Chitral Times

Dec 3, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پولیٹیکل فیس سیونگ …… قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:

نئے سیاسی منظر نامہ اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ عوام کی توجہ کا مرکز بن چکا۔ وزارتوں کی تبدیلی، جس میں وزرات داخلہ جیسا اہم قلمدان شیخ رشید کو دیئے جانااہمیت کا حامل ہے۔ سوشل میڈیا میں عمران خان کے ماضی میں دیئے گئے بیانات اور حالیہ صورتحال پر وزیر داخلہ کے لئے شیخ رشید پر اعتماد سیاسی و غیر سیاسی حلقوں کے لئے حیرانی کا سبب بنا۔ وفاقی وزیر داخلہ کے بقول ان کے سیاسی کیرئیر میں وزرات داخلہ 15واں قلم دان ہے جو انہوں نے سنبھالا۔انہیں وزرات داخلہ کا قلمدان دیئے جانے کا واضح مقصد بھی سامنے آچکا کہ پاکستا ن ڈیمو کرٹیک موومنٹ کی تیزی بڑھتی تحریک کو عملی طور پر غیر موثر بنانا ہے، اس کے لئے وزیراعظم سمیت مقتدور حلقوں کی نظریں لال حویلی کے مکیں پر پڑیں۔


 پاکستان تحریک انصاف کے اتحادیوں میں 2008میں بننے والی پاکستان عوامی مسلم لیگ کی واحد نشست رکھنے والی جماعت ہے، جس کے سربراہ خود شیخ رشید ہیں۔ قاف لیگ کے نائب صدر سے مستعفی ونے کے بعد انہوں نے اپنی جماعت کی بنیاد رکھی تھی، سابق صدر پرویز مشرف کے قریب ترین شخصیت، جو کہ پہلے عمران خان کے بدترین مخالفین میں شمار کئے جاتے تھے، اب اُن کے اتنے قریب ہوچکے کہ ایک نشست رکھنے کے باوجود انہیں وفاقی وزرات داخلہ جیسا اہم عہدہ بھی مل گیا۔ سیاسی حلقوں بالخصوص پی ٹی آئی میں پہلو بدلتی چہ میگوئیاں خود حکومت کے لئے آنے والے دنوں میں دشوار گذار بن سکتی ہیں، الیکٹیبلز میں سیاسی بے چینی بھی نمودار ہونا شروع ہوگئی ہے، کیونکہ انہیں صاف دکھائی دے رہا ہے کہ کپتان کا بُرے وقتوں میں ساتھ دینے کے باوجود انہیں وہ ’کچھ‘ حاصل نہیں ہوسکا، جس کی توقع کی جا رہی تھی۔
وزیر اعظم متعدد بار اپنی کابینہ میں تبدیلیاں کرچکے ہیں، ان کی جانب سے آئندہ بھی کابینہ میں تبدیلیوں کے قوی امکانات موجود ہیں، کیونکہ وہ کہہ چکے ہیں کہ جو کارکردگی نہیں دکھائے گا، اُسے ہٹا دیا جائے گا، لین بعض حلقوں میں اس پہلو پر بحث ہوئی کہ وزیراعظم کے نزدیک ’بہترین‘ کارکردگی کا کیا معیار ہے؟۔ سیاسی و غیر سیاسی حلقوں میں عمران خان کے وزارتی وژن کو گنجلک قرار دیا جارہا ہے، بعض کے نزدیک یہ بھی کہا جارہا ہے کہ اہم وزارتوں میں تبدیلیاں، مخصوص قوتوں کی جانب سے کروائی جاتی ہیں، وگر اجمالی جائزہ لیا جائے تو جہاں جہاں، جس جس سیاسی حکومتی رہنما نے اپوزیشن کے خلاف سخت اور تلخ زبان و بیان کا استعمال کیا، وہ وزیراعظم کا قریبی و پسندیدہ قرار پایا۔ممکن ہے کہ ایسا کچھ نہ ہو، لیکن محسوس کیا جاسکتا ہے کہ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے ’کسی نہ کسی‘ وجہ سے محبوب بن جاتے ہیں۔


شیخ رشید کو اس وقت مملکت کی ایک ایسی اہم وزارت ملی ہے، جس کی کارکردگی سے سیاسی منظر نامہ پر منفی اور مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں، وفاقی وزیر جہاں ایک طرف لچک دار رویے کے حامل ہیں تو دوسری جانب انہیں وزیراعظم کے اپوزیشن مخالف وژن کا سب سے بڑا حامی بھی سمجھا جاتا ہے۔ اگر انہیں صرف پی ڈی ایم کی تحریک کو روکنے اور ناکام بنانے کے لئے سامنے لایا گیا ہے تو موصوف خود اچھی طرح جانتے ہیں کہ تحریک کا بگڑ جانا، کتنا بگاڑ پیدا کرتا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ(ن) کے حوالے سے ان کی پیش گوئیاں کس قدر پوری ہوسکیں گی، یہ دسمبر کے مہینے میں ہی لگ پتا چل جائے گا۔ شیخ رشید کہہ چکے تھے کہ”نون“سے’شین“ نکلے گی اور بڑی بڑی ایسی شخصیات جن پر کرپشن کے الزامات ہیں یا پھر احتسابی عمل سے گذر رہی ہیں، جیل میں جائیں گی۔ اب  دلچسپ مرحلہ یہ ہے کہ حزب اختلاف کی جلسے جلسوں کے پہلے فیز کے اختتام کے بعد مکمل اختیارات کے ساتھ وفاقی وزیر داخلہ بننے والے انتہائی تجربہ کار سیاسی رہنما اپنی کیسی قابلیت کا عملی مظاہرہ کریں گے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ شیخ صاحب کو میڈیا میں رہنے کا ہنر آتا ہے، لیکن یہاں یہ اَمر اہمیت کا حامل نہیں، بلکہ توجہ طلب یہ پہلو ہے کہ سیکورٹی معاملات پر کئی معاملات اخفا کرنے والے آگے کیا کرسکتے ہیں۔


اختر مینگل تو تحریک انصاف کی اتحادی نشستوں سے حزب اختلاف کے ساتھ احتجاجی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے ہیں، ایم کیو ایم پاکستان ابھی تک اس پوزیشن میں نہیں آئی کہ سندھ کے شہری علاقوں میں اپنا پرانا سیاسی اثر رسوخ بحال کرسکے، انہیں سندھی شہری علاقوں میں ترقیاتی کاموں سمیت اپنا اعتماد بحال کرنے کی ازحدضرورت ہے، وہ ان حالات میں عوام کے سامنے نہیں جاسکتے، کہ وفاقی حکومت کا حصہ ہونے کے باوجود اپنے ووٹرز کے لئے پُر کشش بن سکیں، ان کے سامنے سخت سیاسی حریف ہیں، جن میں سرفہرست خود پی ٹی آئی ہے، جو ان کے مینڈیٹ کو اپنے کھاتے میں ڈال چکی ہے، اگر یہی حالات رہے تو ایم کیو ایم پاکستان کو قصہ پارنیہ بننے میں مزید وقت بھی نہیں لگے گا، ان حالات میں کہ ایک نشست رکھنے والا اتحادی، اہم ترین پوزیشن حاصل کرچکا ہوتو ذرائع کے مطابق ان کی صفوں میں بھی بے اطمینانی کی لہر محسوس کی جا رہی ہے کہ ان کا سیاسی مستقبل کیا ہوسکتا ہے۔


پی ڈی ایم نے جلسوں کی سیریز کا آخری سیاسی میدان لاہور میں بڑے طمطراق سے سجایا، اس کی کامیابی یا ناکامی کے پہلوؤں پر بیانیہ کیا بن سکتا ہے اس پر عوام سمیت سیاسی و حکومتی حلقوں میں ایک بیانیہ بن چکا ہے کہ پی ڈی ایم کی تحریک اب جارحانہ ہوگی اور ممکن ہے کہ ملکی سیاسی حالات انتشار کی جانب مزید تیزی سے بڑھ سکتے ہیں، اس لئے فیصلہ سازی و ٹائمنگ اس حوالے سے اہمیت کی حامل ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ فیصلہ سازی کے حوالے سے کتنا اختیارات ہیں، یہ جلد ہی سامنے آجائے گا۔ تاہم اس حوالے سے بارہا کہا جاچکا ہے کہ سٹیک ہولڈرز بند گلی میں جانے سے قبل فیس سیونگ کا درمیانی راستہ نکالنے کے لئے مذاکرات کا راستہ بند نہ کریں تو یہ ملک کے سیاسی نظام و حکومتی انصرام کے حق میں بہتر ہوگا۔
ضد و انا کی سیاست نے کبھی کسی بھی سیاسی جماعت یا مملکت کو فائدہ نہیں پہنچایا ، مذاکرات واحد راستہ ہے جو بڑی بڑی جنگو ں کے بعد بھی کرنے پڑے۔ کوئی بھی چھوٹی بڑی جنگ مذاکرات کے بغیر ختم نہیں ہوتی، اس لئے حکومت و حزب اختلاف کسی بھی ایسے راستے پر جانے سے گریز کریں جس کا نتیجہ کسی کے حق میں بہتر نہ ہو،


شیئر کریں: