Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

سماجیات …… موجودہ دور کے ضیف العمر بزرگوں کے مسائل….محمد افضل چترالی

شیئر کریں:

معاشرہ انسانی کے اپنے اپنے خوبصورت رنگ ہیں جیساکہ پھول جیسے بچے, چاند کے مانند جوان, امیدوں کے ستارے مرد, خوشبو بکھرنے والی خواتین اور کنبے کو رونق بخشنے والے بزرگ, جن کی موجودگی کسی انمول سرمایہ سے کم نہیں- اسی طرح جب میں اپنے بچپن کو یاد کرنے لگتا ہوں تو زندگی کا سب سے خوشگوار حصّہ بزرگوں کی شفقت, ان کی مخصوص انداز, شرین سخن اور مخصوص انداز میں سنانے والی تجربات اور واقعات ہیں- ان کے پاس بیٹھ جاؤ تو دل کرتا کہ کاش دنیا یہیں تھم جائے اور ان کو سنتے ہی رہیں- پھر ہوا یہ کہ ہم جوان ہوئے اور اب تک زندگی کے نہ ختم ہونے والی ضروریات اور خواہشات کے سفر پر سرگرداں ہیں-

نئی نسل کی بدقسمتی کہ وہ بزرگوں کے سایہ اور تجربات سے محروم ہوتے جارہے ہیں- اول تو بزرگوں کی کمی, دوئم جب سے ٹیلیویژن خاندان کا حصہ بنا ہے بزرگوں کیلئے تنہائی لیکر آیا ہے لیکن جب سے سمارٹ موبائل کی آمد ہوئی ہے بزرگ تو کیا خاندان کا ہر فرد جس جس کے ہاتھ میں موبائل ہے اپنی زندگی میں مگن ہے اور کسی کو نہیں پتہ کہ ارد گرد کیا ہورہا ہے- اس چھوٹے سے بکس دنیا کو تو سمیٹ کر “گلوبل ویلیج” میں تبدیل کردیا ہے لیکن ساتھ ساتھ خاندان اور باہمی گفت و شنید کو پارہ پارہ کردیا ہے- بالخصوص کنبے کا سہارا زندگی بھر خاندان کی تعمیرو ترقی کیلئے قربانیاں دینے کے بعد گھر کے ایک گوشے میں سکھی لکڑی اور خالی کھمبے کی طرح تن تنہائی کا بری طرح شکار ہوچکا ہے- کیونکہ کچھ بزرگوں کو ٹیلی ویژن کی زبان نہیں سمجھ آتی, کچھ کو بینائی کا مسئلہ اور کچھ کو بصارت کی نعمت سے محرومی کا سامنا ہوتا ہے- غرض یہ کہ جملہ مسائل کی وجہ سے شدید جنریشن گیپ کا ماحول پروان چڑھ رہا ہے اور بزرگ خاندان کے اہم اکائی ہونے کے باوجود غیر فعال پرزہ کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں-


مغربی ممالک اور ملک کے شہری علاقوں میں”اولڈ ہومز” کا نظام بزرگوں کی متبادل پناہ گاہ کے طور پر متعارف ہو چکا ہے- لیکن دیہی علاقوں میں اس حوالے سے مشترکہ خاندانی نظام کو معاشرےکا مضبوط اور موثر اثاثہ قرار دیا جارہا تھا جو اتفاق, اتحاد اور یکجہتی کا مظہر ہے- مشترکہ خاندانی نظام میں کنبے کو یکجا اور متحرک رکھنے میں بزرگوں کا کردار اہم سمجھا جاتا تھا لیکن جیسے ہی مشترکہ خاندانی نظام کمزور ہوتا جارہا ہے بزرگوں کا کردار کمزور اوران کی مشکلات میں اضافے کا باعث بنا ہے- مشاہدے میں آرہا ہے کہ نئی نسل بزرگوں کے حقوق سے بالکل ناآشنا ہے اس لئے ماں باپ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس خلا کو پر کرنے کیلئے نہ صرف اپنی ذمہ داریاں پوری کریں بلکہ اپنے بچوں کو بزرگوں کے حقوق سے متعلق اگاہی فراہم کریں- ان کو باور کرانا ہوگا کہ بزرگوں کی خوشی اور دعائیں نوجوان نسل کی کامیابی کی ضمانت ہے- جدید ابتدائی تعلیم یعنی Early Childhood Education Development کو بچوں کی تعلیم و تربیت کیلئے نصاب کا موثر حصّہ تصورکیا جاتا ہے, جس میں خاندان, بزرگوں کی اہمیت, ان سے باہمی گفتگو اور سنائے جانے والی کہانیوں کو بچوں کی پرورش کا بہترین ذریعہ قرار جاتا ہے-

اس حقیقت کے پیش نظر ہمیں اولاد کے فرائض, بزرگوں کے حقوق اور افادیت, ضروریات, خواہشات اور جذبات کا ہر لحاظ سے خیال رکھنا ہوگا تاکہ اسلامی اور سماجی اقدار کی روشنی میں بزرگ شہریوں کو اپنی زندگیوں کو گزارنے میں آسانی ممکن ہوسکے- بلاشبہ بزرگوں کی خوشی میں رب کی خوشی پنہاں ہے- اسلام نے بزرگوں کے حقوق کو واجب قرار دیا ہے جو اولاد اور رشتہ داروں پر عائد کر دیا گیا ہے- لیکن موجودہ دور میں ضروریاتِ زندگی اور ترجیحات بدلنے کی وجہ سے اولاد کو حصولِ روزگار کیلئے گھر سے باہر اندرون یا بیرون ملک جانا پڑتا ہے اور زندگی اس طرح مصروف ہو چکی ہے کہ کہ اولاد کو اپنے ضعیف العمر رشتوں کیساتھ کچھ لمحات گزارنے کی فرصت نہیں ملتی- لیکن اس حقیقت کو مد نظر رکھنا ہوگا کہ انسان چاہے کتنا ہی مادی وسائل حاصل کرلے, سکون نہیں پا سکتا اور نہ ہی مادی سہارے ضعیفوں اور بزرگوں کی تسکین قلب کا سامان کرسکتے ہیں-

مشرقی تہذیب بزرگوں کو آنکھوں پر بٹھانا, ان کی خدمت کو دنیا اور آخرت میں باعث سعادت اور نجات تصور کیا جاتا تھا اور ان کے ساتھ حسنِ سلوک کرکے دعائیں وصول کی جاتی تھی لیکن یہ صورتحال اب تیزی سے زوال پذیر ہے, جس کی مختلف وجوہات کا اِظہار ہو چکا لیکن پھر بھی ضرورت اس امر کی ہے کہ ان تمام توجہیات کے باوجود ہمیں ہر ممکن طور پر اپنے خاندان اور معاشرے کے ضعیف العمر طبقہ کا ہر طرح سے خیال رکھنا ہوگا- نئی نسل کو یہ باور کرانا ہو گا کہ زندگی مکافات عمل ہے, کل کو انہیں بھی اس ضیف العمری کا مزہ چکھنا ہے, کہیں ایسانہ ہو کہ ان کی اولاد بھی عمر کے اس آخری حصے میں انہیں تنہا نہ چھوڑ جائیں-


شیئر کریں: