Chitral Times

Oct 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جمہوریت کا حسن……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


گیارہ جماعتی اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک الائنس اور حکومت ایک دوسرے پر این آر او مانگنے کے الزامات لگارہے ہیں دونوں کا موقف ہے کہ وہ کسی بھی قیمت پر این آر او نہیں دیں گے۔عام لوگ حیران اور پریشان ہیں کہ آخر یہ این آر او کیا بلا ہے۔ جو اپوزیشن حکومت سے اور حکمران اپوزیشن سے مانگ رہے ہیں اور دونوں یہ گوہر نایاب ایک دوسرے کو دینے پر تیار نہیں۔اور مقدس امانت سمجھ کر سینے سے لگارکھا ہے۔این آر او انگریزی اصطلاح نیشنل ری کانسی لیشن آرڈیننس(قومی مصالحتی قانون) کا مخفف ہے۔ یہ آرڈیننس سابق فوجی صدر جنرل پرویز مشرف نے 2007میں منظور کیا تھا۔ اس قانون کے تحت مفاہمت کی بنیاد پر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والی پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آنے کی اجازت دی گئی تھی۔ بے نظیر بھٹو کی سفارش پر خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرنے والے مسلم لیگ کے سربراہ اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کو بھی پاکستان واپس آنے کی اجازت مل گئی۔جنرل مشرف کا متعارف کردہ یہ آرڈیننس اتنا مقبول ہوگیا کہ آج حکومت اور اپوزیشن دونوں کی زبان پر این آر او ہی این آر او ہے۔

جب سے گیارہ جماعتی اپوزیشن اتحاد بناہے ملک کی سیاست میں موسم کی شدید سردی کے باوجود کافی گرماگرمی پائی جاتی ہے۔نظریاتی طور پر ایک دوسرے کے کٹر مخالف سیاست دان آج پی ڈی ایم کے پلیٹ فارم پر یک جاں گیارہ قالپ نظر آرہے ہیں یوں لگتا ہے کہ انہوں نے ماضی کی تمام تلخیوں کو یکسر بھلادیا ہے اور ایک نئے جذبے کے ساتھ سیاسی سفر کا آغاز کردیا ہے۔جے یو آئی جیسی سخت گیر نظریات والی جماعت کے قائدین کا پیپلز پارٹی جیسی سیکولر اور ترقی پسند جماعت کی قیادت کے ساتھ بیٹھنا اور کل تک ایک دوسرے کو سڑکوں پر گھسٹنے کی بات کرنے والوں کا آج بغل گیر ہونا بلاشبہ ملکی سیاست اور جمہوریت کے لئے ایک نیک شگون ہے۔ یہ بھی سننے میں آرہا ہے کہ بعض نادیدہ قوتوں نے متحارب سیاسی فریقوں کے درمیان مفاہمت کے لئے ٹریک ٹو مذاکرات شروع کردیئے ہیں شاید انہی مفاہمتی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے سینٹ اور قومی و صوبائی اسمبلیوں کی خالی نشستوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینے کی ٹھان لی ہے۔جس کی وجہ سے ان پارٹیوں میں سخت گیر موقف رکھنے والے ناراض ہوگئے ہیں.

دوسری جانب جے یوآئی کے سرکردہ رہنماؤں نے جب پارٹی قیادت کے بیانئے سے اختلاف کیا تو پی ڈی ایم کے صدر نے مولانا محمد خان شیرانی، حافظ حسین احمد، مولانا گل نصیب اور مولانا شجاع الملک کو پارٹی سے ہی نکال دیا۔آنے والے دنوں میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ سے بھی اہم سیاست دانوں کے پتے کاٹے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔حکومت کو اقتدار سے الگ کرنے کی تحریک کے دوران پارٹیوں میں باہمی اختلاف کچھ عجیب ہے، بعض لوگ اسے بھی جمہوریت کے حسن سے تعبیر کرتے ہیں۔پارٹیوں سے نکالے گئے ہم خیال لوگ اپنی الگ پارٹیاں بنائیں گے۔یوں ملک میں سیاسی قوتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔نئی پارٹیاں مرکزی، صوبائی، ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل سطح پر تنظیمیں بنائیں گی اس طرح سینکڑوں، ہزاروں لوگوں کو نیا روزگار ملے گا۔اوریوں تحریک انصاف کی طرف سے پانچ سالوں میں ایک کروڑ لوگوں کو روزگار فراہم کرنے کا وعدہ بھی پورا ہوتا نظر آرہا ہے۔ پارٹیاں زیادہ ہونے کا ایک نقصان یہ ہے کہ عوام کے لئے کھوٹے اور کھرے میں تمیز کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔

مسلم لیگ نام کی ملک میں آٹھ دس جماعتیں ہیں سب کا دعویٰ ہے کہ ان کا نسب 1906والی آل انڈیا مسلم لیگ سے ملتا ہے جس کی کاوشوں سے پاکستان بناتھا۔ پیپلز پارٹی بھی ممتاز بھٹو، غنویٰ بھٹو اور آفتاب شیرپاؤ کے الگ گروپ بنانے کی وجہ سے چار حصوں میں تقسیم ہوگئی، جمعیت علماء اب جے یو آئی ف، جے یو آئی س، جے یو آئی نظریاتی اور نئی ممکنہ جے یوآئی میں تقسیم ہونے جارہی ہے۔تحریک انصاف میں گلالئی نے رخنہ ڈال کر نئی پارٹی بنائی ہے۔تقسیم در تقسیم کا یہ عمل ابھی جاری ہے ایک وقت ایسا بھی آسکتا ہے کہ ہمارے ملک کے ہر شہری کی اپنی پارٹی ہوگی اور یوں جمہوریت کے حسن کا چارچاند لگ جائیں گے۔


شیئر کریں: