Chitral Times

Mar 1, 2024

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کے ٹی ایچ انکوائری رپورٹ کی روشنی میں ہسپتال ڈائریکٹر سمیت 7 افسران و ملازمین معطل

شیئر کریں:

پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں آکسیجن سپلائی میں کمی اور تعطل کے معاملے کی ابتدائی انکوائری رپورٹ حسب وعدہ عام کر دی ہے۔ اسی رپورٹ کی روشنی میں ہسپتال ڈائریکٹر سمیت 7 افسران و ملازمین کو معطل کیا گیا ہے۔ ہسپتال واقعہ کی ابتدائی رپورٹ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو پیش کردی گئی جبکہ کے ٹی ایچ بورڈ آف گورنرز کو تفصیلی رپورٹ اور مزید کارروائی کے لیے پانچ دن کا وقت دیا گیا ہے۔ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے جاں بحق مریضوں کے لواحقین کے لئے 10 لاکھ روپے فی کس معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ ان خیالات کا اظہار خیبرپختونخوا کے وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم خان جھگڑا اور وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران خان بنگش نے سول سیکرٹریٹ پشاور کے اطلاع سیل میں خیبر ٹیچنگ ہسپتال واقعہ اور اس کی ابتدائی رپورٹ کے حوالے سے میڈیا بریفنگ میں کیا۔ صوبائی وزیر صحت و خزانہ تیمور سلیم جھگڑا نے اس موقع پر بتایا کہ کے ٹی ایچ واقعہ کی ابتدائی انکوائری رپورٹ میں ہسپتال کی خامیاں چھپانے کی بجائے سامنے لائی گئی ہیں جبکہ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز کی تین رکنی انکوائری کمیٹی نے 48 کی بجائے 24 گھنٹوں میں ہی رپورٹ تیاری کر کے پیش کر دی۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ آکسیجن کی کمی کی بروقت نشاندہی ہونی چاہے تھی جبکہ سٹاف کی ٹریننگ نہ ہونے کے باعث بروقت اقدامات نہ اٹھائے جا سکے جس سے یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا۔ ہسپتال کے بورڈ آف گورنرز نے 7 افسران اور ملازمین کو ابتدائی انکوائری رپورٹ کی روشنی میں معطل کردیا اور ہسپتال بی او جی کو تفصیلی رپورٹ اور مزید کارروائی کے لیے 5 دن کا وقت دیا ہے۔ ہسپتال بورڈ تفصیلی رپورٹ جمعہ کے روز وزیراعلیٰ کو پیش کرے گا جس کے بعد فیصلہ کریں گے کہ اپنی آزاد انکوائری کروائیں یا نہیں۔ تیمور جھگڑا نے کہا کہ اس بار روایتی طریقہ کار اپنانے کی بجائے عملی کارروائی کی جائے گی۔ قبل ازیں وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے اطلاعات و اعلیٰ تعلیم کامران بنگش نے کہا کہ پوری صوبائی حکومت اس افسوسناک واقعے پر غمزدہ ہے۔ وزیراعلیٰ محمود خان نے آج صبح اس معاملے پر اجلاس بلایا تھا جس میں صوبائی وزراء سمیت خیبر ٹیچنگ ہسپتال کے بورڈ اف گورنرز کے ممبران بھی شامل تھے اجلاس میں وزیراعلیٰ کو اس واقعے اور ابتدائی رپورٹ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیرِاعلیٰ محمود خان اس اندوہناک واقعے کے رونما ہونے سے لے کر اب تک کے تمام معاملات خود مانیٹر کررہے ہیں۔ کامران بنگش نے کہا کہ انسانی جانوں کے ضیاع کا کوئی معاوضہ اور نعم البدل نہیں ہے تاہم وزیراعلیٰ محمود خان نے واقعے میں جاں بحق مریضوں کے لواحقین کے لئے 10, 10 لاکھ روپے معاوضے کا اعلان کیا ہے۔ معاون خصوصی نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت دکھ کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔


شیئر کریں: