Chitral Times

Jan 19, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال کو فیڈرل ترقیاتی فنڈز میں نظر انداز کرنے پرمولانا چترالی نے پشاور ہائی کورٹ میں پٹیشن دائیر کردی

شیئر کریں:

پشاور(چترال ٹائمز رپورٹ)چترال کے دونوں اضلاع کو فیڈرل ترقیاتی فنڈز (SAP) میں مسلسل نظر انداز کرنے کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائیر کردی گئی۔رٹ پٹیشن سٹنگ ایم این اے۔ این اے ون چترال مولانا عبدالااکبر چترالی کی طر ف سے (ر) جسٹس ملک غلام محی الدین ایڈووکیٹ نے جمع کرادی۔ رٹ پٹیشن میں وفاقی حکومت SAP پروگرام کے چیئرمین پرویز خٹک ایڈیشنل چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا اور پروجیکٹ مینجر (SDU) کو فریق بنایا گیا ہے۔ رٹ پٹیشن میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ SAP پروگرام کا مقصد پسماندہ علاقوں سے غربت کا خاتمہ اور ان علاقوں کو 2030 تک ترقی دے کر دیگر ترقی یا فتہ علاقوں کے برابر لانا ہے۔ لیکن موجودہ حکومت کے دورمیں یہ فنڈز سیاسی بنیادوں اور ممبران کے ضمیر خریدنے کیلئے استعمال ہو رہے ہیں۔ خیبرپختونخوا کیلئے اب تک 16 ارب 65 کروڑ روپے کے لگ بھگ فنڈ ز ریلیز ہونے کے باجود چترال لوئیر اور اپر کو مسلسل نظر انداز کیا گیا ہے۔ جبکہ صوبے میں سب سے زیادہ سڑکوں کی تعمیر کی ضرورت ضلع چترال کے دونوں اضلاع کو ہے۔ لیکن اب تیسری بار بھی چترال کو محروم رکھنا آئین پاکستان میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کا کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔ لہذا عدالت عالیہ پشاور فوری اس کا نوٹس لے اورحالیہ SAP کے تحت ریلیز کئے گئے 5 ارب 55 کروڑ روپے کو پی۔ ٹی آئی کے حلقوں میں تقسیم ہونے سے روکے اورسٹے آرڈر جاری فرمائے اور تمام حلقوں میں یکساں تقسیم کرنے کا حکم جاری کرے اورضلع چترال کے دونوں ا ضلاع کو ان کا حق دلائے۔


شیئر کریں: