہ، ملاکنڈ، جنوبی اور پشاور ریجن میں نئے بڑے ہسپتالوں کے قیام کے حوالے سے ایک اہم اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ محکمہ ہائے صحت ، خزانہ اور منصوبہ بندی و ترقیات کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یہ ہسپتال پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت قائم کئے جائیں گے جن کے لئے زمین صوبائی حکومت فراہم کر ے گی۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ ہزارہ ریجن میں نئے ہسپتال کے قیام کے لئے مانسہرہ کے قریب 580 کنال سرکاری اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ وزیراعلیٰ نے مجوزہ سائٹس سے اصولی اتفاق کرتے ہوئے محکمہ صحت کو اس پر کام آگے بڑھانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ نہ صرف مانسہرہ بلکہ کوہستان اور بٹگرام کے عوام بھی اس منصوبے سے با آسانی مستفید ہو سکیں گے۔ وزیراعلیٰ نے حکام کو ہدایت کی کہ ملاکنڈ اور ساو ¿تھ ریجن میں اسی طرح کے موزوں زمین کی نشاندہی کی جائے تاکہ ان ریجنز کے تمام اضلاع کے عوام ان ہسپتالوں سے یکساں طور پر مستفید ہو۔ دریں اثناءاجلاس میں صوبائی دارالحکومت پشاور میں پہلے سے دستیاب زمین پر پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت ایک نئے ہسپتال کے قیام کابھی فیصلہ کیا گیا ۔ وزیراعلیٰ نے محکمہ صحت ، منصوبہ بندی، محکمہ خزانہ اور دیگر متعلقہ اداروں کو مل بیٹھ کر ایک ہفتے کے اندر مذکورہ ہسپتال کے قیام پر کام کا آغاز کرنے کے لئے حتمی اور قابل عمل ایکشن پلان پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔


شیئر کریں: