Chitral Times

Oct 20, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت، بلتستان سیاسی منظر نامہ اوراسمبلی کی ذمہ داریاں..تحریر تائب جان،ہنزہ، گلگت،بلتستان

شیئر کریں:

سال ۲۰۲۰نے جہاں دنیا کو کوویڈ جیسے خطرات سے دوچار کر دیا، وہی کئی مواقع بھی پیدا کردیے جس میں قابل ذکر صحت کے شعبے میں سرمایہ کاری اور تعلیم کے لیے نئے جہت کی طرف پیش  قدمی ہے اس کے ساتھ ہی ساتھ جمہوریت پہ یقین  پہلے سے بھی پختہ ہوگیا۔ اسی سال   ہی امریکہ  کے ساتھ  ساتھ، گلگت بلتسان  میں بھی  الیکشن کے میدان سج گئے۔ اس بات سے قطعہ نظر کہ کون جیتا اور کس کو اس بار کامیابی نہیں ملی ، عوام نے  سیاسی پختگی اور بصیرت کا مظاہرہ کیا  اور ہارنے والوں نے جیتنے والوں کو مباکبادیاں دی،   اور ساتھ مل کر عوام کی خدمت کرنے کی یقین دھانی کرائی ۔شایدیہی تو  جمہوریت کی سب سے بڑی خوبصورتی ہے کہ لوگ ایک دوسرے کے مینڈیٹ کا احترام کرتے ہیں  اور مل جل کر مسائل کے حل پر توجہ دیتے ہیں۔  اسی دوران  نو برسوں سے مقید مقبول سیاسی لیڈر بابا جان سمیت  دیگر اسیران سمیت  رہا ہوکر اپنے خاندان اور چاہنے والوں کے درمیان آ گئے۔  یہ خبر  ہنزہ  کے عوام کیلئےبلخصوص ، گلگت، بلتستان کے عوام کیلئے  بلعموم  اور ملک بھر کے  انسانی حقوق  کے تنظیموں ،سیاسی اور سماجی حلقوں کیلئے ایک بہت ہی بڑی خوش خبری ہے۔  وہ ایک انقلابی لیڈر ہے،اُن کے اندر جذبہ بھی ہے اور سیاسی بصیرت بھی۔  ہم ان سے امید رکھتے ہیں کہ وہ  نواز خان ناجی کی طرح اپنے علاقے کے عوام  کی ترجمانی کرنے اور ترقی دینے کے لئے اپنا کردار ادا کریں گے۔ سیاسی لیڈروں کے لیے جیل  کے اندر اور باہر ہونا ایک معمول  کی بات ہوتی ہے۔  البتہ یہ بات  یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کے مسائل بنیادی اور فوری نوعیت کے ہوتے ہیں اس میں جو جتنی جلدی مدد کرنے پہنچ جائے وہی دل جیت لیتا ہے۔   

الیکشن کے دوران گلگت، بلتستان کے عوام نے جس طرح کےمثالی نظم و ضبط کا مظاہرہ کیا اُس نے  یہ ثابت کردیا کہ گلگت بلتستان کے لوگ مہذب  ہیں۔ گو کہ ہم سیاست  کے میدان میں نووارد ہیں لیکن تہذیب  میں بہت آگے ہیں۔    ہم اپنے سیاسی مسائل کو سیاست سے اور دیگر مسائل کو دیگر طریقوں سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قومی نمائندوں   نے  بڑی تعداد میں علاقوں کےدورےکیے،جگہ جگہ پُر امن  جلسے، جلوس کیے ، جس میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے اپنے پارٹیوں کے وابستگیوں سےبالا تر ہوکر شرکت کی،   اس  الیکشن کو لوگوں نے ایک تہوار کے طور پر منایا   جس کو قومی میڈیا نے دل کھول کر اس کوریج دی۔  اس سے فائدہ یہ ہوا کہ ہمارے مسائل مقامی سے نکل کر قومی سطع پر اٹھایئے گئے۔ خواتین نے بھی بڑی تعداد میں ووٹ ڈالنے  ڈالنے کیلئے گھروں سے باہر نکلنے کا فیصلہ کیا جس کی ملکی سطح پربہت  پذیرائی ملی۔   اس بار چند باہمت خواتین نے بھی قسمت آزمائی کی جو کہ خوش آئند ہے ان کی دیکھا   دیکھی شاید  انے  والے وقتوں میں مزید خواتین سامنے آجائے۔ البتہ خواتین کو سیاست میں شامل کرنے کے معاملے  میں ہم بہت ہی پیچھے ہیں اور ہمیں اپنے خواتین کو مزید ہمت اور حوصلہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ وہ  ابتدائی طور پرکم ازکم اپنے پچاس فیصد خواتین کی نمائندگی کرسکے۔    الیکشن کے چند  ایک نتائج پر سوالات بھی اٹھائے گئے اس دوران    ایک آدھ  ناخوشگوار واقعات بھی رونما ہوئے۔جس میں سرکاری املاک کو  نقصان بھی پہنچایا گیا جس کی ہر پارٹی کی قیادت  اور عوام نے کھل کر مذمت کی اور اسے شرپسندی قراد دیا۔    اس الیکشن کی   ایک اور قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ  اس بار ہمارے عوام نے  زیادہ ترنئے چہروں کو  آزمودہ اور کُہنہ مشق  شخصیات پہ ترجیح دی  جس یہ بات ثابت ہو جاتی ہے کہ لوگوں کے اندر امید کی شمع روشن ہے اور لوگ شخصیات کی سیاست کو خیرباد کرنے لگے ہیں جو کہ نہایت ہی خوش  أأیند ہے۔

اب اسمبلی بن گئی اور بابا جان رہا ہو گئے  اب  سوچنا یہ ہے کہ  آگے کرنا کیا ہے۔    اس اسمبلی کو اس سے پہلے بننے والے اسمبلیوں پہ حد درجہ فوقیت حاصل ہے، اول، تو یہ ہے کہ اسمبلی کا بھاگ دوڑ نوجوانوں کے ذمہ لگا دی گئی، اور دوئم، یہ کہ مرکزی حکومت کے صوبے کے اعلان کے تناظر میں اس اسمبلی نے تاریخ ساز کردار ادا کرنی ہے، سوئم ، یہ کہ اب ہم نے بہتر سیاسی پختکی کے ساتھ اپنے نمائندے منتخب کئے ہیں ۔ ایسی اسمبلی نے آئین  میں نے صوبے بنانے کے راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے مرکزی حکومت کی مدد کرنی ہے۔ اس کے علاوہ    ہمارے علاقے کو  اب  بنیادی ضرورتوں اورترقی کی ضرورت ہے، ہمیں  بجلی، انٹرنیٹ، موٹر وے طرز کے روڈ،سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات ،جدید تعلیمی وسائل جس میں میڈیکل اور انجنیئر نگ کالج  شامل ہے، صحت کیلئے ہسپتالوں  اور صحت کارڈ جیسے سہولیات،    کھیل کے میدانوں، خواتین کی تعلیم و ترقی،  نوجوانوں کیلئے کاروبار کے مواقع ، اور این، سی، ایف، ایوارڈ میں اپنا  حصہ چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمارے علاقے کے بےشمار مسائل ہیں ان سب پہ انقلابی میدانوں پہ کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کے محرومیوں کو دور کیا جا سکے،   ہم چاہتے ہیں کہ پہلے ہی مرحلے میں ہمارے اسمبلی  کا نام صوبائی اسمبلی ہو اور ہمارے نمائندے نیشنل  اسمبلی اور سینٹ میں ہماری نمائندگی  کو ممکن بنانے کے لئے  کام کرے۔ اس کے لیے ہمارے تمام نمائندوں کو اپنے  پارٹی اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر اپنے عوام کی بے لوث خدمت کرنی ہوگی۔   جن لوگوں کا اس بار کامیابی نہیں ہوئی انہیں سمجھنا چاہیے کہ یہ بازی مات نہیں  انہیں عوام کے درمیان رہ کر اُن کے مسائل حل کرنے کی جُد و  جہد کرنے کی ضرورت ہے اور لوگوں کے اعتماد حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔  اُن کو سیاست سے دل برداشتہ نہیں ہونے چاہیے اور  آنے والے کل کی تیاری کرنی چاہیے سیاست میں رہ کر ہی وہ عوام کی بہتر خدمت کی جاسکتی ہے۔  


شیئر کریں: