Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لینڈ جہاد٫ مسلم املاک نشانے پر ۔۔۔! ….. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

مودی سرکار کے ’ہندو توا‘کا عقیدہ نت نئے مضحکہ خیز اقدامات کی وجہ سے دنیا بھر میں تماشہ بنتا جارہا ہے۔ آر ایس ایس بھارت میں ہندو شدت پسندی کو انتہائی تشدد آمیز طریقے سے بڑھاوا دے رہی ہے۔ ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مذہبی اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے خلاف خود ساختہ الزامات اور بے بنیاد ہرزہ سرائی کا نہ رکنے والا معتصبانہ سلسلہ جاری ہے، جس سے بھارت میں رہنے والی مذہبی اقلیتیں ہی نہیں بلکہ بدتر ریاستی جبر کا نشانہ مقبوضہ کشمیر کے مسلمان بھی بن رہے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے خلاف مختلف سازشی نظریئے، باقاعدہ ریاستی پالیسی کا حصہ بن چکے ہیں۔ سرجیکل اسٹرئک کا نام نہاد ڈرامہ بھارت کے لئے جگ ہنسائی کا باعث بنا تھا، اب ایک اور املاک سرجیکل اسٹرئک کا فرسودہ وژن ’لینڈ جہاد‘ کے پروپیگنڈے سے مودی سرکارکے لئے انتہائی شرمندگی کا سبب بنا ہواہے۔ ہندو انتہا پسند نظریہ ’لینڈ جہاد‘ کا سازشی نظریہ مسلمانوں کے خلاف گھڑا گیاکہ ’بھارتی مسلمان مبینہ جائز و ناجائز طریقوں سے ہندوؤں کی زمینیں خریدتے ہیں اور پھر اُن جگہوں پر ذاتی ملکیت کے علاوہ مساجد، مدارس بھی قائم کرتے ہیں، جن کا مقصد ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے ہندو آبادی کا تناسب متاثر کرنا ہے، 2014میں ابھرنے والا یہ سازشی نظریہ بڑھتے وقت کے ساتھ انتہا پسندوں کے منفی پروپیگنڈوں کا ایک اہم حصہ بن کر سامنے آیا کہ مسلم طبقہ لینڈ جہاد کے تحت اپنی مذہبی نشر و اشاعت کے لئے اکثریتی ہندو طبقے کو خطرے میں ڈال چکا ہے، اس حوالے سے حقائق سے ہٹ کر ’لو جہاد‘ کی طرح منظم انداز میں بھارتیہ جنتا پارٹی لینڈ جہاد کا منفی پروپیگنڈاکا پرچار کرتی ہے، یہاں تک کہ مقبوضہ کشمیر میں ’روشنی ایکٹ‘ اسکیم کے تحت ہندوؤں کی زمینوں کو خریدنے والوں کی جب فہرست سامنے آئی تو انکشاف ہوا کہ ہندؤوں سے زیادہ ترزمین خریدنے والوں کا تعلق بھارتی جنتا پارٹی (بی جے پی) سے ہے اور کشمیری مسلمانوں کے معروف و بااثر شخصیات کے نام مبینہ طور پر شامل کرکے، لینڈ جہاد کا پرچارکیا گیاکہ کشمیرمیں روہنگیا سے آئے مسلمانوں کی آباد کاری کی جاسکتی۔ روشنی ایکٹ کو بھارتی معتصب میڈیا نے لینڈ جہاد کا نام دیا اور مقبوضہ کشمیر سمیت پورے بھارت میں منفی مہم چلانے میں اہم کردار ادا کیا۔


 2014میں بی جے پی میں گجرات ماڈل کے نام پر مسلمانوں کے خلاف ایک ایسی انتخابی مہم کو فروغ دیا گیا، جس میں گجرات کے علاوہ پورے بھارت کی شبہہ کو دوزخ سے تشبہہ کا تاثر دیا گیا تھا۔ایک منظم منصوبہ بندی و پالیسی کے تحت احمد آباد کے پالدی علاقے میں مسلمانوں کو ہندوؤں کی جائیداد خریدنے پر پابندی عاید کردی گئی تھی اور مزارات کو مسمار کرنے کا بھی اعلان کیا گیا تھا۔دسمبر 2017 میں اتر پردیش کے میرٹھ شہر سے ‘لینڈ جہاد ‘ کے نام پر ہندو تنظیموں نے ہنگامہ شروع کیا تھا۔ انتہا پسندہندو تنظیموں کا کہنا تھا کہ ”ہم ہندوؤں کی کوئی پراپرٹی مسلمانوں کو خریدنے نہیں دیں گے اور جہاں جہاں ’غیر قانونی قبضے‘ کر کے مزار بنائے گئے ہیں اس کو ہٹانے کے لیے مہم چلائیں گے۔”کرناٹک میں تو ‘ہندو ٹاسک فورس’ کی تشکیل کی گئی جس کے تحت لو جہاد اور لینڈ جہاد پر روک لگائے جانے کا اعلان کیا گیا۔مشرقی دہلی سے بی جے پی کے رکن پارلیمان پرویش سنگھ نے دہلی کے لیفٹنٹ گورنر انیل بیجل کو 54 غیرقانونی تعمیرات کی فہرست جولائی 2019میں سونپی تھی،تاہم دہلی اقلیتی کمیشن نے مغربی دہلی میں مذہبی ڈھانچے سے متعلق ایک حقائق رپورٹ میں اگست 2019 میں جاری کرتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے رکن پارلیمنٹ پرویش سنگھ پر جھوٹ پھیلانے کا الزام عائد کیا۔ سنگھ نے دعوی کیا تھا کہ مساجد اور قبرستان واقع مغربی دہلی  کے خلاف ایک ایسی 54غیر قانونی جگہوں،خصوصًا مشرقی دہلی کے علاقے میں عوامی مقامات پر مساجد اور قبرستان بنائے جا رہے ہیں۔ تاہم دہلی اقلیتی کمیشن کے رکن اویس سلطان کی قیادت میں ایک تحقیقاتی کمیٹی نے اوائل اگست 2019 میں ثابت کیا کہ مساجد، مزارات، قبرستان اور مدارس پر مشتمل زمینی قبضے کی پیش کردہ فہرست غیر ذمے دارانہ اور غیر سنجیدہ انداز میں تیار کی گئی ہے، تاکہ سماجی ماحول کو خراب کیا جا سکے۔ رپورٹ میں رکن پارلیمان کے دعووں کو خارج کر دیا گیا اور یہ دعوٰی کیا گیا کہ ان کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے کے لیے کافی گنجائش موجود ہے کیونکہ انہوں نے ”ایک مخصوص فرقے(مسلمانوں) کو نشانہ بنایا تاکہ دہلی میں فرقہ وارانہ بد امنی پھیلے۔”


لینڈ جہاد کے نام پر مقبوضہ کشمیر میں ’روشنی ایکٹ‘ کے نام سے جموں و کشمیر اسٹیٹ لینڈایکٹ 2001، جسے ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دیا تھا، رواں برس دوبارہ ایک اپیل ہائی کورٹ میں داخل کی گئی کہ 2001میں منظور کئے گئے متنازع قانون اراضی کو کالعدم قرار دیئے جانے کے فیصلے پر نظر ثانی کی جائے۔اس قانون کی آڑ میں کھربوں روپوں کی سرکاری اراضی و دوسری املاک کی من پسند بندر بانٹ پر بے ضابطگیوں کو موضوع بنایا گیا کہ اس ایکٹ کے غیر استعمال سے خزانے کو شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دلیل میں کہا گیا کہ عام افراد کی بڑی تعداد عدالتی فیصلے کی شکار ہوئی ہے اور دولت مند و بااثر افراد نے روشنی ایکٹ سے فایدہ اٹھا کر سرکاری و دیگر املاک پر قبضہ کرلیا ہے۔بی جے پی  کا  اس ایکٹ پر موقف یہ تھاکہ جموں میں سرکاری اور جنگلات کی اراضی کشمیری مسلمان رہنما خرید کر ہندو اثریتی آبادی کا تناسب بدلنا چاہتے ہیں، جب کہ نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ایک بیان میں کہاکہ اس بات کا احساس ہوجانے کے بعد کہ روشنی سکیم کے سب سے زیادہ مستفیدین بھاجپا، آر ایس ایس اور جموں میں مخصوص طبقہ کے افسران ہیں بھاجپا، آر ایس ایس اور ان کی کٹھ پتلیوں نے اس سکیم کو ”سرجیکل سٹرائیک“ اور ”لینڈ جہاد“  کے نام دیئے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق اسکیم سے فایدہ اٹھانے والوں کی فہرست بھی جاری کرنے کا حکم بھی دیا گیا، جس میں مبینہ طور پر سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، ان کے بیٹے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ کانگریس کے سابق وزیرتاج محی الدین، سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے نام بھی کئی سرکردہ بااثر شخصیات و تاجروں کے ساتھ منظر عام پر آئے تو بی جے پی نے شد ید تنقید کا نشانہ بنایا۔تاہم صورتحال اُس وقت گھمبیرہوگئی جب فاروق عبداللہ، محبوب مفتی سمیت کئی اپوزیشن لیڈروں نے تمام الزامات کی تردید کرتے ہوئے الٹا انتظامیہ پر الزام لگایا کہ مودی سرکاری کی ایما پرہندو توا کے ایجنڈے کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ اسی فہرست میں بی جے پی کے مقامی لیڈر اور سابق نائب وزیراعلیٰ کویند گپتا کا نام بھی شامل بتایا جارہا ہے جسے رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ کے تحت محکمے میں ایک درخواست میں بی جے پی کے مقامی رہنما کا نام ہٹانے کی وجہ دریافت کی جا رہی ہے، مبینہ طور پر سرکاری جنگلات و اراضی کی خریداری میں سب سے بڑا نام بی جے پی کے رہنما کا سامنے آنے پر مودی سرکار کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا۔حزبِ اختلاف کی جماعت نیشنل کانفرنس کے ترجمان عمران نبی ڈار نے ان الزامات کے جواب میں اور حکومت کی طرف سے عدالت میں نظرِ ثانی کی اپیل دائر کرنے پرردِ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ”بی جے پی اور اس کے لیڈر بے نقاب ہوگئے ہیں۔ جہاں تک حکومت کے یو ٹرن کا تعلق ہے وہ محض اپنا چہرہ بچانا چاہتی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ اس پر یہ حقیقت عیاں ہو گئی ہے کہ روشنی ایکٹ سے سب سے زیادہ جموں سے تعلق رکھنے والے بی جے پی اور ‘راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ’ کے لوگوں نے فائدہ اٹھایا،  لیکن بدنام کشمیر اور جموں کے مسلمانوں کو کیا گیا“۔
لینڈ جہاد کے مذموم سازشی نظریہ کے تحت مسلمانوں کو ہندو آبادیوں، بلخصوص فلم انڈسٹری اور معروف شخصیات کو جائیداد کی فروخت و کرایئے پر نہ دیئے جانے کی وارننگ نہ صرف زبانی، بلکہ اشتہار کے ذریعے بھی یاد دہانی کرائی جاتی ہے کہ مسلمان رجوع نہ کریں۔

ممبئی میں مسلمانوں کیساتھ روایتی امتیازی سلوک کا مظاہرہ کرتے ہوئے جائیداد کی خرید و فروخت کے اشتہارات میں خریداری کے لیے رجوع نہ کرنے کا کہا گیا۔گاندھی انٹرنیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی بھارتی خاتون بھارت کی مقبول اداکارہ اور سماجی کارکن شبانہ اعظمی ایک پروگرام میں کہہ چکی ہیں کہ انہیں اور ان کے شوہر جاوید اختر کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ممبئی میں مکان نہیں ملا،تو آپ سوچ سکتے ہیں کہ اتنی مقبولیت حاصل کرنے کے باوجود اگر وہ ممبئی میں مکان حاصل نہیں کرسکتے تو ایک عام مسلمان کے ساتھ کیا ہوتا ہوگا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ’انتہا پسندی کا یہ عالم ہے کہ مسلمانوں پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ یہودی علاقوں میں چلے جائیں‘۔بھارت میں مودی سرکار کی انتہا پسند پالیسیوں سے جہاں بھارت کی چھوٹی بڑی مذہبی اکائیوں کومشکلات میں ڈالا جاتا ہے اور ان کے مذہبی شعائر کے خلاف انتہا پسندی کی جاتی ہے تو دوسری جانب کبھی لو جہاد و،لینڈ جہاد کے سازشی تھیوریوں کی وجہ سے مسلمانوں کو ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ مسلم معاشرے و معاشرتی اقدار کو ہندو توا کے رنگ میں ڈھالنے کے لئے انتہا پسندوں کی سازشوں کی ریاستی پشت پناہی یقینی طور پر انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں و سلامتی کونسل کے لئے لمحہ فکریہ اور سوالیہ نشان ہے کہ کروڑوں انسانوں کی زندگیوں کو مشکل تر و بدترین حالات سے دورچار کرنے والی انتہا پسند ہندو ریاست کے خلاف ایکشن کیوں نہیں لیا جاتا۔ خطے میں امن و سلامتی کو خطرات میں ڈالنے والے ایسے ملک کو محض تجارتی و سیاسی مقاصد کے حصوؒل کے لئے چشم پوشی کرنا، جہاں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے منشور کی کھلی خلاف ورزی ہے تو دوسری جانب خطے میں ایٹمی جنگ کے خطرات و جنگی جنون میں مبتلا ہندو انتہا پسند ریاست کو لگام نہ دینا پوری دنیا کے امن کے لئے خطرات کا باعث بننا کسی کے حق میں بہتر قرار نہیں دیا جاسکتا۔ 


شیئر کریں: