Chitral Times

Jan 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تلخ و شیریں………استارُو پل……..ابو سدرہ۔

شیئر کریں:

      کئی دن آؤٹ آف میڈیا رہنے کے بعد جب فیس بُک کی دنیا میں حاضری ہوتی ہے تو اچھا خاصا وقت صِرف یہ سمجھنے میں صَرف ہوتا ہے کہ گزشتہ دنوں کون سا مسئلہ یہاں مرکز ِ توجہ رہا ہے۔ آج موبائل کی اسکرین پر اوپر کی جانب اچھی خاصی انگلی پھیری تو معلوم ہوا کہ رواں ہفتے میں فیس بک کے چترالی صارفین کے مابین “استارُو پل” ہی زیر گفتگو رہا ہے۔ استارُو پل تحصیل ِ تورکھو کے شروع میں استارو کے مقام پر واقع ہے۔ یہ پل مئی کے مہینے میں اس وقت ٹوٹ گیا تھا جب ایک لوڈڈ مزدہ اس سے گزر رہا تھا تب سے لے کر آج تک متعلقہ لوگوں کو اہلیانِ تورکھو کی پریشانی کا احسای ہوا اور نہ ہی اس پل کی بحالی کی توفیق ملی۔۔پل ٹوٹنے کی وجہ سے مئی کے مہینے سے تورکھو کے لوگ ایک ایسی متبادل سڑک پر سفر جھیل رہے ہیں جو سڑک کم، پگڈنڈی زیادہ لگ رہی ہے۔ نہ صرف مذکورہ سڑک کی ایک طرف انتہائی گہری کھائی ہے بلکہ سڑک بھی اتنی تنگ ہے کہ مخالف سمت سے آنے والی موٹر سائیکل کو راستہ دینا بھی ڈرائیور کے لئے ناممکن ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ دو گاڑیاں ایک دوسرے کو کراس کرسکیں۔ اس سڑک پر چڑھائی بھی کافی زیادہ ہے۔ سردی کے دنوں تھوڑا سا پانی بھی سڑک پر آکر جمنے کی صورت میں پھسلن کی وجہ سے سڑک ٹریفک کے لئے ناقابلِ استعمال ٹھہرتی ہے۔  نیچےگہری کھائی کی وجہ سے ایکسڈنٹ کی صورت میں مسافروں کے بچ نکلنے کا چانس نہ ہونے کے برابر ہے۔ بالخصوص دسمبر،جنوری اور فروری کے مہینے میں اس پر ٹرویل کرنا کھلی آنکھوں کے ساتھ خود کو موت کے منہ ڈالنے کے مترادف ہے۔

 یہی وجہ ہے کہ ہنگامی بنیادوں پر تحصیل تورکھو کا رابطہ ضلعے کے دوسرے حصے کے ساتھ بحال کرنے کے لئے نہ صرف پشاور پریس کلب کے سامنے گزشتہ کئی دنوں سے اہلیانِ چترال کا احتجاج جاری ہے بلکہ سخت کڑاکے کی سردی کے باوجود جملہ اہلیان تورکھو نے بھی شاگرام کے مقام پر کئی دنوں سے کھلے آسمان تلے دھرنا جاری رکھا ہوا ہے۔  تحصیلِ تورکھو میں جس بڑی تعداد میں محصور لوگ پل نہ ہونے کی وجہ سے متبادل پُرخطر اور تنگ سڑک پر سفر جھیل رہے ہیں مہذب ممالک میں اتنی تعداد میں اگر کتے بلّے بھی محصور ہو کر کسی مشکل میں ہوتے تو اربابِ اختیار انہیں بھی ریلیف دینے کی کوئی نہ کوئی سبیل ضرور نکالتے۔ ہمارے ہاں شاید انسانی جانوں کی اتنی وقعت نہیں جتنی وقعت متمدّن ممالک میں جانوروں کی ہے۔ 

پل ٹوٹ چکا۔ کئی مہینے گزر چکے۔ گاڑیوں کی امدورفت جس متبادل سڑک پرجاری ہے۔ وہ انتہائی تنگ بھی ہے اور پرخطر بھی۔ ایک طرف اتنی گہری کھائی ہے نیچے دیکھتے ہی سر چکرا جائے اور گرنے کا خوف ہی بندے کو حواس باختہ کردے۔ ظاہر ہے کہ خون خشک کردینے والی ایسی سڑک پر سفر کرتے ہوئے مسافر  جسمانی ہی نہیں، سخت زہنی کرب میں بھی مبتلا ہوں گے۔ مگر اربابِ حل و عقد ہیں کہ لاپرواہی کی لمبی چادر تان کر سو رہے۔ اہلیانِ تورکھو کی پریشانیوں کا ادراک کرکے مداوا کرنے کی کوئی کوشش ہو رہی اور نہ ہی متعلقہ محکمہ بیدار ہونے کا نام  لے رہا ہے۔ 

اگر ہنگامی بنیادوں پر پل بنانے ، یا تیار شدہ پل نصب کرنے کے آگے تکنیکی اور موسمی رکاوٹیں کھڑی ہیں تو جو سڑک متبادل کے طور پر استعمال ہو رہی ہے اُس پر کام کر کے اسے تھوڑی سی چوڑی کرنے میں کونسی چیز رکاوٹ ہے؟؟ جہاں کروڑوں روپے دوسرے اللّون تللّوں میں لگائے جاتے ہیں وہاں چند لاکھ سڑک کی کشادگی پر کیوں نہیں لگائے جا سکتے؟  چترالیوں بالخصوص اہلیانِ تورکھو کا پشاور و تورکھو میں کئی دنوں سے جاری دھرنا یہ ثابت کر رہا ہے کہ اہلیانِ تورکھو پُل کے نہ ہونے کی وجہ سے امدورفت کی بابت سخت اذیت سے دوچار ہیں۔ متعلقہ لوگوں کو اُن کی تکلیف کا عدم احساس اُن میں احساس ِِمحرومی جنم دے رہا ہے ۔ 

کیا مزاجاً پرآمن، طبعاً شریف، فطرتاً صلح جُو اور لسانی لحاظ سے اقلیت ہونے کا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو ان کے جائز حقوق سے ہی محروم رکھا جائے؟؟؟


شیئر کریں: