Chitral Times

May 29, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

چترال یونیورسٹی کی موجودہ عمارت کی اصل کہانی..تحقیق و تجزیہ: فخرالدین اخونذادہ

شیئر کریں:


چترال یونیورسٹی کے لیے سیدآباد کی بارہ کروڑ مالیت کی166کنال پر مشتمل خردی ہوئی زمین کو چھوڑ کر سین لشٹ منتقل کرنے کے لیے ایک جواز یہ پیش کیاجارہا ہے کہ یونیورسٹی اس وقت جس عمارت میں ہے وہ اس کی اپنی ملکیت ہے۔ سین لشٹ میں یونیورسٹی بنانے کے حامی کئی ذمہ دار لوگ بھی اس بات کو سچ تسلیم کرتے ہیں جبکہ میری اطلاع کے مطابق یونیورسٹی کے پاس سیدآباد کے سوا اور کوئی زمین نہیں ہے۔ موجودہ عمارت ٹیکنیکل ایجوکیشن اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی خیبر پختونخوا (KPTEVTA) کی ملکیت ہے ۔ اس کو دس سال کے لیے زبردستی چھینا گیا تھا یہ مدت اب مکمل ہوچکی ہے۔ اس عمارت میں ٹیکنیکل ایجوکیشن کا ایک انسٹیٹیوٹ قائم ہونا ہے۔

chitral university building


تکنیکی تعلیم کے لیے ٹیوٹا (TEVTA) خیبر پختونوا کی نگرانی میں تقریبا ہر ضلع میں کم از کم ایک ایسا گورنمنٹ کا ادارہ قائم کیا گیا ہے جس میں نوجوان قلیل مدتی تکنیکی کورسز کرکے روزگار کے مواقع حاصل کریں۔ ایسے اداروں میں میٹرک کے بعد چھ سالہ تعلیم کے بجائے تین سال میں تعلیم مکمل ہوتی ہے اور یہاں سے فارغ التحصیل سب انجینئر بن کر مختلف شعبوں میں ملازمت کرتے ہیں۔
بد قسمتی سے چترال اب تک اس اہم ادارے سے محروم ہے۔


ایم ایم اے کے دور میں چترال میں ٹیکنیکل تعلیم کے لیے پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ بنانے کا بندوبست کیا گیا تھا۔ ایم ایم اے کی حکومت نے صوبے کے لیے تین اس طرح کےادارے منظور کئے تھے اور چترالی طلبہ کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے اور ہمارے منتخب ممبروں کی کوششوں سےایک ادارہ یہاں قائم کرنے کا فیصلہ ہوا۔ کیونکہ چترال کے طلبہ ملک کے دوسرے حصوں میں جاکر مکینیکل، الیکٹریکل، سول انجینیرنگ وغیرہ میں تین سال کا ڈپلومہ(DAE) کر رہے تھے۔ اُس حکومت میں سین لشٹ میں اس ادارے کو تعمیر کرنے کے لیے فنڈ جاری کیا گیا۔ منصوبے کے مطابق اس عمارت میں قلیل مدتی تکنیکی تربیت کے ساتھ سول ، مکینیکل، الیکٹریکل انجینیرنگ میں تین سالہ ڈپلومہ کی کلاسز کا اجرا ہونا تھا۔


جب عمارت مکمل ہوئی اور اس میں کلاسیں شروع ہونے کا وقت آپہنچا تو ایم ایم اے کی حکومت کا دور ختم ہو چکا تھا اورچترال سے بھی دوسری پارٹی کے لوگ منتخب ہوگئے تھے۔ جولائی ۲۰۱۱ میں اس عمارت میں طلبہ کا داخلہ شروع ہوا۔ اگلے تعلیمی سیشن سے کلاسوں کا اجرا بھی کیا گیا۔ لیکن جلد ہی انقریب شروع والی کلاسوں کو منسوخ کیا گیا۔ اگست ۲۰۱۱ میں اس عمارت کو عبدالولی خان یونیورسٹی کا کیمپس بنایا گیا۔

ٹیکنیکل انسٹیوٹ کا عملہ اپناسامان لے کر یہاں سے بے دخل ہوا۔ داخل شدہ طلبہ کو پہلے ووکیشنل ٹرینگ سنٹر بلچ میں پڑھانے کی کوشش کی گئی لیکن سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے کئی مسائل کا سامنا ہوا۔ آخر کار ایک پرائیویٹ ادارے میں بھیجا گیا جہاں ان کو فیس دے کر اپنی باقی پڑھائی پوری کرنی پڑی۔ اور کئی ایک کو جو فیس برداشت نہیں کرسکتے تھے تعلیم ادھوری چھوڑنا پڑی۔ ان طلبہ میں سے میں نےتین کو ڈھونڈ نکالا ہے۔ ایک کا تعلق سین لشٹ گاؤں سے ہے، دوسرے کا سنگور سے اور تیسرے کا تعلق سردور کلکٹک سے ہے۔ ان کے مطابق ان سے داخلہ فارم اسی بلڈنگ میں جمع کرایا گیا۔ اور ادھر کلاسیں جلد شروع ہونے کا بتایا گیا۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ اس بلڈنگ کو ٹیکنیکل تعلیم کے لیے بند کیا گیا ہے۔ چونکہ یہ نوجوان وسائل نہ ہونے کی وجہ سےایک سرکاری ادارے میں پڑھنا چاہتے تھے لیکن کلاسز شروع نہ ہوسکیں اور بلڈنگ یونیورسٹی کو دے دی گئی جس پر ان طالب علموں نے مل کر احتجاج کیا۔ ڈی سی چترال اور اور ایم پی اے سلیم خان سے بھی ملے۔ادارے کے ایک ملازم کے مطابق وہ اس سلسلے میں اس وقت کے وزیر برائے ٹیکنیکل ایجوکشن محمود زیب خان سے بھی ملے۔ کسی جگہ ان کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ ان میں سے ایک طالب علم نے بتایا کہ اس نے مشکل سے اپنی تعلیم پرائیویٹ ادارے سے پوری کی اور سعودی عرب جا کر سعودی ٹیلی کام میں ایک اچھی جاب پر لگ گیا۔ یہ جوان حال ہی میں واپس آیا ہے۔

چترال یونیورسٹی کی موجودہ عمارت کی اصل کہانی..تحقیق و تجزیہ: فخرالدین اخونذادہ


ان طالب علموں کی پڑھائی ۲۰۱۴ کو مکمل ہوئی۔ ۲۷ فروری ۲۰۱۵ کو بورڈ آف ٹیکنیکل ایجوکشن سے جاری شدہ ان کی مارک شیٹس میں ادارے کا نامGov. Polytechnic Institute Chitral (موجودہ یونیورسٹی کی بلڈنگ) لکھا ہے۔ جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ عمارت اگلے تین سال ( یعنی ان طالب علموں کے کورسز مکمل ہونے) ۲۰۱۴ تک TEVTA کی ملکیت تھی۔

میری تحقیق کے مطابق اس عمارت کو عبدالولی خان یونیورسٹی کو دس سال کے لیے دیا گیا تھا۔ اس دوران یونیورسٹی کو اپنی بلڈنگ بنانی تھی یا کوئی اور انتظام کرکے موجودہ بلڈنگ کو اسکے حقدار ادارے کے سپرد کرنا تھا۔ اس معاہدے کی سمری میں اس وقت کے وزیر اعلی نے بھی تصدیق کرتے ہوئے دس سال لکھا ہے اب دس سال کی مدت پوری ہونے کو ہے۔ اس پولی ٹیکنکل ادارے کے لوگ اب اس عمارت میں منتقل ہوکے اگلے تعلیمی سیشن سے ڈپلومہ کی کلاسوں کے اجرا کا انتظار کررہے ہیں اور یہاں پولی ٹیکنیک کی کلاسیں دوبارہ شروع کرنے کی تیاری ہورہی ہے۔ متعلقہ محکمہ نے چترال یونیورسٹی کے نام اس سلسلے میں خطوط بھی ارسال کئے ہیں۔ حال ہی میں متعلقہ محکمے (TEVTA)کے ڈائریکٹرز نے بھی چترال یونیورسٹی کے ذمہ داروں کے ساتھ میٹنگ کی۔


اگر اس عمارت کو تکنیکی تعلیم کے بجائے یونیورسٹی میں ضم کیا گیا تو ایک طرف تو چترال کے سینکڑوں طلبہ پرائیویٹ اداروں میں بھاری فیس دے کر پڑھیں گے یا وسائل نہ ہونے کی وجہ سے مزدوری پہ لگیں گے۔ دوسری طرف پی ٹی آئی حکومت کے وعدے کی تکمیل نہیں ہوگی۔ دوسروں کی بنائی ہوئی عمارت میں یونیورسٹی قائم کیا گیا تو چترال کے عوام کبھی پی ٹی آئی کو یو نیورسٹی بنانے کا کریڈٹ نہیں دیں گے بلکہ ایم ایم اے کو دیں گے پی ٹی آئی کی حکومت یونیورسٹی بنانے کے اعلان کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اس عمارت کے بجائے اپنی عمارت بنائیں۔ یہ کسی دوسری پارٹی کی بنائی اور منظور کرائی ہوئی عمارت ہے۔ جس مقصد کے لیے اس کو بنایا گیا اس کے لیے اس کا استعمال ہونے دیں۔ اگرقومیں واقعی میں تعلیم سے بنتی ہے تو تعلیمی اداروں کو بڑھائیں۔ ایک ادارےکو ختم کر کے دوسرا ادارہ بنانا خدمت نہیں ہے۔

پولی ٹیکنیک انسٹیٹیوٹ کی اہمیت کسی یونیورسٹی سے کم نہیں ہے۔ یونیورسٹی میں جو چھ سال لگاکر ڈگری لی جاتی ہے،معاشرے کے لیے اس سے کہیں زیادہ اہمیت کی تعلیم (تکنیکی تعلیم و تربیت) یہاں تین سال میں مکمل ہوتی ہے۔ ٹیکنیکل تعلیم کی پوری دنیا میں اپنی اہمیت ہے۔ اس شعبے میں تکنیکی تعلیم حاصل کرکے رزق کمانے والوں کی تعداد یونیورسٹی گریجویٹ سے زیادہ ہے۔ اس بات کی اہمیت اس سے بھی ثابت ہوتی ہے کہ چترال ٹاون میں اس وقت کم از چار پرائویٹ ادارے DAEکی تعلم دے رہے ہیں اور طلبہ کی ایک کثیر تعداد وہاں فیس دے کر تعلیم حاصل کر رہی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اس بلڈنگ کو جلد ٹیکنیکل ایجوکیشن کے حوالہ کیا جائے۔ تاکہ یہاں پڑھائی کا سلسلہ بحال ہونے کی راہ ہموار ہوجائے۔ دس سال کی مدت کافی ہے اور وہ مکمل ہوچکی ہے۔ متعلقہ ادارے (TEVTA) سے گزارش ہے کہ دوسرے اضلاع کی طرح چترال میں بھی اپنے مکمل شدہ بلڈنگ میں جلد کلاسوں کا اجرا کرے۔

چترال کے ایم این اے اور ایم پی اے اپنے پچھلے دور کے اس بڑے کارنامے کو غائب ہونے سے بچائیں۔ یہ چترال کے بڑے کاموں میں سے ایک ہے۔ اور غریب لوگوں کے لیے کسی یونیورسٹی سے کم نہیں ہے۔ کم آ مدنی اور غریب طلبہ جن کے پاس یونیورسٹی میں پڑھنے کے وسائل نہیں ہیں، یہاں سے سول، مکنیکل، الیکٹریکل انجینیرنگ میں تین سالہ ڈپلومہ کرنے کے انتظار میں ہیں۔ اس سے سعودی پلٹ نوجوان کی طرح کم وسائل والےمزید طالب علم سامنے آئیں گے اور مزدوری کے بجائے سب انجینئرز بن کر کسی اچھی کمپنی میں جاکر جاب کریں گے۔ یونیورسٹی انتظامیہ اور چترال ٹاون کے چند خود غرض لوگ ذاتی خواہش پوری کرنے کے لیے حکومت کو گمراہ کررہے ہیں۔ اور چترال کو ٹیکنیکل انسٹیوٹ جیسے اہم ادارے سے محروم کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ چترال کے عوام سے بھی گزارش ہے کہ وہ ان پروپیگنڈوں پر یقین نہ کریں۔ کچھ لوگ ذاتی مفاد حاصل کرنے کے لیے مخلتف حربے استعمال کر رہے ہیں کبھی جھوٹی جیولوجیکل رپورٹ شائع کرتے ہیں ۔ کھبی دھمکی بھیجتے ہیں۔ کبھی کچھ لوگوں کے ذریعے قاقلشت کا نعرہ لگواتے ہے۔ کبھی کہتے ہیں کہ سید آباد کی زمین میں عمارت نہیں بن سکتی اوپر سے تودے آنے کا خطرہ ہے کبھی کہتے ہیں کہ وہاں صرف ایک ڈپارٹمنٹ بنے گا۔ یونیورسٹی کی موجودہ بلڈنگ کا دعوی ان پروپیگنڈوں میں سے ایک ہے۔ اور ہم سب اتنا بیوقوف نہیں ہیں۔ ہمیں اکثریتی ابادی کے مفاد میں یونیورسٹی کو سید اباد میں بنانے کے مطالبے پر ڈٹے رہنا ہے۔


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
43528