Chitral Times

Oct 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

غذر کے نئے نمائندے اور چیلنجز….شاہ عالم علیمی

شیئر کریں:


غذریوں نے اس بار تینوں بہترین نمائندوں کو اسمبلی بھیجا ہے۔ اِشکومن پُونِیال سے ناجی سے بہتر نمائیندہ نہیں تھا۔ گُوپِس پونیال سے نذیر احمد ایک زبردست نمائندگی ثابت ہوں گے۔ جس نے ماضی میں ہمیشہ حقیقت پسندانہ رویہ رکھا۔ یاسین سمال سے غلام محمد بھی اچھے سیاسی لیڈر ہیں۔ ان کو سیاسی رموز و اوقاف کا اچھی طرح پتا ہے۔ 


ہم سب یہ جانتے ہیں کہ ان تینوں کا تعلق چاہیے جس بھی پارٹی سے ہو یہ کام صرف جی بی کے لیے کریں گے۔ اور ان کی پہلی ترجیحی بھی جی بی ہی ہوگا۔ جہاں جی بی کے لیے صیح معنوں میں سیاسی انتظامی اور مالی حقوق کے حصول کی مزید جد وجہد کی ضرورت ہے وہاں موجودہ نظام کے اندر موجود وسائل سے لوگوں کے مسائل حل کرنے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ 


گلگت بلتستان میں غربت اور بے روزگاری میں پچھلے دس سالوں میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ غربت کے لحاظ سے جی بی جنوبی ایشیاء کے بدترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے۔ جہاں ابادی کی اکثریت کو دو وقت کی بھی صیح طریقے سے دستیاب نہیں۔ جبکہ ڈگریوں پر ڈگریاں لے کر ہزاروں لاکھوں نوجوان بےروزگار ہیں۔ جن کو مزدوری بھی نہیں ملتی۔ چہ جائیکہ مناسب نوکری۔ موجودہ نظام کے اندر اقربا پروری رشوت ستانی اور دھونس دھاندلی پر بات کرنے کی ضرورت بھی اب مناسب نہیں لگتا۔ یہ حدوں کو چھو رہا ہے۔ 


دوسری طرف ریاست کی طرف سے مالی سیاسی معاملات میں گلگت بلتستان کو نظر انداز کرنے کی پالیسی میں کوئی فرق نہیں ایا۔ ایک طرف ہزاروں ارب روپے کا منصوبہ سی پیک CPEC کے تحت پورے پاکستان میں پراجیکٹس لگائے جارہے ہیں تو دوسری طرف اس میگا منصوبے سے جی بی کو ایک ٹکا بھی نہیں دیا گیا۔ اس کی بنیادی وجہ نون لیگ کے اندر احسن اقبال اور اسحاق ڈار جیسے لوگوں کی پالیسیاں ہیں جو گلگت بلتستان جیسے علاقوں کو اس قابل بھی نہیں سمجھتے کہ ان کو ان کا بھی حق دینے کی بات کی جائے۔ 
تیسری طرف خیبر پختونخواہ نے شندور،  شونجی،  بھاشہ دیامر لالوسر بابو سر اور اب چمرکن پر جی بی کی سرحدوں پر قبضہ جماکر بیٹھا ہے۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ہم فلسطینی ہیں اور وہ اسرائیلی۔ گلگت بلتستان کی سرحدوں کی ریکوری ایک اہم ٹاسک ہے جس پر گلگت بلتستان کے تمام نمائیندوں کو کام تیز کرنے کی ضرورت ہے۔ 


ایسے حالات میں غذر سے فہم و فراست رکھنے والے نمائندوں کا چناو اچھی بات ہے۔ تاہم یہاں پورے گلگت بلتستان کے منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی ترجیحات دو حصوں میں تقسیم کرے؛  اول گلگت بلتستان کے سیاسی انسانی حقوق کے حصول کے لئے مشترکہ جدوجہد اور دوم اپنے اپنے علاقوں میں انفرادی حیثیت میں لوگوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش۔ 

بڑے اور اہم کاموں میں سے سب سے اہم کام غذر کے دو یا تین اضلاع میں تقسیم ہے۔ جس کے لئے نواز خان ناجی نے کافی جد وجہد بھی کی ہے۔ اب کی بار غذر اور دیامر کے ایک سے زیادہ اضلاع میں تقسیم ناگزیر ہے۔ غذر کو تین اضلاع میں موجودہ حلقوں کے مطابق ہی تقسیم کرنا چاہیے۔ جہاں پونیال-اشکومن کو ضلع ورشگوم اور پونیال-گوپس کو ضلع غذر اور سمال-یاسین کو ضلع بروشال میں۔(نئے اضلاع کے نام اتفاق رائے سے رکھے جاسکتے هیں، یہ میری زاتی رائے ہے)۔ اگر تین اضلاع ممکن نہ ہوا تو پونیال-اشکومن الگ ضلع اور گوپس-یاسین ضلع غذر کے نام سے الگ ضلع جلد از جلد بننا چاہیے۔ اس سے انتظامی معاملات کو حل کرنے سے لیکر بےروزگاری پر قابو پانے میں کافی مدد ملے گی۔

گزشتہ دس سالوں یا دو پولیٹیکل ٹرمز میں پونیال گوپس حلقے سے منتخب دو نمائیندوں میں سے دونوں الگ الگ سوچ اور الگ الگ سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ تھے۔ پہلے والے نے پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت میں بحثیت وزیر تعلیم کام کیا۔ اور اس دور کے کرپٹ ترین لوگوں میں شامل ہوئے۔ جہاں دوسرے محکموں میں رشوت ستانی اور اقرباء پروری کا بازار گرم تھا وہی محکمہ تعلیم میں ‘فی اسامی تین لاکھ میں’ جیسے جملے مشہور ہوئے۔ اور موصوف وزیر تعلیم تھے۔ ان کے بعد علاقے سے فدا خان وزیر بنے۔ فدا خان پر کرپشن کا کوئی بڑا الزام تو نہیں ایا لیکن جس جماعت میں وہ بوجہ مجبوری شامل ہوئے اس نے غذر کوہمیشہ کی طرح نظر انداز کیا۔ لیکن ساتھ ساتھ خود سیاسی نمائندے کی ایمانداری اور کردار کے علاوہ اس کی قابلیت اور صلاحیت بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ فدا خان اگرچہ صاحب جذبہ ادمی تھے لیکن ان کے اندر وہ سیاسی اہلیت نہیں تھی جو کام کروانے کے لئے ضروری ہے۔ اگر اپ ان کے حلقے میں کاموں کا موازنہ نواز ناجی کے حلقے سے کریں تو واضح ہوجاتا ہے۔ جہاں پونیال اشکومن میں گاوں گاوں کے اندر میٹل روڑ بنے آر سی سی پل بنے وہاں پونیال گوپس میں گلیاں اور لنک روڑ بھی نامکمل بنے۔ وہی بجلی اور مواصلات کا نظام بھی بہتر نہ ہوا۔ بے روزگاری میں بے تحاشا اضافہ ہوا۔ 


جیسے کہ جی بی ریجن میں بجلی کی صورتحال ابتر ہے۔ ہزاروں میگاواٹ سستی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے والے اس علاقے میں اج تک ایک بھی صیح بجلی گھر نہیں بنا۔ 2020 کے گرمیوں کے موسم میں غذر کے بالائی علاقوں میں ایک دن بجلی اتی اور تین دن غائب۔ اس صورتحال کو سامنے رکھیں تو سردیوں کے موسم میں بجلی کی صورتحال کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ 


ستمبر 2020 میں بالائی غذر کے عوام نے تنگ امد بجنگ امد کے مترادف اس مسلے کے خلاف ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ کام کاشت چھوڑ بجلی کی بندش کے خلاف احتجاج کیا۔ اس دوران ہم نے این اے پی ڈبلیو کے زمہ داران سے رابطہ کیا اور استفسار کیا کہ اخر کیا وجہ کہ شمرن میں واقع بجلی گھر کے کل پرزے بشمول پانی کے ہونے کے باوجود علاقے میں بجلی نہیں ہے۔ اس پر انھوں نے کافی ایمانداری کا مظاہرہ کرکے بتایا دیا کہ اس بجلی گھر کو مرمت کے لئے دو کروڑ اسی لاکھ روپے دیے گئے ہیں۔ لیکن وہاں جو ٹھیکہ دار ہے وہ خود کام کررہا ہے اور نہ ہی دوسروں کو کام کرنے دے رہا ہے۔ یہاں یہ دونوں انکشافات حیران کن تھے۔ بیس میٹر سربند کی مرمت کے لئے ڈھائی کروڑ سے زیادہ رقم!  اور ٹھیکہ دار کی اتنی طاقت اور اثر ورسوخ کہ وہ نہ تو خود کام کررہا ہے اور نہ ہی کام کرنے دے رہا ہے!  یہ سراسر کرپشن کی مکمل کہانی ہے۔ اس ایک جگہ اتنا کچھ ہورہا ہے تو دیگر محکموں کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بہر حال غذر انتظامیہ نے ان دنوں وعدہ کیا تھا کہ بجلی گھر کی جلد از جلد مرمت کرکے بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے گی۔ مگر عوام بھی جانتے تھے کہ؛  ‘تیرے وعدے پہ جیئے ہم یہ تو جان جھوٹ جانا،  کہ خوشی مرنہ جاتے اگر اعتبار ہوتا۔’


اج بھی بجلی میسر نہیں۔۔۔۔!
امید کی جانی چاہئے کہ ہمارے نئے نمائندے اس جیسے کرپشن اور نااہلی کے مسائل کو حل کریں گے۔ اور میں بالائی غذر کے عوام کی طرف سے ڈپٹی سپیکر جی بی اسمبلی نذیر احمد سے گزارش کرتا ہوں کہ وہ مٹوٹی پل سے شندور ٹاپ تک روڑ کو ترجیحی بنیادوں پر میٹل کروائے۔ اخر اجکل گاوں گاوں میں میٹل روڑ بنے ہیں۔ یہاں مین شاہراہ کا ہی میٹل نہ ہونا عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ 


شیئر کریں: