Chitral Times

Dec 7, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

افغانستان میں روس اور چین کے مفادات ….پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:


عالمی طاقتوں کی جنوبی ایشیاء میں بڑھتی دلچسپی نے تمام نظریں افغانستان پر مرکوز کر دیں ہیں۔خطے کی دوبڑی طاقتیں روس اور چین بھی افغانستان میں اپنے مفادات کے لیے برسرپیکار ہیں۔درحقیقت افغانستان میں امریکہ کی موجودگی اور امریکہ بھارت گھٹ جوڑ نے روس اور چین کو افغانستان میں دلچسپی لینے پر مجبور کر دیا ہے۔ افغانستان میں چین کے مفادات پانچھ اقسام کے ہیں:سی پیک، چین کے صوبہ زینگ جیانگ کے حالات اور مستقبل کے خدشات، خطے میں امریکہ کی موجودگی، امریکہ بھارت گھٹ جوڑ جس سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ رہا ہے اور مشرق وسطی میں چین کے مفادات کا تحفظ شامل ہیں۔ افغانستان میں بدنظمی او ر بدامنی بلاشبہ سی پیک کو متاثر کرے گی اس لیے چین نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مستقبل میں افغانستان کو سی پیک میں شامل کرنے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔چین کی اس منصوبہ بندی سے نہ صرف سی پیک پر اس کے خدشات دور ہو ں گے بلکہ ایران اور مشرق وسطی میں چین کے اثرورسوخ کو تقویت ملے گی۔ سی پیک چین بھارت تجارت میں بے حد مدد گار ثابت ہو سکتا ہے مگر چین بھارت کشیدگی کی وجہ سے مستقبل قریب میں اس کے امکانات نظر نہیں آرہے۔

چین افغانستان میں وسیع تر جغرافیائی، سیاسی اور معاشی مفادات کے لیے دوڑ میں شامل ہوا ہے۔ چین بڑی ہوشیای اور دانشمند ی سے افغانستان میں اپنے قدم جما رہا ہے کہ اگر صورتحال یکسر تبدیل بھی ہو جائے تو اسے واپسی میں کوئی دقت پیش نہ ہو۔ چین نے بڑے ڈپلومیٹک انداز میں امریکہ طالبان مذاکرات میں ثالثی کی تاکہ افغانستان میں پاکستان کے اثرورسوخ سے فائدہ اٹھایا جا سکے اور افغانستا ن سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے میں آسانی ہو۔ چین کے لیے افغانستان پاکستان اورایران کے درمیان ایک راہداری کی حیثیت رکھتا ہے۔ چین افغانستان میں قدم بڑھانے کے لیے امریکہ طالبان مذاکرات میں پاکستان کے کلیدی کردار کا منتظر تھا، جو چین کی عین توقعات کے مطابق ہوا۔

پاک چین لازوال دوستی چین کے نئے عالمی ماڈل کو پھیلانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔ افغانستان میں جغرافیائی، سیاسی اور دفاعی مفادات کے ساتھ چین کے وسیع معاشی مفادات بھی موجود ہیں۔ چین کی کمپنیاں افغانستان میں موجود قدرتی وسائل پر گہری نظر رکھی ہوئی ہیں جن کا تخمینہ تقریبیا ایک ٹریلین ڈالر لگایا گیا ہے۔سال 2007 میں 3.4بلین ڈالر کی 30 سال کے لیے لیز کا معاہدہ ہو چکا ہے۔چین کی ایم سی سی اور جیانگ زی کمپنیاں مشرقی افغانستان میں دنیا کے دوسرے بڑے تانبے کے ذخیرے سے متعلق معاہدہ کر چکی ہیں۔ المختصر افغانستان میں چین کے لیے بہت کچھ موجود ہے جس میں قدرتی وسائل، دیگر ممالک سے رابطے کا زریعہ، عالمی توجہ کا حصول، جنوبی ایشیاء میں تجارتی منڈیوں تک رسائی، چین کے بی آر ٹی منصوبہ کی تکمیل اور دفاعی اہمیت قابل ذکر ہیں۔ افغانستان میں چین کے اثرورسوخ سے چین کے علاقائی کنڑول کے خوابوں کی تعبیر آسان تر ہو جائے گی۔

افغانستان میں چین کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کو پہلی بار 2014-15 میں دیکھا گیا جب چین نے امن کے لیے خصوصی ایلچی کی تقرری عمل میں لائی۔ افغانستان میں چین کی دلچسپی کی ایک بڑی وجہ چین کے صوبے زنگ جیانگ میں الگہر مسائل ہیں جو ایک جانب افغانستا ن کی سرحد سے ملتا ہے اور دوسری جانب آزادکشمیر کی سرحد سے۔ چین کو یہ خدشہ ہے کہ افغانستان میں بدامنی اس کے صوبے میں مسائل کو پیچیدہ بنا دے گی۔ افغانستان میں بدامنی چین کے لیے کسی طور مفید نہیں کیونکہ چین کی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹس کے مطابق ماضی میں زنگ جیانگ اور طالبان رہنماوں کے مابین روابط رہے ہیں۔ اس لیے چین کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے پر امن افغانستان کی کوششوں میں شامل ہے اور اسی لیے چین نے2016-18  میں افغانستان کو70 ملین ڈالر کی فوجی امداد دی۔چین نے دفاعی امداد کے علاوہ واکھان بارڈر کی تعمیر میں بھی افغانستان کی مدد کی ہے۔

سابقہ قابض روس کے برعکس چین کو افغانستان میں قدم جمانے کے آسان مواقع ملیں گے اور یہ خیال کیاجا رہا ہے کہ عنقریب چین افغانستان میں پاکستان کے بعد زیادہ اثرورسوخ رکھنے والا دوسرا بڑ ا ملک بن جائے گا۔ چین کی افغانستان میں موجودگی نے بھارتی کردار کو محدود کر دیا ہے اور خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ نے بھارت کو امریکہ ساتھ ملنے پر مجبور کر دیا ہے ہالانکہ بھارت عرصہ دراز تک امریکہ کے ساتھ اتحاد سے آنکھیں چراتا رہا ہے۔امریکہ خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کو روکنا چاہتا ہے اس لیے بھارت اس کی ضرورت ہے اور افغانستان میں بھارت کے قدم بھی وہاں امریکی موجودگی کے سبب ہیں۔چین افغانستان کو سی پیک میں شامل کر کے بھارت کو افغانستان سے نکال باہر پھینکے گا۔ روس نے بھی خود کو افغان امن کے لیے ایک ثالث کے طور پر سامنے لایا ہے اور اس ضمن میں طالبان رہنماوں کو ماسکو مدعو بھی کیا گیا تھا جو امریکہ کو ناگوار گزراتھا۔ماسکو میں روس طالبان ملاقات کو مقصد امریکہ کو خطے سے نکالنا تھا۔ روس کو وسطی ایشیاء کے امن کی فکر ہے اوریہ اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ خطے سے امریکہ کے جانے کے بعد سیکورٹی کا ایک خلا پیدا ہو گا جس سے روس کے مفادات بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ روس نے علاقائی تجارت کے تحفظ کو ہدف بنا رکھا ہے جس کے زریعے وہ جنوبی ایشیاء میں اپنا اثرورسوخ پائیدار کر سکتا ہے۔

روس افغانستان میں کسی دفاعی مفاد کی تلاش کے بجائے جنوبی ایشیائی ممالک کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات کا حامی ہے۔ افغانستان میں روس کے مفادات متضاد نوعیت کے ہیں ایک جانب تو روس غیر ملکی فوج کا انخلاء چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب افغانستان میں امریکہ کی موجودگی سے وہ سیکورٹی مسائل کے بجائے دیگر عوامل کی طرف پوری توجہ مرکوز کر سکتا ہے۔ روس بڑی ہوشیاری سے طالبان کی مدد کر تا رہا ہے جس کا مقصد نیٹو افواج پر حملوں کے بجائے ان کے لیے کھٹن حالات پیدا کرنا تھا جسکی وجہ سے وہ افغانستان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں، سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اس پالیسی کا روس کو یہ فائدہ ہواکہ وہ کم اخراجات کے ساتھ وہ بڑے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ روس کا افغانستان میں دوسرا مفاد یہ تھا کہ وہ امریکہ کو افغانستان میں پھنسائے رکھے تاکہ امریکہ سے افغانستان میں اپنی شکست کا انتقام لیا جا سکے۔ روس نے دیرپا مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے امریکہ اور نیٹو کی ساکھ کو بھاری نقصان پہنچایا ہے جس سے امریکہ اور نیٹو کی عالمی ہرزہ سرائی ہونے کے ساتھ ساتھ انہیں یہ باور کر وایا ہے کہ وہ اگلی مرتبہ کسی دور کے ملک میں مہم جوئی کرنے سے پہلے سو بار سوچیں گے۔ افغان کمانڈروں کو روسی مدد کا ایک مقصد یہ بھی ہے روس سمجھتا ہے کہ امریکہ اور طالبان دو مصیبتوں میں سے بہتر فائدہ پر امن افغانستان ہے کیونکہ طالبان کی مکمل کامیابی یا افغانستان میں امریکی قیام روس کے لیے کسی مشکل سے کم نہیں ہے۔ روس نے اسی فارمولے کو مدنظر رکھتے ہوئے شمالی کمانڈروں کی مدد کی ہے تاکہ وہ سنٹرل ایشیاء میں امریکی اثر رسوخ کو قابو میں رکھ سکے۔ روس امریکی انخلا ء کے بعد ایک مشترکہ حکومت کا حامی ہے۔


شیئر کریں: