Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرنل مراد اور شہزادہ محی الدین کی چترال کیلئے خدمات…تحریر: کیپٹن (ر) سلطان الدین

شیئر کریں:

col murad and shahzada mohiuddin chitral

ماہ رمضان المبارک 31مئی 1985ء بروز جمعہ المبارک بعمل صبح5 بجے اچانک روس کے لڑاکا طیارے دروش چھاونی پر بمباری کے عرض سے سرزمین دروش کے فضا میں منڈلانے لگے تو چترال سکاوٹس کے بہادر اور چاق وچوبند جوانوں نے طیارے شکن گنوں کے منہ کھول دئیے تولڑکاطیاروں کو چھاونی کے حدود میں آنے کی جرات نہ ہوسکی۔ پھر بھی دشمن اپنا مذموم ارادے سے باز نہ آتے ہوئے سول آبادی پر بمباری شروع کردی۔ خاص کردروش سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر واقع گاوں سوئیر پر زبردست بمباری کی جس کے نتیجے میں چھ مقامی باشندے شہید اور متعددزخمی ہوئے۔زخمیوں کو سول ہسپتال دروش اور سکاوٹس ہسپتال دروش لایا گیا۔ جہاں زخموں کا علاج معالجہ کیاگیا۔


اس وقت سول ہسپتال دروش کی حالت نہایت ابترتھی۔ اس کے باوجود ڈاکٹر فداعزیز الدین نے زخمیوں کی فرسٹ ایڈ نہایت جان فشانی سے سرانجام دی۔ جس کا اعتراف کرتے ہوئے اُس وقت کے صدر مملکت جنرل ضیاٗالحق اپنے دورہ چترال کے دوران ڈاکٹر فدا کو شاباشی دی۔

President of Pakistan Gen. Zia Shandur-Chitral visit-1986-pic Comd-Col.Murad fb
President of Pakistan Gen. Zia Shandur-Chitral visit-(Drosh)-pic Comd-Col.Murad fb

اس ہنگامی صورت حال میں جب صدر مملکت جنر ل ضیاالحق اور گورنر سرحد (خیبرپختونخوا) لیفٹنٹ جنرل فضل چترال تشریف لائیے تو کمانڈنٹ چترال سکاوٹس لیفٹنٹ کرنل مراد خان نیئر (مرحوم) نے صدر مملکت کو بریفنگ دیتے ہوئے چترال کی جعرافیائی اور دفاعی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے چترال سکاوٹس کے جوانوں کو بڑھانے کی درخواست کی۔ توصدر مملکت نے بروقت چترال سکاوٹس کیلئے چار ونگ کی منظوری کے ساتھ ساتھ مقامی جوانوں پر مشتمل ایک ہزار جانباز فورس اورایک ہزار مجاہد فورس کی منظوری بھی دیدی۔ تاہم چند اعلیٰ سرکاری افسران کی مخالفت سے یہ معاملہ تقریبا ایک سال تک التوا کا شکار رہا۔

جون 1986 میں شندور پولو فیسٹول کے موقع پر جب صدر مملکت جنرل ضیاء الحق تشریف لائے تو موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اُس وقت کے ایم این اے شہزادہ محی الدین نے صدر مملکت سے نہ صرف براہ راست اس معاملے کو اُٹھایا بلکہ مقامی باشندوں کو بھرتی کرنے کی بھی پرزور مطالبہ کیا۔

col murad late gen zia chitral shandur
President of Pakistan Gen. Zia Shandur-Chitral visit-1986-pic Comd-Col.Murad fb

صدر مملکت نے موقع پر ہی ایم این اے شہزادہ محی الدین کے ساتھ وعدہ کرکے مذکورہ مطالبے کی نہ صرف منظوری دی بلکہ جلد از جلد اس پر عمل درآمد کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی۔

کچھ عرصے کے بعد صدرمملکت نے اپنے کئے ہوئے وعدے کے مطابق مقامی جوانوں پر مشتمل چترال سکاوٹس کیلئے چار ونگ کا اضافہ کیا۔ اور جانباز و مجاہد فورس کیلئے ایک ایک ہزار جوانوں کو بھی بھرتی کیاگیا۔
اس طرح ایم این اے شہزادہ محی الدین اور کرنل مراد نیئر کی کاوشوں سے مذکورہ فورس کی تشکیل پایہ تکمیل کو پہنچا۔ اور صدر مملکت جنر ل ضیا الحق چترال کے عوام کے ساتھ کیا ہوا اپنا وعدہ پورا کیا۔

مگر افسوس صد افسوس کہ بعد میں آنے والی پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت نے مذکورہ مجاہد اورجانباز فورز کو ختم کرکے چترال کے دو ہزار جوانوں کو بے روزگار کردیا۔ بلکہ یوں کہا جائے کہ چترالی عوام کے ساتھ ناانصافی کی انتہاکردی۔

تحریر: کیپٹن (ر) حاجی سلطان الدین چوئنچ مستوج


شیئر کریں: