Chitral Times

Oct 18, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

قول اور فعل میں واضح تضاد…..محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے اینٹی کرپشن کے محکمے کو مزید فعال، موثر اور مستحکم بنانے کے نئے قانون کے مسودے کو جلد حتمی شکل دینے اور آئندہ تین ہفتوں کے اندر ہر لحاظ سے مکمل مسودہ کابینہ میں پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ حکومت کا اصل مقصد سرکاری معاملات میں ہر طرح کی بدعنوانی کا مکمل تدارک اور شفافیت کو یقینی بنانا ہے، جو پی ٹی آئی کی حکومت کے وژن اور منشور کا بنیادی حصہ ہے۔ صوبائی حکومت نے عوام کو شفاف طریقے سے خدمات کی فراہمی کیلئے نہ صرف اداروں کو مضبوط اور بااختیار بنایا بلکہ جزا و سزا کا نظام بھی متعارف کرایااور قانون سازی کے ذریعے اصلاحات کے مجموعی نظام کو دیرپا بنایا۔ صوبائی حکومت نے اطلاعات اور خدمات تک رسائی جیسے قوانین منظور کرکے خود کو عوام کے سامنے جوابدہ بنایا۔ سرکاری اداروں میں سیاسی مداخلت کا خاتمہ کیا اور حق دار کو حق کی فراہمی کیلئے نظر آنے والے اقدامات اْٹھائے جن کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ صوبائی حکومت نے قانون سازی کے معاملے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ بہت سے ایسے قوانین بھی بنائے گئے جن کی طرف ماضی میں کسی نے توجہ دینے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی تھی۔ ماحول کے تحفظ کے لئے قانون سازی اور بلین ٹری سونامی منصوبے کو بین الاقوامی سطح پر پذیرائی ملی ہے۔ سیاحت کے فروغ کے لئے بھی ٹھوس اقدامات کا اعلان کیاگیا ہے۔ تاہم بنیادی چیز قوانین پر ان کی اصل روح کے مطابق عمل درآمد کرنا ہے۔ ملک میں خواتین کے تحفظ، انہیں سیاست، تعلیم اور روزگار میں مساوی حقوق دینے، انہیں گھریلو تشدد سے تحفظ فراہم کرنے، بچوں کے حقوق کی حفاظت، انہیں پرورش کا بہتر ماحول فراہم کرنے اور جسمانی طور پر معذور افراد کے حقوق کے تحفظ اور انہیں معاشرے کا کارآمد شہری بنانے کے لئے قوانین پہلے سے موجود ہیں مگر ان پر عمل درآمد کے فقدان کی وجہ سے معاشرے کے کمزور طبقے بدستور استحصال کا شکا ر ہیں۔قوانین پر عمل درآمد کی راہ میں کئی مشکلات اور رکاوٹیں حائل ہیں سب سے بڑی رکاوٹ حکومتی مشینری کی قوانین کے نفاذ میں عدم دلچسپی ہے۔دوسری رکاوٹ پولیس تفتیشی نظام میں بنیادی نقائص ہیں جن کی وجہ سے قوانین توڑنے اور سنگین جرائم میں ملوث عناصر بار بار پکڑے جانے کے باوجود سزا سے صاف بچ جاتے ہیں اور ہمارے عدالتی نظام میں بھی عوام کو فوری اور سستے انصاف کی فراہمی کے حوالے سے ابہام پایاجاتا ہے۔ہمارا عدالتی نظام غیر تسلی بخش ہونے کے باوجود اب بھی اعلیٰ اور ماتحت عدالتوں میں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں لوگ انصاف کے حصول کے لئے اپنی زندگی بھر کی پونجی لٹاکر عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹاتے ہیں جہاں فوجداری مقدمات کے فیصلے ہونے میں پندرہ بیس سال اور دیوانی مقدمات کے فیصلے ہونے میں چالیس پچاس سال لگ جاتے ہیں۔حکمرانوں کو عوام کے سامنے جوابدہ بنانے، سرکاری اداروں کو فعال کرنے اور عوام کو انصاف اور بنیادی شہری سہولیات فراہم کرنے میں حکومت کی نیت پر کوئی شک نہیں، لیکن حکمرانوں کے قول کو عمل کاجامہ پہنانے میں کئی اداروں کا کردار ہوتا ہے جب سرکاری مشینری کے تمام کل پرزے اپنی اپنی جگہ ٹھیک طریقے سے کام نہ کریں اور ان کے درمیان اشتراک کار کا فقدان ہو۔ تو حکومت کی ہدایات و احکامات اور قوانین بھی بے معنی ہوکر رہ جاتے ہیں۔عوام نے ووٹ کی پرچی کے ذریعے حکومت کو عوامی بہبود کے لئے قانون سازی، قوانین پر عمل درآمد، سرکاری اداروں کو فعال بنانے اور کارکردگی دکھانے کا مینڈیٹ دیا ہے۔ اسی مینڈیٹ کی طاقت سے حکومت عوام کی فلاح و بہبود اور ملک کی تعمیر و ترقی کی راہ میں حائل ہر رکاوٹ کو اکھاڑ پھینکنے کا اختیار رکھتی ہے۔ پانچ سال کی آئینی مدت پوری ہونے کے بعد حکمرانوں کا یہ عذرقابل قبول نہیں ہوگا کہ انہیں کام کرنے نہیں دیا گیااور اس کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں اور ماضی کے حکمرانوں کی لوٹ مار کی وجہ سے خزانہ خالی تھا۔ انتظامی لحاظ سے موجودہ صوبائی حکومت کی ڈھائی سالہ کارکردگی کو اطمینان بخش قرار دینا خود فریبی کے مترادف ہوگا۔ حکومت کو عوامی مینڈیٹ کی لاج رکھنے کے لئے اپنی مجموعی کارکردگی مزید بہتر بنانی ہوگی اور زندگی کے ہر شعبے میں اپنی موجودگی اور بیداری کو ثابت کرنا ہوگا۔


شیئر کریں: