Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جزاوسزا سے عاری معاشرہ۔۔۔۔۔۔محمد شریف شکیب

شیئر کریں:

قومی احتساب بیورو نے اپنی بیس سالہ کارکردگی رپورٹ جاری کردی۔ اس عرصے میں نیب نے مجموعی طور پر 714 ارب روپے کرپٹ افراد سے برآمدکرنے کا دعویٰ کیا ہے۔نیب کو 4 لاکھ 75 ہزار سے زائد کرپشن کی شکایات موصول ہوئیں۔ ہڑپ کی گئی رقوم کی رضا کارانہ واپسی اور پلی بارگین کے ذریعے 69 ارب روپے وصول کئے گئے، بینک قرض نادہندگان سے 121 ارب، عدالتی جرمانوں کی صورت میں 44 ارب اور بالواسطہ طور پر 402 ارب روپے وصول کرکے قومی خزانے میں جمع کرائے گئے اس وقت نیب میں کرپشن، اختیارات کے غیر قانونی استعمال اور ناجائز طریقے سے اثاثے بنانے کے 930 کیسوں کی انکوائریاں اور 346 انوسٹی گیشن جاری ہیں جبکہ 1247 مقدمات عدالتوں میں زیرسماعت ہیں۔

قومی احتساب بیورو نے اپنی کارکردگی رپورٹ ایسے موقع پر جاری کی ہے جب اس پر مختلف اطراف سے تابڑ توڑ حملے کئے جارہے ہیں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے گذشتہ روز ایک مقدمہ کی سماعت کے دوران اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ چیئرمین نیب کے سوا کسی کو قومی احتساب بیورو کی کارکردگی کی تعریف کرتے نہیں دیکھا۔دوسری جانب اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جماعتیں بھی نیب کی کاروائیوں کو انتقامی قرار دیتے ہوئے اس ادارے کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔وزیراعظم نے انکشاف کیا ہے کہ اپوزیشن نے 38نیب قوانین میں سے 34میں ترمیم کی تجویز دی ہے ان تجاویز کو قبول کرنا نیب کو دفن کرنے کے مترادف ہے۔

چیئرمین نیب جسٹس ریٹائرڈ جاوید اقبال تواتر کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ نیب کا کسی شخصیت، پارٹی، فرقے یا گروہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ نیب کا پہلا اور آخری مقصد پاکستان کو کرپشن سے پاک کرنا ہے۔یہ حقیقت ہے کہ جس معاشرے میں جزاو سزا کا فعال نظام نہ ہو۔ اس معاشرے کو کرپشن کی دیمک چاٹ کر کھوکھلا کردیتی ہے۔ جزاوسزا کے تعین، ظلم و ناانصافی کے خاتمے اور عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی کے لئے ملک میں ایک مربوط عدالتی نظام قائم ہے لیکن نظام انصاف میں جھول، عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بڑھنے اور عدلیہ میں سیاسی مداخلت کی وجہ سے عام آدمی کے لئے انصاف کا حصول جوئے شیر لانے کے مترادف بن چکاہے۔نواز شریف کے دور حکومت میں کرپشن کیسز کو نمٹانے کے لئے احتساب کمیشن قائم کیاگیا۔ جس پر سیاسی انتقام کے ادارہ کا ٹھپہ لگ گیا۔

2000میں جنرل پرویز مشرف نے کرپشن کی روک تھام کے لئے قومی احتساب بیورو کا ادارہ قائم کیا۔سیاسی حکومتوں نے اس ادارے کو بھی سیاسی انتقام کا ذریعہ بنانے کی کوشش کی۔ آج سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف کرپشن کے جتنے مقدمات چل رہے ہیں وہ مسلم لیگ کے دور حکومت میں قائم کئے گئے تھے۔ میاں نواز شریف، شہباز شریف، اسحاق ڈار اور دیگر مسلم لیگی رہنماؤں کے خلاف کرپشن کے جو مقدمات آج احتساب عدالتوں، ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں چل رہے ہیں وہ پیپلز پارٹی نے ان کے خلاف دائر کئے تھے۔پیپلز پارٹی جب اپوزیشن میں تھی تو وہ مسلم لیگ پر نیب کو سیاسی انتقام کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگاتی رہی ہے اور مسلم لیگ جب اپوزیشن میں تھی تو پیپلز پارٹی کو انتقامی سیاست کا مورد الزام ٹھہراتی رہی ہے۔اب جبکہ دونوں سابق حکمران جماعتیں اپوزیشن میں ہیں تو انہوں نے حکمران جماعت پی ٹی آئی پر نیب کو انتقامی کاروائیوں کے لئے استعمال کرنے کا الزام لگانا شروع کیا ہے۔

پی ڈی ایم میں شامل دیگر نو اپوزیشن جماعتیں بھی طبلے پر سنگت کررہی ہیں۔ عنان حکومت خواہ پی ٹی آئی کے پاس ہو، مسلم لیگ یا پیپلز پارٹی کے ہاتھ میں ہو۔ ملک سے کرپشن کی روک تھام بہر حال ہر حکومت کی اولین ذمہ داری ہونی چاہئے۔کیونکہ کرپشن کے مرض نے اس ملک کے انتظامی، سیاسی، معاشی اور سماجی ڈھانچے کو سرطان زدہ کردیا ہے۔کرپشن میں صرف سیاست دان ہی ملوث نہیں، اس موذی مرض نے زندگی کے ہر شعبے کو متاثر کیا ہے۔اور پوری دنیا میں ہمیں کرپٹ قوم کے طور پر جانا جاتا ہے۔قوم کے ماتھے سے کرپشن کے بدنما داغ کو مٹانا تمام سیاسی جماعتوں اور اداروں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔کرپٹ افراد کسی جماعت میں ہوں، حکومت میں شامل ہوں، کسی ادارے میں ہوں، ان کا قلع قمع کرنا قومی مفاد کا تقاضا ہے۔ جس کے لئے ضروری ہے کہ نیب کے ڈھانچے کو نقائص سے پاک کرکے اسے مزید بااختیار اور مضبوط بنایا جائے۔نہ کہ اس کو ختم کرنے کی تحریک چلائی جائے۔جب عمرفاروق رضی اللہ عنہ خود کو بھرے دربار میں احتساب کے لئے پیش کرتے ہیں تو ہمارے سیاسی اکابرین کی فاروق اعظم کے سامنے کیا اوقات ہیں؟


شیئر کریں: