Chitral Times

Oct 4, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

تنظیم ھدیتہ الھادی اور اتحاد امت کانفرنس۔۔۔۔۔محمدآمین

شیئر کریں:

رب العالمین نے جب سے تخلیق بشر کیا ہے تب ہی سے ان کی ہدایت و رہنمائی کا سامان بھی فراہم کیا ہے تاکہ انسان تخلیق انسانیت کے اس عظیم منصوبے کو سمجھ سکیں۔اور اس سلسلے میں اللہ پاک کی جانب سے وقتا فوقتا انسانوں کی بھلائی اور ھدایت کے لیے انبیاء اور رسول مقرر کیے گیے،تاکہ لوگوں کی اصلاح کی جائے،اور یوں ہدایت کا یہ سلسلہ محمد صلی اللہ علیہ والسلام تک اپہنچا جو کہ اخری نبی اور مہر نبوت تھا اور قران مجید و حمید اخری الہامی کتا ب ہے جو تا قیامت بنی نوع انسان کے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہے،اور آپﷺ کی پیغام کا فلسفہ ساری انسانیت کے لیے ہے اور آپ ﷺ کی امت بہترین امت ہے جیساکہ ارشاد باری تعالی ہے،،


تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے منظر عام پر لایا گیا ہے تم لوگوں کو نیکیوں کا حکم دیتے ہو اور برائیوں سے رکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔،
کرہ ارض پر رہنے والے ہر عاقل انسان یہ بخوبی جانتا ہے کہ موجودہ دور میں امت کو اتحاد و اتفاق کی اشد ضرورت ہے اور اختلاف و انتشار بہت نقصاندہ چیز ہے اس حقیقت کو ہر مسلمان شدت سے محسوس کرتا ہے۔اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے چند اصلاح پسند حضرات نے اتحاد امت کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اسلامی معاشرے کو اتحاد و ہم اہنگی کی دعوت دیں،اور وہ مسلمانوں کے لیے ایک ماہر طبیب کا کردار ادا کر رہے ہیں جس نے بیماری کی تشخیص بھی کی ہو اور دوا کا تعین بھی۔اور جب یہ اصلاح پسند پکارتے ہیں تو بہت سارے مسلمان اس عظیم پکار کو سننے کے لیے بیتاب ہوتے ہیں،کیونکہ وہ سمجھ سکتے ہیں کہ مسلم امہ کو لاحق بیماری ان کی فرقہ بندی اور ایک دوسرے سے جھگڑنے میں ہے۔اور اس کا علاج بھی وہی چیز ہے جس کے بغیر ان کے انے والے نسلوں کا اصلاح بھی نا ممکن ہے اور شفاء کا وہ نسخہ اتفاق وحدت ہے،ایک دوسرے کے ساتھ تعاوں اور کینہ و عداوت کو دور پھنکنا ہے،بغض و دشمنی کے اسباب کو پاوں تلے روند ڈالنا ہے۔


جنہیں اللہ نے نور بصیرت اور پختہ ارادے کی نعمت سے نوازا ہے اور اس امت کی بھلائی کے لیے مخلصانہ کام کرنے کے جذبے کو ان کے دلوں میں شعلہ ور فرمایا ہے،اس لیے وہ ہمیشہ سے نسل و مذہب کے امتیاز سے بالاتر ہو کر تمام مسلمانون کو لا الہ الااللہ کے پرچم تلے ہونے کی دعوت دیتے ہیں۔وہ اہل توحید کو اس عظیم امت،عروتہ الوثقی (مضبوط تریں دستاویز) اور مستحکم وسیلے کی جانب بلاتے ہیں جن سے تمسک رہنے کا اللہ نے حکم دیا ہے،وہ اسلام کی مضبوط رسی سے منسلک رہنے کی دعوت دیتے ہیں جس کا اللہ پاک نے دستور دیا ہے۔اور وہ اسلام و قران کے سائے میں اتحاد امت کی اس عظیم مقصد کی جانب بلاتے ہیں،کیونکہ یہی حقیقی ذندگی ہے اور امت کی نجات اس میں مضمر ہے۔اگر امت نے اس کے علاوہ اور کوئی راہ اپنالی تو اس سے ابدی ہلاکت اور دائمی موت ہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔


موجودہ حالات میں امت میں ناچاقی اور ایک دوسرے کی ناپسندیدگی کے اثرات بہت نمایا ں ہیں اور ہر جگہ مسلماں پسماندگی اور مظلومیت کے شکار ہیں۔ہندوستان اور اسرائیل جو مسلمانوں پر سب سے زیادہ مظالم کے پہاڑ ڈھالے ہیں بہت سے مسلمان ممالک اپنی عنا اور ذاتی مفادات کے پیش نظر ان کے ساتھ اچھے رشتے بنائے ہیں اور حال ہی میں کچھ عرب مسلم ممالک کا اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنا مسلم امہ کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔


مسلمانوں کے صف میں اتحاد و ہم اہنگی کی فضاء پیدا کرنے کے حوالے سے تنظیم ھدیتۃ الہادی پاکستان میں اہم کردار ادا کر رہی ہے تاکہ مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان روادری،قوت برداشت،صبر اور اتفاق کے اعلی اصولوں کو ترقی دے سکیں۔اس سلسلے میں اس سال چترال میں تنظیم ھدیتۃ الہادی کے زیر نگرانی اتحاد امت کانفرنس بعنوان ہم سب پاکستان کے نام منعقد ہوا جس میں مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے اہم شخصیت نے شرکت کیے۔تنظیم کے روح روان پیر سید ہارون علی گیلانی ہے جو اس عزم کے ساتھ ملک کے مختلف علاقوں میں جاکر اتحاد امت کی دعوت دیتے نظر ارہا ہے۔میری یہ خوش قسمتی تھی کہ مجھے بھی اس مبلغ سے ملاقات کا موقع ملا تھا اور میں انے اسے نہایت نفیس،با علم اور اپنے مشن میں جذبات سے سر شر پایا۔ اس کانفرنس میں جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کی شرکت بڑی اہمیت کا حامل تھا۔کانفرنس کے مقررین نے موجودہ دور میں امت کے درمیاں اتحاد و اتفاق کی ضرورت پر روشنی ڈالے اور پاکستان کے اندر اس فضاء کو ترقی دینے کے لیے ہر ممکن کوشش کرنے کا اعادہ کیے۔نیز اس چیز پر بھی زور دیا گیا کہ نظریہ پاکستان وقت کی ضرورت ہے اور بحثیت پاکستانی اس کی دفاع کے خاطر ہمیں ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہئے اور فرقہ بندیوں اور ذات پات سے باہر نکل کر مملکت خداداد پاکستان کی خدمت کرنی چاہئے کیونکہ تحریک پاکستان اس قسم کی امتیازات سے پاک تھا۔اس قسم کی کانفرنس اور اجتماع وقت کی اہم ضرورت ہے اور انہیں اپنے مشن میں جاری رہنے کی ضرورت ہے کیونکہ ایک کانفرنس سے یہ عظیم مقصد حاصل نہیں ہوسکتی ہے۔اور ہم چترال میں تنظیم ہذا کے لیڈران کا ایسی شاندار اور اہم پروگرام منعقد کرنے پر خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔جس میں نظریہ پاکستان اور اتحاد امت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔


شیئر کریں: