Chitral Times

May 14, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تلخ و شیریں ۔۔۔۔۔ دخترِ مشرق ۔۔۔۔ ابو سدرہ

شیئر کریں:

آج سے ٹھیک تیرہ سال پہلے یہی وقت تھا کوئی سات بجے کے قریب کا وقت۔ فضاء میں ہلکی پھلکی خنکی تھی۔ تاریخ اگرچہ ستائیس ہی تھی لیکن دن اتوار کا نہیں تھا۔ جمعرات گزر کر شب جمعہ کا آغاز ہو چکا تھا۔جمعرات کے عصر کو دینی مدارس کی ہفتہ وار چھٹی ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے مدارس میں زیر تعلیم طالب علموں کا ویک اینڈ ہی سمجھیے۔ چھٹی کی وجہ سے کراچی والےطلباء اپنے گھروں کو جا چکے تھے۔ مدرسے میں سکونت پذیر  طلباء بعض رشتہ داروں سے ملنے گئے یا پھر دیگر مدارس میں زیر تعلیم دوست احباب کے پاس۔اور بعض مدرسے میں ویک اینڈ گزار رہے تھے۔ میں مغرب کی نماز کے بعد دارالعلوم  کے دارعثمان کی تیسری منزل پر وضوء خانے کے بالمقابل واقع اپنے کمرے میں بیٹھ کر ضربِ مؤمن اخبار پڑھنے ابھی بیٹھ ہی گیا تھا کہ تریچ سے تعلق رکھنے والے ایک ساتھی کمرے میں داخل ہوتے ہی گویا ہوئے کہ بینظیرو ماریتانی۔ سنتے ہی دماغ پر بے چینی اور چہرے پر افسردگی چھا گئی۔ میرا اضطراب دیکھ کر دوست مجھ سے کہنے لگا اچھا کیا،طالبان کے خلاف بیانات دے رہی تھی۔ 

         یہ وہ دور تھا جب تحریکِ طالبان پاکستان نے بیت اللہ محسود کی قیادت میں نئی نئی آنکھ کھولی تھی۔ جامعہ حفصہ پر ریاستی درندگی کا نتیجہ اس نئی نویلی تحریک کے رسوخ و فروغ کی شکل میں ظاہر ہوا تھا۔ بعد میں اس تحریک کا کیا بنا رواں بحث سے خارج ہے۔ بہرحال بے نظیر کی شہادت کی خبر ملک بھر میں جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔جیالوں کے غیظ و غضب کا ایسا سیلاب امڈ آیاکہ راستے میں ٹکرانے والی ہر چیز چور چور ہو کر رہ گئی۔ ایسے مواقع سے فوائد کشید کرنے والے حرکت میں آ گئے۔ سڑکوں پر ٹائر جلے، لوٹ مار مچی، لاقانونیت بے لگام ہو گئی۔ ہر طرف نقصان ہی نقصان راج کرتا دکھائی دیا۔ 

نیم شکستہ جذبات کے ساتھ میں ابھی سونے کا ارادہ باندھ رہا تھا کہ کوریڈور کی جالیوں سے نظر باہر گئی غور کیا تو دارالعلوم کے مغربی طرف شرافی گوٹھ کی ایک فیکٹری سے آگ کے شعلے بلند ہو رہے ہیں۔ یہ فقط ایک بندے کی فیکٹری نہیں جل رہی تھی بلکہ یہاں کام کرنے والے ہزاروں لوگوں کا روزگار جل کر راکھ کا ڈھیر بن رہا تھا۔ فیکٹری کی جسامت اور نقصان کے حجم  کا اندازہ اس بات سے لگائیے کہ اگلے دن جب میں جمعے کی نماز کے لئے کمرے سے نکل رہا تھا تو فیکٹری سے دھواں فضاء میں بلند ہونا بند نہیں ہوا تھا۔ آگ ضرور بجھی تھی پر دل جلانے کے لئے دھویں کے مرغولے اب بھی چکر کاٹ رہے تھے۔ شکر ہے کہ اب زمانے کے ساتھ ساتھ ہمارے لوگوں میں بھی ملّی نفع ونقصان کا شعور آ گیا ہے۔ ورنہ پہلے ایسے مواقع پر جلاؤ گھیراؤ سے ہاتھ کھینچنا بزدلی کے مترادف سمجھا جاتا تھا۔ برسبیل مزاح ان دنوں میرے پاس ایک عدد پرانی پھٹیچر سائکل ہوا کرتی تھی۔ پرانی اتنی تھی کہ دس پیڈل مارو تو بمشکل پانچ میٹر چلتی تھی بلچ سے تعلق رکھنے والے ہمارے دوست نعیم دار علوم کے کینٹن کے سامنے سبزہ زار میں بیٹھ کر دوستوں کے ہجوم میں کہا کرتا کہ خدا نخواستہ مولانا فضل الرحمان صاحب پر حملہ ہو جائے تو نثار احتجاجاً اپنی یہ والی سائکل جلا دے گا۔ مطلب اس دور میں ایک نقصان ہونے پر مزید نقصان کرنا ہمارے عمومی قومی مزاج کا جزوِ لاینفک ہوا کرتا تھا۔ 

ستائیس دسمبر دو ہزار سات سے پہلے دسمبر کی پہچان شاید دسمبر کی سرد راتوں سے جڑی شاعری ہی ہوتی ہو گی اب دسمبر سے ایک عظیم سیاسی لیڈر کھو دینے کی تلخ یادیں بھی وابستہ ہو چکی ہیں۔ دخترِ مشرق موقع پرست سیاست کار نہیں بلکہ ایک بلند پایہ کل وقتی نڈر سیاستدان تھیں۔ عظیم سیاسی خانوادے میں تولد و نشو و نما پانے کی وجہ سے سیاسی نزاکتوں سے کما حقہ واقف ہی نہیں تھیں بلکہ جمہور کی بالادستی کے لئے کی جانے والی جدوجہد کے نتائج سے آگاہ بھی۔ سیاست بھی وراثت میں ملی تھی اور قیادت بھی۔ لیکن آپ نے قیادت کے لئے درکار صلاحیتوں سے خود کو متصف کرنے میں دیر نہیں لگائی۔ جبر و استبداد کے خلاف سیاسی محاذ پر ڈٹے، صعوبتیں جھیلیں، تکالیف برداشت کیں۔ یہاں تک کہ جمہور دشمن سامراجی قوتوں نے آپ کو ابدی نیند سلایا۔رحمہا اللہ۔۔۔

 بی بی آج آگر آپ زندہ ہوتیں تو شاید پاکستان میں جمہوریت اتنی پسپا اور پامال نہ ہوتی۔ آج برسی کے موقع پر پیپلز پارٹی والوں سے اظہارِ تعزیت کر کے بے نظیر بھٹو کی شخصیت گھٹانا نہیں چاہتا۔ آپ کا قتل ہر باشعور جمہوریت پسند کے لئے باعث رنج ہے۔ صرف ایک پارٹی یا چند لوگوں کے لئے نہیں۔۔ 


شیئر کریں: