Chitral Times

May 27, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مینار پاکستان اور رُوحِ اقبالؒ…..تحریر : رحمت الٰہی سیف

شیئر کریں:

ارضِ پاکستان کے دل لاہور میں واقع یہ قطعہِ زمین جسے ماضی میں مینٹو پارک کہا جاتا تھا، کو ایک تاریخی مقام حاصل ہے۔ اس قظعہِ زمین کو حکیم الامت،شاعرِمشرق ڈاکٹر علامہ اقبالؒ، قائداعظم محمد علی جناح، مولانا محمد علی جوہر، حفیظ جالندھری، چوہدری رحمت علی اور آل انڈیا مسلم لیگ کے دیگر با وقار شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل ہے۔ 23مارچ 1940 کومنٹو پارک اپنی سبزہ زار میں عظیم ہستی کوخوش آمدید کہنے کی سعادت حاصل کی، تو جواب میں عظیم مہمان نے بھی کیا کمال کے تحفے جھولی میں ڈال گئے۔ اقبال ؒ کے کرشماتی آواز، طلسماتی اشعار آج بھی لاہور کے فضاء میں زندہ و جاوید ہیں، اورآپ کے سنہرے الفاظ قرادادِ پاکستان کی صورت میں مینارِ پاکستان کے سینے مین چمک رہے ہیں۔ اور خوابِ اقبال ؒ کے بدولت وجود میں آنے والی ارضِ پاک کا نقش کرہِ ارض کے چہرے پہ تا قیامت موجود و محفوظ رہے گا۔

اندازِ بیان گرچہ میرا شوخ نہیں ہے شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات عرض کچھ یوں ہے، کہ 203 فٹ انچا مینار اپنی پیدائش سے یعنی 1968 سے تا حال اپنے سائے تلے بے شمار سیاسی و مذہبی قائدیں کے ساتھ عوام کے ہجوم کو مختلف مقاصد کے حصول کی خاطر آتے جاتے دیکھا ہے۔ اقبال پارک 10 اپریل 1986 کو سابق پاکستانی وزیراعظم محترمہ بینطیر بھٹو کی یورپ میں طویل عرصے جلاوطنی سے واپسی پر مزدور طبقہ کی جانب سے شاندار استقبال کا دن بھی دیکھاہے۔ اپریل 2002میں سابق صدر جنرل (ریٹایرڈ) پرویز مشرف کی کامیاب ریفرنڈم کی تقریب کا انعقاد بھی یہیں ہوا تھا۔ اسکے علاوہ چھوٹے بڑے جلسے ہوتے رہے۔ دسمبر 2011 میں 44 جما عتی (پاکستان دفاع کونسل) نے بھی اس مقام پر ایک کامیاب ریلی نکالی تھی۔

اسکے تحت بیرونی جارحیت کے خلاف ملک کی دفاع کے لئے ایک قرارداد منظور کی گئی۔ حافظ سعید صاحب کی سربراہی میں اس ریلی کو معربی اور ھندوستانی میڈیا نے جہادیوں، فرقہ وارانہ جنگجو ؤں اور آرتھوپیڈکس ملاؤں کے اجتماع کے طور پر دیکھا۔ اکتوبر 2011 کو پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے سیاسی پاؤر شو منعقد کی گئی، جسے مینارِ پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا جلسہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں موجودہ وزیراعظم عمران خان اپنے انوکھے وعدوں سے اس قوم کے دل جیت لئے، لیکن وقت آنے پر ایک بھی وعدہ وافا نہیں ہو سکا۔ 13 دسمبر 2020 کو PDM کی پلیٹ فارم سے گیارہ سیاسی جماعتوں کی مشترکہ جلسہ منعقد ہوا۔ سیاسی قائد یں بدستور اپنی تقریروں میں عوام کے لہو گرماتے رہے۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سربراہِ پی ڈی ایم فضل الرحمٰن صاحب عمران حکومت پہ لفظی بمباری کی اور مسکراتے ہوئے فرمانے لگے کہ جلسہ اتنا بڑا ہے کہ مینارِ پاکستان سے باہر سڑکوں پہ بھی لوگ ہی لوگ نظرآرہے ہیں۔ محترمہ مریم نواز نے کہا، کہ یہ تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی پاور شو ہے، اور پچھلے تمام جلسوں کے ریکارڈ ٹوٹ گئے۔

بحرحال جلسے کے احتتام ہوتے ہی مختلف ٹی وی چینلز کے اینکر پرسنز اور رپورٹرز اس جلسے پہ رائے دینے لگے۔ اور حالیہ جلسے کا موازنہ ُپی ٹی آئی کے اکتوبر2011 کے جلسے کے ساتھ کرنے لگے، اکثریت اس بات پہ متفق نظرآئے کہ جلسہ بڑا تھا، لیکن تحریک انصاف کے جلسے سے اسکا کوئی مقابلہ نہیں، کیونکہ عمران خان اکیلا مینارِ پاکستان بھرنے میں کامیاب ہوا تھا، اور اب گیارہ سیاسی جماعتیں ملکر بھی مینار ِ پاکستان نہیں بھر سکے۔ رپورٹرز بتا رہے تھے کہ تحریکِ انصاف کے جلسے کے دوران ہم اپنی گاڑیان انارکلی پارک کرکے پیدل لوگوں کے ہجوم سے ہوتے ہو ئے مینارِ پاکستان پہنچ گئے تھے۔ لیکن آج ہم آرام سے گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مینار پاکستان پہنچ گئے اور مینار پاکستان کے60 سے65 فیصد حصہ لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ مزے کی بات یہ ہے کہ حکومتی نمائندوں سے جب پوچھا گیا تو فرمانے لگے کہ جناب یہ ایک فلاپ شو تھا، اور اس میں لوگوں کی تعداد بمشکل پا نچ سے چھ ہزار کے درمیان تھے۔

خیر، اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سچ بولنے کی توفیق دے، اگر حق گوئی ہو تو جلسہ واقع بڑا تھا، لیکن اتنا بھی نہیں جتتا محترمہ مریم اور محترمٖ فضل الرحمٰن فر ما رہے تھے۔ اور اتنا غریب و حقیر بھی نہیں،جیسے حکومتی نمائندے انکھیں بند کرکے لوگوں کو گن رہے تھے۔ میرے نزدیک مینارِ پاکستان کا سب سے بڑا اور تاریخی اجتما ع تحریکِ لبیک کے سربراہ مولانا خادم حسین رضوی ؒ کے نمازِ جنازہ کے موقع پرہوا تھا ، اس میں مینارِ پاکستان کیا لاہور کے سڑکوں پر بھی لوگ ہی لوگ تھے۔ اس حقیقت سے انکاری ممکن نہیں کہ ایک ایسا اجتماع جو پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دئے اور آئیندہ بھی اسطرح کا اجتماع ہونا ممکن نہیں۔ ہاں مانتے ہیں دوسرے نمبر پہ تحریک انصاف کا جلسہ اور تیسرے نمبر پہ بے نظیر بھٹو صاحبہ کی استقبال میں 1986 کا عوامی اجتماع ہے۔ با قی مرضی کی بات ہے، لوگ جسکو جو نمبر دینا مقصود ہو دے دیتے ہیں۔

اصل بات یہ ہے کہ جلسے جلوس اور انکے چھوٹے بڑے ہونے سے نہ ملک ترقی کرتا ہے ا ور نہ یہ غرییبوں کی زخموں کا مداوا ہے۔ کوئی غرض نہیں کہ حدِ جلسہ کیا ہے؟ بس اتنا بتا کہ مقصدِ جلسہ کیا ہے؟اسی تناظر میں بات کو آگے بڑھاتے ہوئے پاکستانی عوام کو کہوں تو کیا کہوں؛ معصوم یا بیوقوف، افسوس یہ ہے کہ جس کے بینک بیلینس ہو، جیب بھاری ہو وہ جب مرضی لیڈر بن کے آتے ہیں، او ر اپنی مقاصد کے خاطر عوام کو بھیڑ بکریوں کی طرح کبھی پریڈ گراؤنڈ، کبھی لیاقت باغ، کھبی کسی اسٹیڈ یم میں اور کبھی مینارِ پاکستان کے سبزہ زار میں لے جاتے ہیں۔ عوام اتنا معصوم ہے کہ اسٹیج پر تشریف فرما شہزادے یا شہزادیوں کی جنبشِ لب سے قبل ہی تالیاں بجاتے اور فلک شگاف نعرے لگاتے ہیں۔ مقرریں بڑے دبنگ انداز میں آتے ان کے لہو گرماتے ہیں۔ اور یہ سیاسی رہنما ء بڑے فخر سے قائیدؒ و اقبال ؒ کا نام لیتے ہیں، لیکن عملی طور دور دور تک اُن سے کوئی تعلق نظر نہیں آرہا۔ قسم بخدا، اچک زئی جیسے رہنماؤں کے اقوالِ زرین سن کر اورعوام کے معصو میت دیکھ کر مینارِ پاکستان کے ایک طرف روحِ اقبال اور دوسری طرف روحِ جالندھری حیران و پریشان تھے کل۔ (شرم تم کو مگر نہیں آتی)


شیئر کریں:
Posted in تازہ ترین, مضامینTagged
43464