Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

مودی سرکار کے مزدوردشمن بل کے خلاف احتجاج و کسانوں کی خودکشیوں میں اضافہ .قادر خان یوسف زئی

شیئر کریں:

بھارت میں کسانوں و غریب عوام پر توجہ نہ دینے والی مودی سرکار کو ایک بار پھر شدید عوامی ردعمل کا سامنا ہے۔ بھارت دنیا کی ایک بڑی آبادی والے ملک کی حیثیت رکھتا ہے، جس میں کثیر آبادی غربت و بدحالی کی بدترین صورتحال کا شکار ہے، معاشرتی طور پر بھارتی عوام کو ایک وقت کی روٹی کے حصوؒل کے لئے جان جوکھم محنت کرنا پڑتی ہے۔ بزرگ افراد، خواتین اور کم عمر بچوں کی سخت مشقت و کم معاوضے پر اپنی جانیں بچانے کی کوشش کررہے ہیں، ان معاشرتی طبقوں میں نچلی ذات کے ہندوؤں (دلت) سمیت دیگر مذہبی اقلیتوں کو انتہا پسندی و ریاستی جبر کا سامنا ہے۔ گذشتہ کئی برسوں سے بھارت میں سب سے اہم محنت کش طبقہ بدترین مشکلات کا شکار ہے، انہیں سرمایہ دارانہ و جاگیرانہ نظام کی وجہ سے بدترین مالی مشکلات درپیش ہیں،  بلخصوص بھارتی کسانوں کی ہزاروں کی تعداد میں خودکشیوں و اجتماعی اموات کی بازگشت دنیا بھر میں سنی جاسکتی ہیں، لیکن سرمایہ داری نظام کے مقلدین کی جانب سے مزدور پیشہ افراد کے ساتھ ناانصافیوں پر آواز اٹھانا یا مودی سرکار پر دباؤ بڑھانے کے کوئی عملی اقدامات دیکھنے میں نہیں آئے۔


بھارت میں تقریباً 85 فیصد کسان خطہ غربت سے نیچے بدترین حالات کا سامنا کرتے ہیں،  ان کے پاس پانچ ایکڑ سے بھی کم زمین ہے۔بھارت میں کرونا کی بدترین صورتحال کے باوجود بہت بڑی تعداد میں گذشتہ دو مہینے سے ’دہلی چلو‘ کے نام سے احتجاجی ریلی زور پکڑ رہی ہے اور مظاہرین میں سخت اشتعال پایا جارہا ہے، مختلف ریاستوں سے بڑی تعداد میں کسانوں کادہلی کی جانب رخ ہے، مودی سرکار نے ایک ایسا متنازع قانون راجیہ سبھا سے منظور کرایا، جسے کسانوں کی قریباََ تمام نمائندہ تنظیموں نے مسترد کردیا، خیال رہے کہ بھارت میں تقریباً 55برس پرانے ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی قانون کی رو سے کسان اپنی پیداوار کو ملک کی 7000 سے زائد سرکاری منڈیوں میں کمیشن ایجنٹوں کے ذریعے فروخت کرتے ہیں۔ اس کا مقصد انہیں بڑے ادارہ جاتی خریداروں کے استحصال سے بچانا ہے۔ حکومت کی دلیل ہے کہ کمیشن ایجنٹوں کا خاتمہ ہوجانے سے کسانوں اور صارفین دونوں کو فائدہ ہوگا۔ تاہم زرعی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے نتائج تباہ کن ہوں گے کیوں کہ جہاں بھی اس طرح کا تجربہ کیا گیا ہے، وہاں کسانوں کا ہی نقصان ہوا ہے، اس کے علاوہ موجودہ نظام میں کمیشن ایجنٹ مشکل گھڑی میں کسانوں کی مالی مدد کرتے ہیں تاہم بڑی کمپنیوں سے اس طرح کسی انسانی ہمدردی کی امید رکھنا فضول ہے۔85فیصد غریب کسانوں کے پاس جب پانچ ایکڑ سے بھی کم زمین ہو تو، ان کے لیے اپنی پیداوار کو فروخت کرنے کے سلسلے میں بڑے خریداروں سے معاملہ طے کرنا مشکل ہوگا۔واضح رہے کہ بھارت میں حکومت زرعی پیداوار کی ہر سال ایک کم از کم قیمت (ایم ایس پی) طے کرتی رہی ہے،  لیکنمودی حکومت نے نئے زرعی قوانین میں ایم ایس پی کو ختم کردیا۔ کسانوں کی طرف سے ان قوانین کی مخالفت کی ایک اہم وجہ یہ بھی  بتائی جاتی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق کسانوں کوروکنے کیلئے ہریانہ،پنجاب اور دہلی کے سرحدی علاقوں میں سخت سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں۔پولیس کی جانب سے مارچ کے شرکاء کو روکنے کیلئے پولیس کی آنسوگیس شیلنگ اور واٹرکینن کا استعمال کیا جاتا ہے، موجودہ صورتحال اس قدر گھمبیر ہوچکی ہے کہ دہلی پولیس نے حکومت سے 9 اسٹیڈیم کو عارضی جیلوں میں تبدیل کرنے کی اجازت مانگی ہے، جس سے حالات کی سنگینی اور ریاستی جبر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارت میں کسان کاشتکاری اور مزدوری سے متعلق نئے قوانین (ایگری کلچر پروڈیوس مارکیٹنگ کمیٹی قانون)کے خلاف سراپا احتجاج ہیں۔


 بھارتی کسانوں کی مالی مشکلات و درپیش مسائل کا اندازہ اس اَمر سے بھی لگایا جاسکتا ہے بھارت کے سرکاری اعداد و شمار یعنی نیشنل کرائم ریکارڈ بیوروکے مطابق 2014ء میں 12360 کسانوں نے خودکشیاں کی ہیں۔جبکہ2004 میں خودکشی کے سب سے زیادہ واقعات پیش آئے تھے، اس سال 18241 کسانوں نے اپنے جانیں گنوائیں۔ 2015 میں 12602 کسانوں نے خوکشی کی، یعنی جملہ آبادی کے ہر ایک لاکھ میں ایک اعشاریہ چار سے 1۔8 کسانوں میں یہ شرح دیکھی گئی۔چھوٹے اور مجھولے کسان اور بے زمین مزدور خودکشیوں کی جانب زیادہ (44.4%) مائل پائے گئے۔سال 2016 میں صرف مہاراشٹر میں 3661 کسانوں نے اپنے ہاتھوں سے قیمتی جان کو ختم کیا۔یعنی ہر مہینے 948 یا روانہ 31 کسانوں نے خود کشی کی۔1995 سے 2016 تک 333407 کسان اپنے ہاتھوں معاشرتی مسائل و ریاستی اقدامات کی وجہ سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہوئے۔سال 2017 میں ملک بھر میں 129887 کسان اور زراعتی مزدوروں نے خودکشی کی,  جبکہ 2018 میں زراعتی شعبہ سے جڑے کل 10349 لوگوں نے خودکشی کی،  2019میں بھی سینکڑوں کسان خود کشی پر مجبور ہیں، کوویڈ 19کی وجہ سے مزدور محنت کش طبقہ پہلے ہی مشکلات کا شکار تھا کہ بھارتی حکومت نے ایک ایسا متنازع قانون نافذ کردیا، جس نے ملک بھر میں کسانوں میں تشویش کی لہر دوڑا دی اور سراپا احتجاج بن گئے۔


خودکشی کے زیادہ تر بڑے واقعات ریاست مہاراشٹر، کرنا ٹک، تلنگانہ، مدھیاپردیش، چھتیس گڑھ، آند ھر اپر د یش اور تامل ناڈو میں پیش آئے۔کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کسان خودکشی کے معاملے میں حکومت کوسخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ”وہ کسانوں کی طرف سے کی جانے والی خودکشی کے معاملات سے وہ ڈرتی ہے اس لئے صحیح عداد و شمار چھپا رہی ہے۔ ایک ٹویٹ میں ان کا کہنا تھا کہا”بی جے پی حکومت کے لوگ سچ سے اتنا ڈرتے کیوں ہیں؟ بی جے پی حکومت میں کسان مسلسل خود کشی کر رہے ہیں، لیکن بی جے پی حکومت نے کسانوں کے مسائل حل کرنے کی بجائے کسان خودکشی کی رپورٹ سے چھیڑ چھاڑ کرنا اور اسے دبا کر رکھنا زیادہ صحیح سمجھا“۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کسان خودکشی کے تعلق سے شائع ایک خبر بھی پوسٹ کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کسان خودکشی کے کیس بتانے سے زیادہ چھپا رہا ہے۔ حزب اختلاف کی جماعتوں نے اسمبلیوں میں قانون کی منظوری کے خلاف شدید احتجاج بھی کیا، لیکن اکثریت کے بل پر قوانین کو منظور کیا گیا، اپوزیشن کے احتجاج کا اندازہ اس اَمر سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ احتجاج کرنے والوں اراکین اسمبلی میں آٹھ ممبران کی رکنیت تک معطل کردی گئی۔نئے متنازع قانون کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قوانین کارپوریٹ گھرانوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔ وہ یہ خدشہ ظاہر کرتے ہیں کہ رفتہ رفتہ حکومت کی مقرر کردہ کم از کم قیمت کا سلسلہ ختم ہو جائے گا اور زرعی شعبہ نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔حزبِ اختلاف کا الزام ہے کہ زرعی بلوں سے کسانوں کے مفادات متاثر ہوں گے۔ حکومت جس طرح بہت سے سرکاری شعبے نجی کمپنیوں کے ہاتھوں فروخت کر رہی ہے، اسی طرح وہ اب زرعی شعبے کو بھی کارپوریٹ گھرانوں کے ہاتھوں بیچنا چاہتی ہے۔متنازع بلوں کے خلاف جمعے کو تقریباً 300 کاشت کار تنظیموں اور 20 سے زائد اپوزیشن جماعتوں نے ملک گیر احتجاج کیا اور ریلیاں نکالیں۔کاشت کاروں نے خبردار کیا ہے کہ جب تک حکومت ان بلوں کو واپس نہیں لے گی، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔


مودی حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کے خلاف بائیں بازو کی حمایت یافتہ 10 سنٹرل لیبر یونینوں نیاحتجاج و مظاہرہ کیا۔ بینک ورکرز بھی محنت کش بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔ مرکزی ٹریڈ یونین مختلف سرکاری، نجی اور کچھ غیر ملکی بینکوں کے چار لاکھ ملازمین  احتجاج میں شریک ہوئے۔ خیال رہے کہ 10سینٹرل لیبر تنظیموں میں انڈین نیشنل ٹریڈ یونین کانگریس (آئی این ٹی سی یو)،آل انڈیا ٹریڈ یونین کانگریس (اے آئی ٹی یو سی)، ہند مزدور سبھا (ایچ ایم ایس)، سینٹر فار انڈین ٹریڈ یونینز(سی آئی ٹی یو)، آل انڈیا یونائٹیڈ ٹریڈ یونین سنٹر (اے آئی یو ٹی یوسی)،ٹریڈ یونین کوآرڈی نیشن سینٹر(ٹی یو سی سی)،سیلف ایمپلائڈ وومینس ایسو سی ا یشن(ایس ای ڈبلیواے)، آل انڈیا سینٹرل کونسل آف ٹریڈ یونینز(اے آئی سی سی ٹی یو)، ٹریڈ یونین کوآرڈینیشن سینٹر (ٹی یو سی سی)، سیلف ایمپلائڈ ویمن ایسوسی ایشن (سروس)، آل انڈیا سنٹرل کونسل آف ٹریڈ یونین (اے سی سی ٹی یو)، لیبر پروگریسو فیڈریشن (ایل پی ایف) اور یونائیٹڈ ٹریڈ یونین کانگریس (یو ٹی یو سی) شامل ہیں۔اس کے علاوہ آل انڈیا بینک ایمپلائز یونین نے بھی احتجاج میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔ کچھ آزاد فیڈریشنز اور تنظیمیں بھی اس میں شامل ہیں۔  مودی سرکاری کے خلاف کسانوں کے علاوہ 25 کروڑ سے زائد ملازمین حصہ لے رہے ہیں۔


بھارت کی حکومت پر انتہا پسند ی کے الزامات، اب صرف الزامات نہیں رہے، بلکہ دلت سمیت اقلیتی مذہبی اکائیوں میں مزدور پیشہ طبقہ، بلخصوص کسانوں کا استحصال غیر معمولی حد تک بڑھ چکا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے شدت پسند اور مزدور قوانین کے خلاف انسانی حقوق کے اداروں نے آواز بھی اٹھائی اور مودی سرکار کا چہرہ بھی بے نقاب کیا ہے،لیکن آر ایس ایس کے نظریات کی حامل حکومت عالمی قوانین کی دھجیاں بکھر رہی ہے، مودی سرکاری کی پوری توجہ صرف پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے واقعات میں کالعدم تنظیموں کو فنڈنگ کرنا، منی لانڈرنگ و انتہا پسندی کو فروغ دینے کے علاوہ پڑوسی ممالک بلخصوص پاکستان، چین کے خلاف جنگی جنون میں اضافہ کرکے اپنی عوام کو منفی پروپیگنڈے کرکے گمراہ کرنا شامل ہے۔ مودی سرکار، اپنی جتنی توجہ پڑوسی ممالک کے خلاف جنگی جنون اور بھارتی عوام کو سہولت پہنچانے کے بجائے اسلحے کے ڈھیر خریدنے میں لگی ہوئی ہے، اگر اسلحے کی دوڑ میں غریب عوام کا خون چوسنے کے بجائے، ان کی فلاح پر خرچ کرتی تو آج لاکھوں محنت کش خود کشیوں پر مجبور نہ ہوتے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم مودی زراعت و صنعت سے متعلق ان قوانین کو تاریخی حیثیت کا حامل قراردے رہے ہیں لیکن اس سے پہلے بھی انہوں نے بڑے کرنسی نوٹوں پر پابندی(نوٹ بندی)، اشیاء اور جی ایس ٹی اور پھر کورونا کی وجہ سے لاک ڈاون کو تاریخی بتاتے ہوئے، ان کے بیشمار فائدے گنوائے تھے لیکن ان سب کا حشر ہمارے سامنے ہے۔


شیئر کریں: