Chitral Times

Dec 1, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

عدل و انصاف کے تقاضے….. تحریر :الطاف الرحمن اخون

شیئر کریں:


اسلام کے پورے نظام کی اساس، معیشت اور معاشرت کی بنیاد انصاف پر ہے اگر غور سے دیکھا جائے تو پوری کائنات کا نظام ہی انصاف پر قائم ہے. 


چاند، سورج، ستارے اور سیارے سب کے سب نظام انصاف سے قائم ہیں. جہاں انصاف ہوگا وہاں بہاریں ہونگی، اس کی برکت سایہ زندگی کو پربہار بنادیتا ہے آواز میں اعتدال آجائے تو نغمہ بن جاتا ہے الفاظ موزوں ہو تو شعر بن جاتا ہے. اور رنگ و روپ کا توازن حسن کہلاتا ہے. 


جس قوم کی سیاست، معاشرت، اور معیشت انصاف کی بنیاد پر قائم ہوگی وہ قوم دنیا کی سب سے خوش بخت قوم ہوگی اور جس گھر، علاقہ یا ملک میں “عدل و انصاف” کا دور دورہ ہوگا وہ ملک اور انسان کے باشندے خوف و غم سے آزاد اور ہر نعمت سے مالا مال ہوگا. جہاں اسلام کا نظام کسی معاشرے میں انصاف قائم کرنے کی ترغیب دیتا ہے وہاں احسان کی تلقین پر اتنا ہی زور دیتا ہے. 


انصاف اگر معاشرے کی اساس ہے تو احسان اس کا” جمال و کمال ہے. انصاف اگر معاشرے کو ناگواریوں اور تلخیوں سے بچاتا ہے تو احسان اس میں خوشگواریاں اور شیرنیاں پیدا کرتا ہے. کوئی معاشرہصرف اس بنیاد پر کھڑا نہیں رہ سکتا کہ اس کا ہر فرد ہر وقت ناپ تول کرکے دیکھتا رہے کہ اس کا کیا حق ہے؟ اور اسے بس اتنا ہی دے دے. محبت و اخوت ،شکر گزاری و اعلیٰ ظرفی اور ایثارو و خلوص ہر شخص سے ایسے کاموں کے متقاضی ہیں جہاں وہ اپنا سب کچھ دوسروں کے لیے قربان کر دے جب ہی قوتوں کو خوشحال اور استحکام ملتا ہے.

دنیا میں جہاں کہیں بھی انصاف کا نظام قائم ہوگا وہاں سے خود بخود برائیوں کا انسداد ممکن ہو سکے گا وہی برائیاں جن میں بے حیائی، ہر قسم کی بدی اور ظلم و زیادتی شامل ہے اسلام ان کے لئے حدود و تعزیرات مقرر کی ہیں. جو ہر طرح کی تخصیص اور امتیاز کے بغیر ہر شخص کے لئے ہیں جب وہ ان کا ارتکاب کرتا ہے. مساوات اور برابری کا یہ درجہ کسی امیر کے لیے اس کی خلاصی کا باعث نہیں بن سکتا ہے جو سب کے ساتھ یکساں سلوک کی تعلیم دیتا ہے تاکہ معاشرے میں امن و خوشحالی قائم ہو. ایسے معاشرے میں نہ تو زبردستیوں کا کوئی وجود ہوتا ہے اور نہ ہی استحصال کرنے والوں کے لیے کوئی جگہ ہوتی ہے.

چنانچہ ایسے ہی نظام سے قوموں کی پہچان و شناخت ہوتی ہے اس سے افراد کو چین نصیب ہوتا ہے. اور ان کے نشانات و امکانات ابھر کر سامنے آتے ہیں. بنی آدم کی فلاح و بہود اسی میں ہے کہ ایسے نظام قائم ہوں جن میں سراسر ان کا ہی فائدہ ہوگا.عدل و انصاف اپنے پرائے کے ساتھ بھی ویسے ہی معاملہ کیا جانا چاہیے جس کا اسلام تقاضا کرتا ہے اور اس راہ میں ایک بڑی رکاوٹ شخصی مصلحتوں اور ذاتی مفادات کی ہوتی ہے چنانچہ اس ضمن میں ارشاد فرمایا کہ “تم رضائے الٰہی کی خاطر انصاف قائم کرنے والے ،خواہ فیصلہ تمھاری اپنی ذات کے خلاف ہو یا تمھارے والدین اور قرابت داروں کے خلاف جائے”. انصاف کے وقت بڑا امتحان حریف و حلیف یعنی اپنے دوست اور دشمن کے درمیان فیصلہ کرنے میں ہوتا ہے اس بارے میں ارشاد ہے “تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس بات پر آمادہ نہ کردے کہ تم انصاف نہ کرو، تم ہر حال میں انصاف کرو”.

اس اسلامی انصاف کا نتیجہ یہ تھا کہ مکہ مکرمہ میں اور ان کے بعد مدینہ منورہ میں دشمنانِ دین اور اہلِ کتاب بھی اپنے تنازعات اور مقدمات کے فیصلوں کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پیش کرتے اور انصاف پاتے تھے.


شیئر کریں: