Chitral Times

Jan 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عوام کی امانت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اے۔ایم۔ خان

شیئر کریں:

ہر سیاسی جماعت الیکشن میں حصہ لیتا ہے ، الیکشن میں سیاسی اتحاد میں شامل ہوجاتے ہیں ۔ کسی بھی اسمبلی کا ممبر ، اگر وہ آزاد اُمیدوار نہ ہو، کسی اتحاد میں شامل ہونے یا نہ ہونے ، پارٹی کے ساتھ یا دوسرے پارٹی کے ساتھ  ووٹ دینے کے حوالے سے پارٹی یا رہنما جو فیصلہ کرتا ہے  اسکو قبول کر لینا پڑتا ہے۔ ہمارے ملک میں پارٹی سے زیادہ طاقتور رہنما ہوتی ہے۔

 ہر  سیاسی جماعت کے اپنے ووٹرز ہوتے ہیں، اور جو پارٹی کی طرف سے الیکشن کیلئے نامزد ہوتا ہے اسے پارٹی کا ووٹ مل جاتا ہے۔ اور عوامی لوگ جو بھی ہوتے ہیں اُن کے اپنے ووٹ بھی ہوتے ہیں۔  ہر ایک سیاسی پارٹی سیاسی حالات کو دیکھ کر کسی حلقے یا حلقون میں متفقہ طور پر ساتھ الیکشن کے لئے نمائندے نامزد کرتے ہیں۔

 متحدہ مجلس عمل [ایم۔ایم۔اے] کے نام پر الیکشن کے لئے سیاسی اتحاد وجود میں آئی،اور چترال سے 2002 کے الیکشن میں ایم۔ایم۔اے سے قومی اسمبلی کے نشست پرمولانا عبدالاکبرخان نے 36130 اور صوبائی اسمبلی کے نشستون پر مولانا عبدالرحمن21325 اور مولانا جہانگیر خان 11229ووٹ لے کر اس رائے شماری میں کامیاب ہوئے۔

جب پاکستان میں ۲۰۱۸ کے الیکشن ہونے جارہے تھے ایک بار پھر ایم۔ایم۔اے کی تشکیل ہوئی جس میں جماعت علماء اسلام ف اور جماعت اسلامی کے علاوہ تین اور پارٹی  اس اتحاد میں شامل رہے۔

 تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو پاکستان میں مذہبی جماعتوں کا ووٹ چھ فیصد سے زیادہ نہیں رہا جبکہ یہ تناسب ۲۰۰۲ ء کے الیکشن میں ۱۱ فیصد تک پہنچ گئ اور2018  کے الیکشن میں یہ تناسب ۹ فیصد رہا۔ [کسی نے اسٹیفن کوہن کی کتاب پڑھی ہو تو وہاں  2002 کےالیکشن کا ایک اور نقشہ دی گئ ہے جوکہ اس کالم سے متعلق نہیں]

2018کے الیکشن میں  ایم۔ایم۔اے کو الیکشن کیلئے  دوبارہ زندہ کیا گیا اور چترال میں ، اس الیکشن میں جماعت علماء اسلام فضل اور جماعت اسلامی کے متفقہ اُمیدوار، ایک بار پھر الیکشن لڑنے کے لئے سامنے آئے تو پہلے الیکشن کے پس منظر میں اس الیکشن کو دیکھ کر  چترال میں  ایک سیاسی بےچینی  بھی پھیلی، بہرحال

  الیکشن کے بعد جب نتائج  آئے تو چترال کے قومی اسمبلی کے حلقے سے مولانا عبد الاکبر چترالی 48616 ووٹ لے کر جیت چُکا تھا اور صوبائی اسمبلی کے سیٹ [ جوکہ اس الیکشن سے پہلے دو حلقے ہوا کرتے تھے] پر مولانا ہدایت الرحمن نے 46050۰ ووٹ لے کر صوبائی نشست میں کامیابی حاصل کی۔

قارئین کو معلوم ہے کہ اب پاکستان جمہوری اتحاد [پی۔ڈی۔ایم]  کا حکومت کے خلاف ایک تحریک جاری ہے جوکہ کئی ایک مراحل اور جلسہ جلسون کے بعد اب حسب اختلاف کے جماعتوں کا ایک موقف یہ بھی سامنے آیا ہے کہ وہ حکومت کو گرانے کیلئے اسمبلیوں سے استعفا ء دیں گے تو ملک میں دوبارہ الیکشنز ہوں تاکہ ، اُن کے مطابق ، اس نااہل اور ناجائز حکومت سے نجات مل سکتا ہے۔

اس پس منظر میں  پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان پیپلز پارٹی کے علاوہ اب چترال سے صوبائی اسمبلی کا منتخب نمائندہ مولانا ہدایت الرحمن ، گوکہ وہ جماعت علماء اسلام ف کی سیٹ میں الیکشن لڑا تھا، ایک لیڑ کے ذریعے اپنا استعفاء پارٹی رہنما کو پیش کی ہے کا اقتباس کچھ یُوں ہے:

” پاکستان میں جنرل الیکشن 2018 میں آپ نے مجھ پر اعتماد کرتے ہوئے پارٹی ٹکٹ سے نوازا تھا جس پر میرے حلقہ پی۔کے ون چترال کی عوام نے جیت کی صورت میں ہماری جماعت پر اعتماد کا اظہار کیا۔ یہ ٹکٹ جمیعت علماء اسلام کی امانت ہے جس کو آپ کے حکم کے مطابق آپ کے پاس استعفی کی صورت میں پیش کرتا ہوں”۔

یہ سب قارئیں کو معلوم ہے کہ یہ نہ صرف ہمارے مولانا صاحب  ہیں بلکہ اکثر جماعتوں سے منتخب اُمیدوار  اپنے رہنما کے “حکم کے مطابق” استعفی پیش کرینگے ۔ ایک سوال ہے جسکا جواب کیا ہوسکتا ہے وہ سمجھ نہیں آرہا وہ یہ کہ  اگر پارٹی کے ٹکٹ جسے بھی ملے وہ “امانت” ہے  تو ایک خاص حلقے میں عوام کے ووٹ کی صورت میں “اعتماد” یعنی کسی اُمیدوار کو کامیاب کیا جاتا ہے  اس کے ملے جانے والے ووٹ عوامی امانت نہیں؟ اور کیا ایک حلقے میں عوامی نمائندہ ، بے شک وہ ایک پارٹی کا کارکن ہو، جس پر اعتماد کرکے ووٹ دیا ہو اُسکا اظہار کیا اسطرح ہوتا ہے  یا کوئی طریقہ بھی ہوسکتا ہے جس سے وہ پارٹی کی امانت کی لاج بھی رکھے اور عوامی ووٹ کی وقعت؟ چترال سے صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر ، مولانا ہدایت الرحمن نے الیکشن لڑی اور 46050 لوگوں نے اُسے ووٹ سے جیت دلا دی،  اب مولانا صاحب نے پارٹی کو اُسکی امانت واپس کی اب عوام کو اُسکی امانت کسطرح واپس کرتی ہے یہ مولانا کیلئے بہت مشکل مرحلہ بن گئی ہے۔

MPA pk 1 chitral Hidayatur rehman resignation

شیئر کریں: