Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عرب اسرائیل تعلقات کا نیاموڑ……محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


اسرائیلی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے حوالے سے پاکستان سمیت اہم اسلامی ملکوں کے ساتھ ان کے رابطے جاری ہیں عنقریب سعودی عرب اور سلطنت عمان بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں کا اعلان کریں گے۔ عبرانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونیوالی خبروں میں کہا گیا ہے کہ مراکش کے بعد اسرائیل کو تسلیم کرنے والا اگلاملک سلطنت عمان ہوگا۔سعودی عرب بھی اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پرغور کررہا ہے۔

اسرائیلی اخبار کا دعویٰ ہے کہ جنوری میں رپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے نومنتخب امریکی صدرجوبائیڈن کے اقتدار سنھبالنے سے قبل سعودی عرب اسرائیل کے ساتھ امن معاہدوں میں شامل ہوسکتا ہے۔اخبار کی رپورٹ میں تین ہفتے قبل ریاض میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتھن یاہو اور سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز کے درمیان خفیہ ملاقات کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ سعودی عرب چاہتا ہے کہ مزید کچھ اسلامی ممالک اسرائیل کو تسلیم کریں۔جس کے بعد سعودی عرب کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنے میں آسانی ہوجائے گی۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل حکام کے پاکستان،انڈونیشیا، نائیجریا، مالی، جبوتی، موریطانیہ، ملائشیا، برونائی دارالسلام، بنگلہ دیش اور مالدیپ سے بھی رابطے ہیں۔پاکستان سمیت دیگر اسلامی ملکوں کا یہ موقف رہا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کی شہ پر اسرائیل نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس اور فلسطین کے علاقوں پر ناجائز قبضہ کررکھا ہے جب تک اسرائیل بیت المقدس،غزہ اور گولان سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں کا قبضہ نہیں چھوڑتا۔ یہودی حکومت کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

اسرائیل کا قیام 1948میں عمل میں آیا تھا۔ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی اور دیگر ممالک سے یہودیوں کے قتل عام کے بعد جو لوگ بچ گئے تھے انہیں امریکہ نے تل ابیت میں لاکر بسالیا تھا۔ واشنگٹن کی غیر مشروط حمایت، فوجی اور مالی مدد کی وجہ سے اسرائیل معاشی لحاظ سے ایک مضبوط ریاست بن گئی ہے۔ گذشتہ 72سالوں میں اس نے غزہ، وادی گولان سمیت فلسطین کے سینکڑوں مربع میل علاقے پر قبضہ جمالیا ہے۔ یاسر عرفات نے اسرائیل کے خلاف کچھ مزاحمت دکھائی تھی۔

اس سے پہلے اور بعد میں آنے والے فلسطینی رہنماؤں نے آزادی کی تحریک کو آگے بڑھانے کے لئے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا۔ طویل محاذ آرائی کے باوجود جب مشرق وسطیٰ کے اسلامی ممالک نے محسوس کیا کہ وہ اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کو روکنے میں ناکام رہے ہیں تو انہوں نے تل ابیت کے ساتھ امن معاہدے کرنے کا فیصلہ کیا اور متحدہ عرب امارات نے اسرائیل کو سب سے پہلے تسلیم کرلیا اور اس کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور معاشی ترقی کے لئے باہمی تعاون کے معاہدے کئے۔یو اے ای کے نقش قدم پر چلتے ہوئے دیگر عرب ملکوں نے بھی اسرائیل کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دیدی اور یکے بعد دیگرے مختلف عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کررہے ہیں۔

سعودی حکومت نے اگرچہ فلسطینوں کے حقوق کی ضمانت کی شرط پر اسرائیل سے امن معاہدے کا عندیہ دیا تھا تاہم نظر یہی آرہا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر بھی اسرائیل اور سعودی حکومت کے درمیان مفاہمت ہوگئی ہے۔سعودی عرب کی طرف سے تل ابیت کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم ہونے کی صورت میں پاکستان پر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے لئے امریکہ، برطانیہ اور عرب ممالک کا دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسرائیل آج معاشی اور فوجی لحاظ سے مشرق وسطیٰ کی سب سے بڑی طاقت ہے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کی پوری معیشت یہودیوں کے ہاتھ میں ہے۔ اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔اس حوالے سے سعودی عرب اور دیگر عرب ملکوں کے ساتھ بھی مشاورت کی جاسکتی ہے۔جو مسئلہ خون خرابے اور جنگ و جدل کے ذریعے حل نہیں ہوسکا وہ مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر حل کرنے کی سبیل نکل آتی ہے تو پرامن تصفیہ سب سے بہتر ہے۔تاکہ عالم اسلام کے خلاف اسرائیل کی ریشہ دوانیوں کا بھی تدارک ہوسکے۔


شیئر کریں: