Chitral Times

Oct 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

وزیراعلی نے تمام اضلاع کی انتظامہ کو دکانوں پر نرخ نامے اویزان کرانے کی اقدامات کی ہدایت

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے تمام اضلاع کی انتظامیہ اور دیگر متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ صوبہ بھر کی چھوٹی بڑی تمام دُکانوں پر اشیائے خوردونوش کے نرخ نامے نمایاں جگہ آویزاں کرنے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائے جائیں اور اُن نرخ ناموں پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کیلئے مانیٹرنگ اور معائنے کاعمل مزید بہتر بنایا جائے ۔وزیراعلیٰ نے گزشتہ ماہ کے مقابلے میں رواں ماہ کے دوران اشیائے خوردونوش کی قیمتوں میں کمی کے رجحان پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے محکمہ خوراک اور انتظامیہ کے کردار کی تعریف کی ہے اور اُمید ظاہر کی ہے کہ آنے والے دنوں میں قیمتوں میں مزید استحکام پیدا کیا جائے گا۔اُنہوں نے کہاکہ صوبائی حکومت اپنے محدود مالی وسائل کے باوجود عوام کورعایتی نرخوں پر آٹے کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے درآمدی گندم پر سبسڈی کی مد میں خطیر رقم خر چ کر رہی ہے ۔ رواںسال اب تک 3.7 ارب روپے سبسڈی دی جاچکی ہے جبکہ مزید 6.3 ارب روپے کی سبسڈی جلدجاری کردی جائے گی ۔

اُنہوں نے کہاکہ عوام کو ریلیف کی فراہمی حکومت کا حتمی ہدف ہے جس کے لئے تمام تر دستیاب وسائل بروئے کار لائے جار ہے ہیں ۔ وہ وزیراعلیٰ ہاﺅ س پشاور میں پرائس کنٹرول کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے خوراک خلیق الرحمن، چیف سیکرٹری خیبرپختونخوا ڈاکٹر کاظم نیاز، وزیراعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ، متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریز اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ خوردونوش کی ضروری اشیاءکی قیمتیں بتدریج مستحکم ہو رہی ہیں۔

تازہ ترین رپورٹ کے مطابق صوبے میں آٹا ، چینی ، چاول ، دالوں اور دیگر ضروری اشیائے ضروریہ کی قیمتیں قومی سطح پر اوسط قیمتوں سے کم ہیں۔ گزشتہ تین ہفتوں میں صوبے میں چینی کی قیمت میں 21 روپے فی کلوگرام کمی آئی ہے ۔ اسی طرح گزشتہ آٹھ ہفتوںمیں آٹے کی قیمت فی تھیلا 264 روپے جبکہ گزشتہ چھ ہفتوں میں ٹماٹر کی قیمت میں 57 روپے فی کلوگرام کمی رپورٹ کی گئی ہے ۔3 دسمبر2020 ءکی رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا میں گندم کے آٹے کا تھیلااوسطاً 1070 روپے میں دستیاب ہے جو سندھ اور بلوچستان کے مقابلے میں کم ہے ۔

اسی طرح چینی کی فی کلو قیمت 109 روپے سے کم ہو کراوسطاً 88 روپے فی کلو تک آگئی ہے ۔ دیگر اشیائے خوردونوش میں بھی قیمتوں میں کمی کا رجحان رپورٹ کیا گیا ہے ۔ اجلاس کو صوبے میں گندم کے آٹا اور چینی کی موجودہ صورتحال سے متعلق بریفینگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ حکومت کے بروقت اور موثر اقدامات کی وجہ سے صوبے میں گندم کے بحران کے مسئلے پر قابوپالیا گیا تھا ۔ رواں سیزن کے دوران گندم کی دستیابی میں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہو گا ۔اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ پاکستان سٹیزن پورٹل پر قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے عوامی شکایات کے اندراج میں بھی بتدریج کمی رپورٹ کی گئی ہے ۔ اکتوبر میں 437 شکایات درج کی گئی تھیں جبکہ اس کے مقابلے میں ماہ نومبر میں 374 شکایات درج کی گئیں ، جن میں سے 80 فیصد حل کر دی گئی ہیں۔ شکایات کے ازالے کے حوالے سے شہریوں کے اطمینان کی شرح 75 فیصد ہے ۔ اجلا س کو آگاہ کیا گیا کہ اگلے سیزن کے دوران صوبے میں گندم کی مطلوبہ مقدار کے مطابق دستیابی یقینی بنانے کیلئے بھی حکمت عملی وضع کی جارہی ہے جو جلد متعلقہ حکام کو پیش کی جائے گی ۔
 <><><><><><>

وزیراعلیٰ خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث مریضوں کی اموات کے واقعے میں ہسپتال کے سات ذمہ داروں کی معطلی کو ناکافی اور رسمی کارروائی قراردیدیا


پشاور (چترال ٹائمزرپورٹ ) وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمود خان نے گزشتہ روز خیبرٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن کی کمی کے باعث مریضوں کی اموات کے واقعے میں ہسپتال کے سات ذمہ داروں کی معطلی کو ناکافی اور رسمی کارروائی قرار دیتے ہوئے ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کو ہدایت کی ہے کہ ایک ہفتے کے اندر معاملے کی تمام پہلووں سے مزید تحقیقات مکمل کرکے غفلت کے مرتکب ذمہ داروں کو ملازمتوں سے فارغ کرنے اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کے لئے ضروری کارروائی عمل میں لائے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اس مجرمانہ غفلت کے کے مرتکب افراد کے ساتھ کسی صورت کوئی رعایت نہیں کی جائے گی، اگر بورڈ آف گورنرز اس مجرمانہ غفلت اور کوتاہی کے مرتکب افراد کے خلاف کاروائی نہیں کی تو صوبائی حکومت اپنی سطح پر ایک آزادانہ تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائے گی۔
وہ پیر کے روز اپنے دفتر میں مذکورہ واقعے کی ابتدائی رپورٹ اور دیگر معاملات کا جائزہ لینے کے لئے ایک خصوصی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ صوبائی کابینہ ممبران تیمور سلیم جھگڑا، شوکت یوسفزئی ، سلطان خان اور کامران بنگش کے علاوہ ایڈوکیٹ جنرل، سیکرٹری ہیلتھ، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ، خیبرٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کے چیئرمین اور دیگر ممبران نے اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کی طرف سے ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا اور 48گھنٹوں کی بجائے 24گھنٹوں میں واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کرنے پر محکمہ صحت اور بورڈ آف گورنرز کی تعریف کرتے ہوئے ہدایت کی گئی کہ اس ابتدائی تحقیقات کو بنیاد بنا کر معاملے کے دیگر تمام پہلووں سے مزید تحقیقات کرنے ، ذمہ دار افراد کی زمہ داریوں کی نوعیت کا تعین کرنے اور انہیں سخت سے سخت سزاد ینے کے لئے ایک ہفتے کے اندر تفصیلی رپورٹ پیش کی جائے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ اسی اسلسلے میں مزید پیشرفت اور کاروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے آنے والے جمعہ کے دن ایک اور اجلاس منعقد کیا جائےگا۔


وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے کے ذمہ داروں میں جو سرکاری ملازمین ہیں ان کے خلاف سرکار کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت سخت کاروائی عمل میں لائی جائے اور جو ہسپتال کے ادارہ جاتی ملازمین ہیں ان کے خلاف ادارے کے مروجہ قواعد و ضوابط کے تحت کاروائی عمل میں لائی جائے۔
اس واقعے کو انتہائی افسوسناک اور متعلقہ ذمہ داروں کی طرف سے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ اس طرح کے ناخوشگوار واقعات کی روک تھام اور تدریسی ہسپتالوں کے ایسے معاملات کو ٹھیک کرنے کے لئے ایک لائحہ عمل ترتیب دیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ خیبرٹیچنگ ہسپتال کی حد تک انتظامی کوتاہیوں کی وجہ سے پیش آیا ہے جس کو صوبے میں صحت کے پورے نظام سے جوڑنا درست نہیں تاہم حکومت اس واقعے کو سامنے رکھتے ہوئے تمام تدریسی ہسپتالوں کے ایسے معاملات کو مزید بہتر بنانے کے لئے اقدامات اٹھائے گی اور اس بات کو یقینی بنائے گی کہ آئندہ ایسا کوئی ناخوشگوار واقعہ رونمانہ ہو۔ وزیراعلیٰ نے اس واقعے کے متاثرہ خاندانوں سے دلی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں صوبائی حکومت کی طرف سے فی خاندان دس لاکھ روپے مالی امدد کا اعلان کیا اور کہا کہ مالی امداد کسی صورت انسانی جانوں کا نعم البدل نہیں ہوسکتی لیکن یہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے مواقع پر متاثرین کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھ دے۔
<><><><><>


شیئر کریں: