Chitral Times

Jan 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مہجورزیست ۔۔۔۔۔۔ توہم پرستی۔۔۔۔۔۔ازقلم:دلشاد پری بونی

شیئر کریں:

چترال کے طول و عرض میں آئے روز جادو ٹونے کرنے والوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔کوئی خود کو جنات کا حاکم ِتوکوئی خود کو پامسٹری کا ماہر تو کوئی خود کو پہنچے ہوئے عالم سمجھ کر سادہ لوح لوگوں کو لوٹتے ہیں کیونکہ لوگ جلدی ان کا یقین کر لیتے ہیں اور روز ان کے گھر کے گرد چکر کاٹتے رہتے ہیں۔کوئی ذہنی سکون کے لئے تو کوئی رزق کے لئے تو کوئی دشمنوں سے پناہ مانگنے کے لئے۔پھر کیا صحیح انسان بھی زہنی مریض بن جاتا ہے۔جب وہ جادو گر پہنچا ہوا صاحب انکھیں پھاڑ کے دم کرنا شروع کرتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں نے اپ پہ جادو کیا ہے،آپ کے کپڑوں پر جادو کیا گیا ہے اور جب اس شخص کی نشانی بتانا شروع ہوتا ہے کہ ایک لمبے قد کے گھنگھریالے بندے نے آپ پر جادو کیا ہے تو بندہ مہینوں ششں وپنچ میں رہتا ہے کہ یہ ہے آخر کون؟اپنے خون کے ہر رشتے کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔


ہم وسوسوں اور توہم پرستی میں اتنے اگے نکل چکے ہیں کہ انسانیت بہت پیچھے رہ گئی ہے۔ابھی تو باقاعدہ یہ کاروبار بن چکے۔روز کہیں نہ کہیں جنات کے حاکم پیدا ہوتے ہیں۔


جب رزاق،فتاح،قہار،جبار،کریم اور رحمن بھی رحیم بھی اللہ کی ذات ہے تو ہم اللہ کے بندوں سے مدد مانگتے کیوں ہیں؟جب کسی کے ساتھ اس معاملہ پر بحث کی جاتے ہے تو بہت اچھا جواب ملتا ہے کہ حضوررﷺرپر بھی کالاجادو نے اثر کیا تھا بے شک یہ بات ٹھیک ہے مگر ایسے جادو ٹونے سے بچنے کے لئے تو اللہ پاک نے قرآن پاک نازل فرمائی جس کی ایک ایک آیت کریمہ میں شفاء ہے تو پھر ان جادو پہ اندھا اعتماد کی ضرورت کیا ہے؟ابھی کسی کے ہاتھ سے کچھ لیتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے کیونکہ جب واسوسے دل میں جگہ لے تو انسان اپنوں میں بھی خامی ڈھونڈتا ہے اور دشمن سمجھنے لگتا ہے۔

گاؤں میں جب کسی ایک سے سنی جاتی ہے کہ فلاں پہنچا ہوا پیرہے تو پھر اس کے گھر کی طرف قطار لگ جاتی ہے۔افسوس تو اس بات پر ہے اس قطار میں اعلی تعلیم یافتہ لوگ بھی شامل ہیں۔جب کسی شخص کے اپنی کمزوری کی وجہ سے کوئی کام رہ جاتا ہے تو فوری طور پر بولتا ہے کہ مجھ پہ جادو کرکے مکمل باندھا گیا ہے اسلئے میں دن بدن کاہل ہو رہی،ا۔

یک دفعہ مجھے بھی جنات کے حاکم کے پاس جانے کا اتفاق ہوا۔مجھے ویسے بھی یقین نہی ان چیزوں پر پھر بھی تجربہ حاصل کرنے جب وہاں پہنچی تو دیکھا وہاں لوگوں کا اتنا ذیادہ رش تھا کہ اگر میں وہاں خود کو جنات کے سائے والی مریض نہ بناتی تو شاید مہینوں بعد میری باری اجاتی، حسب معمول وہی باتیں کی آپ پہ بورٰی بھر کے تعویز کیا ہے گاؤں کے گھنگھریالے بالوں والے آدمی نے۔کچھ دنوں بعد میری سہیلی گئی تو اس کو بھی یہی کہا۔آج تک ہم وسوسوں میں گھر کے وہ آدمی ڈھونڈ رہے مگر اس کا نام و نشان بھی نہی۔ہم سے توہم پرستی آہستہ آہستہ ہماری نسلوں میں منتقل ہو رہے اور ہمیں اس بات کا اندازہ بھی نہی۔یہ سوسوسے دلوں میں کدورت۔نفرت اور دوریاں پیدا کرتے ہیں اور سادہ خواتین تو اس بات کو سنجیدہ لیکر سب کو اپنا دشمن مان کے دنگا فساد برپا کرتے ہیں۔استدعا ہے کہ ہم سب کو اپنے زہنوں پر سوار ان وسوسوں سے نجات حاصل کرکے خدا تعالی کی ذات پہ کامل یقین رکھنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہو۔


شیئر کریں: