Chitral Times

Nov 28, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

لواری آور چترالی ……محمد افضل چترالی

شیئر کریں:

ماضی میں لواری ٹاپ پر سفر کرنا چترالی شہریوں کیلئے ایک جان لیوا امتحان تھا- ہمارے آباؤ اجداد کے تصور میں بھی نہیں ہوگا کہ اس مشکل سے خلاصی کا کوئی امکان بھی ہو سکتا ہے- ایک رپورٹ کے مُطابق جو نظروں سے گزرا تھا کہ “ٹنل بننے تک کوئی باسٹھ قیمتی جانیں اس پر قربان ہوچکے”- لیکن پھر اللہ پاک نے ذوالفقار علی بھٹو کی شکل میں ایک حکمراں نصیب کیا جو اہل چترال کیلئے ایک فرشتہ ثابت ہوا- اقتدار میں اتے ہی خوشخبری سنائی کہ وہ لواری ٹنل بناکر چترال کو سال کے بارہ مہینے پاکستان کے دیگر علاقوں سے منسلک کردینگے- جو ایک خواب کے مانند لیکن امید کی ایک کرن ضرور تھا- پھر جب 1971 میں لواری ٹنل پر حسب وعدہ کام کا آغاز ہوا تو خواب کی تعبیر کے روشن امکانات نظر آنے لگے- لیکن ہماری قسمت پلٹ گئی اور ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت ختم کردی گئی جس کے نتیجے میں اس خواب کی تعبیر بھی چکنا چور ہو گیا- پھر ضیاء الحق کی مارشلاء میں ان کے حواریوں بالخصوص عوامی نیشنل پارٹی لیڈرز اور دیگر نے لواری ٹنل کی شدید مخالفت کی, نتیجتاً ٹنل کا کام مکمل بند ہوگیا- جب پیپلز پارٹی کی دوسری حکومت آئی تو امید پیدا ہوئی کہ شاید ذوالفقار علی بھٹو کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچے لیکن اس بار بھی ایسا نہ ہوسکا اور لواری ٹنل سیاستدانوں کیلئے سیاست چمکانے کا زرخیز میدان بن گیا-


لیکن اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں- پھر جنرل مشرف کی شکل میں اہل چترال کیلئے ایک اور محسن بھیجا جس نے نہ صرف لواری ٹنل پر دوبارہ کام کا آغاز کیا بلکہ اسے وسطی ایشیائی ممالک اور بذریعہ شندور چین کیساتھ منسلک کرنے کا عہد کیا- مگر ہمارہ بدقسمتی کہ لواری کی تعمیر سے پیشتر ان کی حکومت بھی چلی گئی اور ٹنل نامکمل ہی رہا- پیپلز پارٹی کی تیسری حکومت کے اندر اس پر کم از کم یہ پیشرفت ہوئی کہ وسطی ایشیائی ممالک اور چین تک رسائی کے پیش نظر نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے ستمبر 2007 میں چترال اور دیر کے عوامی نمائندوں کے ساتھ مشاورتی اجلاس کے نتیجے میں “ریل ٹنل” منصوبے کو “روڈ ٹنل” میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی- چونکہ اس کے فیزیبلیٹی وغیرہ کی تیاری اور منصوبہ بندی میں وقت لگا جو پیپلزپارٹی کی حکومت میں تعمیری کام پر پیش رفت نہ ہو سکا اور ساتھ الزام بھی لگا کہ یوسف رضا گیلانی نے لواری ٹنل کا بجٹ ملتان منتقل کرلیا-


اگرچہ مسلم لیگ ن نے اپنی گزشتہ ادوار میں چترال کیلئے کوئی قابلِ ذکر کام نہیں کر سکی تھی لیکن آخری دور میں نواز شریف نے لواری ٹنل کی تکمیل کو اپنی ترجیحات کا حصہ بنایا اور ضرورت کے مطابق لواری پراجیکٹ کیلئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنایا جس کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کے بعد نواز شریف بھی بحیثیت محسن اہل چترال کے دلوں میں اپنے لئے ایک خاص جگہ بنا چکے-
آن تمام کوششوں کے حاصل اگرچہ چترال ملک کے دیگر حصوں کیساتھ سال بھر کیلئے بلا تعطل منسلک ہو چکا ہے لیکن متعلقہ انتظامیہ کی جانب سے ہر سال سردیوں کے ایام ٹنل کے اندر کام کا بہانہ بناکر ” بلا وجہ” سفر میں تعطل پیدا کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے بیمار, ضعیف العمر افراد, خواتین اور بچے دو دو گھنٹے شدید ترین سردی میں ٹنل کے آس پاس ٹھٹھک رہے ہوتے ہیں, جو سمجھ سے بالاتر ہے- لگتا ایسا ہے کہ مسافروںکو کسی ناکردہ گناہوں پر سزا دی جارہی ہو- اگر واقعی میں ٹنل کے اندر جاری کسی کام کی وجہ سے مسافروں کو روکا جائے تو عقل بھی اس عمل کو تسلیم کرلے لیکن “بلا وجہ” مسافروں کو پریشان کرنا کہاں کا انصاف ہے؟


غالباً 2017 میں ایک سفرکے دوران حسب معمول جب لواری کےمقام پر جاری شیڈول کے مطابق ہمیں روکا گیا تو اپنے معلومات میں اضافے کے غرض ایک ذمہ دار اہلکار سے پوچھا کہ اس “بلاوجہ” تعطل سے ہماری جان خلاصی کب ہوگی؟ تو جواب تھا اگلے سال ستمبرتک- اور ساتھ یہ بھی بتایا کہ ٹنل کے افتتاحی تقریب کیلئے سترکروڑ روپے مختص بھی کئے جا چکے ہیں لیکن دسمبر 2020 بھی اختتام پذیر ہونے کو ہے لیکن مسئلہ جون کا توں ہے- اس لئے ہمارے بے بس عوامی نمائندوں کو چاہئیے کہ وہ لواری ٹنل کے ذریعے سفر کرنے والے مسافروں پر رحم کرتے ہوئے ارباب اختیار سے ان مشکلات کے تدارک کیلئے کوئی کردار ادا کریں-


شیئر کریں: