Chitral Times

Mar 5, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لاوی اور بالاکوٹ پاورپراجیکٹس کیلئے ڈائریکٹرزکی تقرری کا عمل جلد مکمل کیا جائیگا

شیئر کریں:

صنعتی شعبے کو مزید148میگاواٹ بجلی ارزاں نرخوں پر فروخت کرنے کا فیصلہ
گریڈ19ودیگر ملازمین کی ترقیوں کی منظوری،مشیر توانائی حمایت اللہ کی زیرصدارت پیڈوپالیسی بورڈ کا اجلاس


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخواحکومت صنعتی شعبے کو ارزاں نرخوں پر بجلی فروخت کرنے کے لئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات اٹھارہی ہے۔پیہورپن بجلی گھر سے 18میگاواٹ بجلی صنعتی یونٹس کوکامیابی سے فروخت کرنے کے بعد اب جلدہی مزید148میگاواٹ بجلی صنعتوں کو ارازں نرخوں پر بجلی فروخت کی جائے گی۔ جس سے نہ صرف صنعتی شعبہ ترقی کرے گابلکہ روزگارکے نئے مواقع بھی پیداہونگے اورصوبے کی معیشت بھی مستحکم ہوگی۔ صوبے کے سب سے بڑے پن بجلی کے منصوبے 300میگاواٹ بالاکوٹ اور69میگاواٹ لاوی ہائیڈروپاورپراجیکٹس چترال کے لئے پراجیکٹ ڈائریکٹرزکی تقرری کیلئے موزوں امیدواروں کاچناؤجلد ہی کرلیا جائیگا۔محکمہ توانائی کے ذیلی ادارے پختونخواانرجی ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن(پیڈو) کے مختلف کیٹگریزمیں خدمات سرانجام دینے والے افسران وملازمین کو اگلے گریڈزمیں ترقی دینے کی منظوری دے دی گئی۔اس بات کی منظوری پیڈوبورڈ آف ڈائریکٹرکے پالیسی بورڈ کے چوتھے اجلاس میں دی گئی جوکہ نائب چیئرمین بورڈ وصوبائی مشیرتوانائی حمایت اللہ خان کی زیرصدارت منعقد ہوا۔

اجلاس میں سیکرٹری توانائی محمدزبیرخان، ایڈیشنل سیکرٹری توانائی وچیف ایگزیکٹوپیڈو ظفرالاسلام خٹک،ایڈیشنل سیکرٹری خزانہ سفیر احمد،سینئر پلاننگ آفیسرارباب فیض اوربورڈ ممبرزانجینئرسردارطارق خان،ضیاء محمدکے علاوہ ڈائریکٹرایڈمن پیڈوڈاکٹرشاہد کریم،ڈائریکٹرتاج محمد نے شرکت کی۔ اجلاس میں قائمقام چیف ایگزیکٹوپیڈو ظفرالاسلام خٹک نے بورڈ کو مختلف پراجیکٹس کے لئے پراجیکٹ ڈائریکٹرزکی تقرریوں کے لئے ہونے والے عمل سے آگاہ کیا۔ضلع چترال سے چکدرہ تک ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے لئے ٹھیکہ دارکی تقرری کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے فنانشل پروپوزل اوپننگ کی منظوری دی گئی۔

پیڈوملازمین کے عرصہ دراز سے ترقی کے زیرالتواء عمل کوآگے بڑھاتے ہوئے گریڈ19سے گریڈ5تک کے9 مختلف کیٹیگریز کے افسران اوردیگرملازمین کو اگلے گریڈزمیں ترقی دینے کی منظوری دی گئی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر توانائی حمایت اللہ خان نے کہا کہ صوبے میں توانائی کے تمام جاری منصوبوں کی تکمیل ہماری اولین ترجیح ہے اسی لئے صوبے میں پیداہونے والی سستی بجلی صنعتی شعبے کوارزاں نرخوں پر فروخت کرنے کے لئے ویلنگ کا ماڈل متعارف کرایاگیا ہے جس سے صوبائی حکومت اورصنعتی دونوں کومالی فائدہ ہوگا۔ انہوں نے افسران پر زوردیا کہ وہ اپنے امورکو دلجمعی سے انجام دیں۔


شیئر کریں: