Chitral Times

Apr 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت بلتستان کی مشکلات اور آن لائن کلاسز کا مذاق …تحریر: آفتاب عالم

شیئر کریں:

گلگت بلتستان ایک پسماندہ علاقہ ہے۔یہاں زیادہ تر لوگ غریب طبقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ سردیوں کے موسم میں یہاں کے غریب عوام کو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہیں۔ خاص طور پر ابھی کرونا وبا کی وجہ سے اور زیادہ مسائل کا شکار ہیں۔اور پریشانیاں ہی ہیں۔ایک طرف سے مہنگائی تیز رفتار سے بڑھ رہی ہے۔ تو دوسری طرف لوگوں کو محنت و مزدوری کا موقع بھی فراہم نہیں ہیں۔ لوگ سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔اس حالات میں یہ لوگ اپنے بچوں کو تعلیم دے رہے ہیں۔ بچوں کے ہر ضروریات پوری کر رہے ہیں۔ مہنگے مہنگے موبائلز فون، لیپ ٹاپ فور جی سم لا کے دیے۔ وائی فائی لگایا ۔ ان سخت حالات کے باوجود اپنے بچوں کے سارے تعلیمی ضروریات پوری کی۔ لیکن ابھی بجلی کی بحران کی وجہ سے نہ وہ وائی فائی کوئی کام کا ہے۔ اور فور جی والوں نے تو سنگنل بھی بند کردیا۔بجلی بند نیٹ بند کا ماحول بننا عمومی بات ہے. کال ہی کرنا مشکل ہوجاتا ہے  تو انٹرنیٹ کیا خاک چلے گا۔ اس مشکل وقت میں پھر سے آن لائن کلاسز شروع ہونے کی وجہ سے ماں باپ پریشان ہیں کہ وہ اب ایسا کیا لائحہ عمل کریں جس سے ان کے بچوں کے تعلیمی سرگرمیاں جاری رہ سکیں۔ اور طلبہ وطالبات بھی پریشان ہیں کہ وہ کس طرح اپنے پڑھائی کو جاری رکھیں. اس بلاینڈ تعلیمی نظام کو بند کیا جائے۔تاکہ لوگ معیاری تعلیم حاصل کرسکیں اور ان کا مستقبل روشن ہو اور وہ اپنے قوم کی خدمت کرسکیں۔ طلبہ و طالبات سکول،کالج، یونیورسٹی، استادہ اور کتابوں کا شکل دیکھے بغیر  کیا خاک تعلیم و تربیت حاصل کریں گے۔ یونہی یہاں سردیاں شروع ہوتیں ہیں بجلی کا بحران بھی شروع ہوتا ہے ۔ جس کی وجہ سے مرکزی سٹی گلگت کی یہ حالات ہیں ۔اور یہاں کے زیادہ تر طلب عالم دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔وہاں زیادہ تر علاقوں میں موبائل سروس ہی نہیں آتی ۔ کہی پہ آتے بھی ہےتو گھروں کے اندر نہیں آتے ہیں۔ اس سردی میں وہ بے چارے گھروں سے باہر بارف میں کھڑے ہو کر یا پہاڑوں میں چڑ کر دو دو گھنٹوں کے کنسیکٹو کلاسیس کیسے لے سکیں گے؟ اور اگر اس طرح کلاسز لیتے بھی ہیں تو کرونا سے کوئی بڑا وبا آسکتا ہے۔اور فیس پورا کا پورا ہی لے رہے ہیں۔ فیس میں کوئی رعایت نہیں۔اس مشکل حالات میں ماں باپ بچوں کا صحت کا خیال رکھیں۔ان کے پیٹ بھریں، یا ان کی فیس بھریں۔ کم از کم ان کی فیس میں تو کچھ کنسیشن کریں تاکہ والدین پر تھوڑا سا بوجھ کم ہو۔ نہ فیس میں کوئی رعایت،نہ ہی پیپرز میں کوئی، صرف پڑھائی میں رعایات آخر سٹوڈنٹس کے ساتھ مذاق کیوں۔کیوں ان کے مستقبل کے ساتھ  کھیل رہے ہیں۔ اسٹوڈنٹس کا حکومت سے مطالبہ ہے۔ان کی فیس میں کنسیشن کرے تاکہ وہ اپنے تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔ اور  جس طرح ان کے پڑھائی کو ہلکا لیا جاتا ہے۔ اسی طرح ان کے پیپرز کو بھی ہلکا کریں تاکہ ان پہ بوجھ بھی کم ہو اور ان کے حوصلہ افزائی بھی ہو۔ ان کو آل ایم اس کے زریعے سے پڑھانے سے کچھ سمجھ نہیں آتی۔ اور ان سے پیپرز اپنے پہلے کی معمول کے مطابق سخت لیے جاتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے  پہلے سمسٹر میں ان کے نمبرات بہت کم آگئے ہیں۔حالانکہ ان سے کہا گیا تھا کہ آپ کو اگلے کلاس میں پرموٹ کیا جاے گا۔لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا کچھ سٹوڈنٹس کو ڈراپ بھی کر چکے ہیں۔ ابھی وہ غریب کہاں جائے گے۔ انہوں فیس بھی جمع کی ہے۔ مشکل حالات میں آن لائن کلاسز لیں۔ سارے لوازمات پورے کیا۔ ان سے پیپرز ایسا لیا گیا جیسا وہ آن لائن نہیں یونیورسٹی میں جا کے کلاسیں لیے ہوں۔ اور ان کے تفویض کے ساٹھ نمبرز تھے۔ وہ سارے کام انہوں نے اچھے سے مکمل کیا۔ تو ان کو ڈراپ کیوں کیا گیا۔عین پیپرز کے دنوں یونیورسٹی کھول دیتے ۔اور پیپرز ہوتے ہی یونیورسٹی بند کر دیتے ہیں کرونا پھر سے شروع. یوں لگتا ہے پیپرز کے دنوں میں کرونا چھٹیوں پہ جاتاہے انسانی سمجھ سے بالاتر ہے۔اس طرح صرف پیپرز کے لئے تعلیمی ادارے کھول کے پڑھانے کے دنوں بند کھیں گے تو یہ بچے علم کہاں سے حاصل کریں گے۔طلبہ و طالبات کا دھیان کلاس میں استاد کے سامنے بڑے مشکل سے کلاس میں ہوتا ہے۔ تو موبائل میں وہ کیا کلاس لیں گے۔اس طرح ان کے تعلیم سے ترک تعلق اور دوری سے ماں باپ پریشان ہین. موبائل، انٹرنیٹ اور کمپیوٹرز وغیرہ تو کام کو آسان کرنے کے لئے ہے۔اور خصوصا طلبہ کے ٹایم پاس کے لئے ہے۔ تو وہی بچے وہاں سے کیا پڑھیں گے۔ حکومت اور اداروں کے اس طرح کے مزاحیہ  ردعمل کی وجہ سے پڑھنے والے پچے بھی آخر کار پڑھنا چھوڑ دیتے ہیں۔اس طرح تو آسانی سے ڈگریاں حاصل کرسکتے۔لیکن علم نہیں۔اور بغیر علم کے ڈگریاں لے کر یہ لوگ کل کو انجینئر،ڈاکٹر،استاد اور دوسرے بڑے بڑے عہدوں میں فائز ہونگے۔ تو اس قوم کا کیا مستقبل ہوگا۔ حکومت کی یہ پالیسی قوم کے لئے کل کو خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔ یہ سوچ سمجھ کر قوموں کے مستقبل کے ساتھ کھیلا جارہا ہیں۔مارکیٹ اور دوسرے پیبلک پیلس میں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم لگا رہتا ہیں۔وہاں ایس او پیز کا  بھی کوئی تصور ہی نہیں۔ہمیں تو دشمن کے بچوں کو بھی پڑھانا تھا۔تو ہمیں کیا ہوا اپنے ہی بچوں کو نہیں پڑھا سکتے ہیں۔ بہت بڑا سوالیہ نشان ہے۔کہتے ہیں کہ سٹوڈنٹس قوم کے معمار ہوتے ہیں۔تو ایک مستحکم قوم بنے کےلئے امید کرتے ہیں سٹوڈنٹس کے مستقبل کے بارے میں دور اندیشی سے سوچتے ہوئے کوئی مثبت قدم آٹھایا جائے۔تاکہ طلبہ و طالبات علم کی اس روشنی سے منور ہو جائے۔اللہ ہم سب کو سمجھ عطا کرے


شیئر کریں: