Chitral Times

Nov 27, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اپنی اور ان کی قیمتی باتیں یاد رہیں گی ….عبدالعزیز

شیئر کریں:


مجھے یاد ہے کو عالمی چیمپئن میں یکایک ارجنٹینا کی جیت اور مرا ڈونا کا جرمنی کے خلاف دو گول کا چرچا دنیا بھر میں ہوا روز نامہ اقرا میں خاکسار نے مرا ڈونا کے غیر معمولی کھیل کے بارے میں ادا رتی نوٹ میں لکھا کہ جب اس کے پاؤں میں گیند آتی ہے تو وہ سرپٹ گول پوسٹ کی طرف بہت تیز رفتاری سے دوڑتا ہے مخالف ٹیم کے کئی کھلاڑی اس پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ اس کو فول کرتے ہیں گرانے یا روکنے کی کوشش کر تے ہیں مگر وہ جس گیند اور گول پوسٹ پر نظر رکھتا ہے کسی کے فول یا حملے کا جواب نہیں دیتا سب کو زک دیتے ہوئے جال میں گیند ڈالنے میں کامیاب ہو جاتا ہے اور مخالف ٹیم کے کھلاڑی حیرت زدہ رہ جاتے ہیں۔


ہم نے لکھا تھا کہ اگر انسان اپنے اعلیٰ مقصد کو پیش نظر رکھے اور مخالفین سے نہ الجھے اپنے مقصد کو پیش نظر رکھے تو وہ اپنے اعلیٰ مقصد میں کامیاب ہوسکتا ہے۔مومن کو تقوی کی صفت اختیار کرنے کی نصیحت دی جاتی ہے اور تقوی کی مثال یہ بتا ئی جاتی ہے کہ جب تم کانٹے دار جھاڑیوں کے درمیان سے گزرو تو تو اگر تمہارا دامن کانٹوں سے الجھے تو تم مت الجھو بلکہ اپنے دامن کو پھاڑ کر کانٹوں کے حوالے کر دو اور آگے بڑھ جاؤ۔ یہی دنیاوی زندگی میں بھی کرنا‘ شر پسند وں سے الجھے بغیر سفر جاری رکھنا ہے منزل مقصود کو ہروقت پیش نظر رکھنا ہے یہی تقوی ہے۔خار دار جھاڑیوں سے الجھنا تقوی کے خلاف ہے۔
جب کبھی اور جس کسی نے اعلیٰ انسانی اقدار سے روگردانی کر کے دوسرے انسانوں پر غلبہ حاصل کرنے کی کوشش کی ہے، وہ بالآخر خود ان ہی آفتوں کا شکار ہوا ہے جن کا ارتکاب اس نے دوسروں کے لیے روا رکھا تھا۔ جبر وقہر ایسا وائرس ہے جو طبقات، طاقت اور کمزور کسی میں امتیاز نہیں کر تا۔ جب وہ پھیلتا ہے تو جلد یا بہ دیر کسی نہ کسی شکل میں ہر ایک سے تاوان وصول کرتا ہے۔ وہ ریاست و جما عت جو محض وقتی مصلحتوں،عارضی و نا مبارک اتحاد،مفادیا طاقت و تعدی کو مدنظر رکھتی ہے۔ایسے سما ج کو وجود میں لاتی ہے جو بالآخر اسی حکومت یا جما عت کی رسوائی و تباہی کا باعث ہوتی ہے۔ ثبات و دوام صرف ایسی ریاست اور تہذیب کو حاصل ہوتا ہے جو فرد و معاشرے کی بہترین صفات کو بر سر کار لا نے میں معین ہو اور تازہ کار رکھے۔


”ہندو ستانی ریاست اخلاق اور تہذیب کے جن بلند آدرشوں پر قائم ہے، وہ ہندوستانی قوم کی اعلی تمنا ؤں اور حوصلوں کی آئنہ داری کرتے ہیں۔ اس لیے ہر ہندو ستانی کا یہ فرض ہے کہ ان عظیم مقاصد اور اہم مسائل کی ترقی اور تکمیل کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دے۔ ہمارا آپ کا یا کسی کا ہر وہ عمل جو ان عزائم کی نفی کرتا ہو، ریاست کی جڑیں کاٹتا ہے“(رشید احمد صدیقی)
کلمہ: ”پچپن میں کہیں پڑھا تھا کہ عربوں نے ایران پر فوج کشی کی اور اہل ایران حملے کی تاب نہ لا کر صلح کی گفتگو کر نے کی خواہش مند ہوئے تو ان کا سفیر عرب کیمپ میں امیر لشکر سے ملنے آیا اور کہا شہنشاہ ایران سے گفتگو کرنے کے لیے اپنا کو ئی نمائندہ بھیجو امیر نے ادھر ادھر نظر ڈالی ایک بدوی اپنے گھوڑے کی مالش کر رہا تھا۔ بلا کر حکم دیا کہ شہنشاہ ایران نے گفتگو کے لیے ہمارا نمائندہ طلب کیا ہے تم چلے جاؤ اور بات کر کے آجاؤ۔ اس نے ایک لمحہ کے لیے تامل کیا پھر روانہ ہوگیا۔ واپس آیا تو سارے کیمپ کو یہ سننے کے لیے مشتاق و منتظر پایا کہ ایک بد وی عرب اور شہنشاہ ایران میں کس سطح پر کیا گفتگو ہوئی۔ اس صحرا نشین اور بادیہ پیمانے بتا یا کہ امیر نے یہ خد مت سونپی تو تھوڑی کے لیے حواس گم ہوگئے کہ میں جاہل، کم حیثیت کس طرح اور کیا گفتگو کروں گا لیکن جلد ہی سنبھل گیا اور سیدھا شہنشاہ کے دربار میں پہنچا۔ شہنشاہ نے پوچھا، تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا صرف اس کا اقرار کہ ”خدا ایک ہے اور محمدؐ اس کے رسول ہیں“


دور غلامی:
پاکستان دو حصے میں ٹوٹنے سے پہلے جنرل یحٰی خان نے الیکشن کرایا تھا۔ اس وقت مغربی حصے میں ذوالفقار علی بھٹو کی پپوپلز پارٹی اور مشرقی حصے میں مجیب الرحمن کی عوامی لیگ مضبوط پارٹی تھی۔ جماعت اسلامی پاکستان دونوں حصوں میں قائم تھی اور اثر رکھتی تھی الیکشن میں تینوں پارٹیوں کا زور تھا مگر بھٹو مغرب میں اور مجیب مشرق میں تقریباً ساری سیٹوں پر کامیاب ہوگئے جماعت کو برائے نام سیٹوں پر کامیابی ملی۔ مجیب الرحمن کو اقتدار سونپنا چاہئے تھا مگر یحیٰ نے کم سیٹوں پر کامیابی کے باجود بھٹو کی پارٹی کو اقتدار سونپ دیا اور اس سے مغرب اور مشرق کی رسہ کشی میں ملک کے دوٹکڑے ہوگئے۔اسی زمانے کی بات ہے کہ پاکستانی سفارت خانے کے افسر سے ایک افطار پارٹی میں ملاقات ہوگئی بات پاکستان کے الیکشن کی نکل آئی دوران گفتگو پنجابی افسر نے کہا کہ مولانا ابوالاعلیٰ مودودی کی پارٹی کو کیسے مسلمان ووٹ دیتے وہ تو چین کے موزی تنگ سے بات ہی نہیں کرسکتے اس وقت میں نے ان سے کہا تھا آپ کی غلامانہ ذہنیت ہے جو آپ ایسی بات کر رہے ہیں پھر میں نے انہیں مذکورہ قصہ سنایا اور کہا کہ جماعت اسلامی کے لوگ غلا مانہ ذہنیت سے آزاد ہیں آپ شاید یقین نہ کریں جماعت کا ایک معمولی کارکن آپ کے بڑے سے بڑے لیڈروں سے مقابلہ میں اچھی بات دیگر ملکوں کے سر براہوں سے کرسکتا ہے۔ آپ نے شاید سنا نہیں اور بڑھا نہیں کہ جنرل ایوب خان سے مولانا مودودی کس طرح باتیں کیا کرتے تھے۔ افسر کے منہ سے پھر کوئی اواز نہیں نکلی۔


ایرانی وفد کی خروشچیف سے ملاقات:
چند سال پہلے ملک کے علما کا ایک وفد ایران گیا تھا وفد میں خاکسار بھی شامل تھا۔ قم شہر میں اس عالم دین سے ملاقات کا ایک پروگرام رکھا گیا تھا جس نے اس ایرانی وفد کی قیادت کی تھی جس کی ملاقات ماسکو میں روسی صدر خروشچیف سے ہوئی تھی۔ عالم دین نے اپنی تقریر میں خروشچیف سے ملاقات اور بات چیت کا تذکرہ کیا انہوں نے فرمایا کہ جب ملاقات ہوئی تو خروشچیف کے ذہن میں تھا کہ ہمارا وفد ملک کیلئے امداد کی بات کرے گا لیکن ہماری بات جب اسلام کے تعارف کرانے سے شروع ہو ئی تو یہ چیز ان کے لیے غیر متوقع معلوم ہوئی۔ جس کی وجہ ان کا چہرہ سرخ ہونے لگا جب اسلام کے تعارف کے بعد عالمی سیاست اور بین الاقوامی تعلقات پر بات شروع ہوئی تو پھر وہ نارمل ہوگئے۔وہ سمجھ گئے ہم لوگ ہاتھ اوپر رکھنے والوں میں سے ہیں ہاتھ نیچے رکھنے والوں میں سے نہیں۔ہم نے انقلاب ایران کا حال سنایا اور امام خمینی کا خط بھی انہیں دیا پھر ان کا مزاج بالکل ٹھنڈا ہوگیا“۔ علامہ اقبال نے سچ کہا ہے:
غلامی میں نہ کام آتی ہیں تدبیریں نہ شمشیریں
جو ہوذوق یقین پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں


حرف آخر:
”انسان کی پوری تاریخ اس پر گواہ ہے کہ اس کی تہذیب وبرومندی اور بر گزیدگی اسی وقت نصیب ہوئی ہے جب اسفل سے اعلیٰ کی طرف مائل ہوا ہے۔اعلیٰ سے اسفل کی جانب مراجعت اس کے کمال کی شکل میں کبھی نہیں لیکن اس کے زوال کی صورت میں ہمیشہ رونمائی ہوئی ہے“


شیئر کریں: