Chitral Times

Dec 2, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرونا پر عائلی تحقیق کی ضرورت ….. قادر خان یوسف زئی کے قلم سے

شیئر کریں:


 
گذشتہ برس جب کرونا نے وائرس کی آمد ہوئی تو گمان تھا کہ اسے ایک سازشی منصوبے کے تحت ووہان میں پھیلایا گیا، جس کے بعد شدت سے قیاس آرائیوں و شواہد فراہم کا سلسلہ شروع ہوگیا کہ امریکی  سیاحتی یا فوجی گروپ’وائرس کی نئی جنریشن‘ ساتھ لایا تھا، ان کی مبینہ تصاویر بھی میڈیا میں پھیلائی گئیں، 1930میں مرغیوں میں ظاہر ہونے والا یہ وائرس 1960سے انسانوں میں داخل ہوتا ہوا،اب پانچویں نسل کی بیماری کوویڈ 19کے نام سے پھیل چکی ہے۔ امریکا نے الزام عاید کیا کہ یہ چین کی غلطی ہے، جس کا اسے خمیازہ بھگتنا ہوگا، کہا گیا کہ مبینہ طور یہ تجربہ گاہ سے’چھپر پھاڑ‘ کر نکلا اور بحری جہاز پر سوار ہوکر دنیا بھر میں پھیل گیا۔


 چین سے دنیا بھر سے آئے غیر ملکیوں کو واپس بلا یا گیا،کہا جاتا ہے کہ اگر پاکستان کی طرح غیر ملکی شہریوں کو فوراََ نہ نکالا جاتا تو امید کی جاسکتی تھی کہ کوویڈ 19 کو دنیا بھر میں پھیلنے سے روکا جاسکتا تھا (پاکستان میں کرونا پھیلنے کی وجوہ دوسری ہیں)، عمومی تاثر ہے کہچین کے ساتھ عناد کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک مخصوص ایجنڈے کے تحت سازشی تھیوری پھیلائی گئی، پھر جی فائیو کی تنصیب و ٹیکنالوجی کے نام پر الزامات کا نیاسلسلہ شروع ہوا تو دجالی فتنہ کے مفروضے تک اس کی جڑیں پھیلتی چلی گئیں۔ کرونا وَبا کی دوسری لہر شدت کے ساتھ پھر ابھری ہے، لیکن غور کیا جائے تو نظر آتا ہے کہ کرونا تو1930سے آج تک ختم ہی نہیں ہوا تھا، حالاں کہ سائنس دانوں نے طبیعی عمر پندرہ روز اور اہم نشانیوں میں بتایا کہ جسم کے باہر، کن کن مقامات پر کرونا کتنے دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور انسانی جسم میں کتنے عرصے تک خلیات کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔


کوویڈ 19اس وقت قریباََ ایک برس، دو مہینے کا ہوگیا ہے، یعنی غیر سائنسی طور پر سمجھا جائے کہ کرونا مقامی طور پر اس عرصے میں مکمل طور پر پھیل کر ازخود جتنا نقصان پہنچاسکتاتھا، پھیلا چکا، لیکن کرونا کی پانچویں پشت کا یہ گروپ وائرس  پندرہ روز میں تو کیا، ایک برس گذر جانے کے باوجود بھی ختم نہیں ہوا، بلکہ روز انہ بڑی تعداد کا اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے۔ عمومی تاثر ہے کہ مبینہ طور پر چند منافع خور ممالک دنیا کی معیشت پر قبضہ کرنے کے لئے اس وائرس کو پھیلاتے رہیں گے اور جب اس کی شدت شدید ہوجائے گی، تو نئے کرونا کے لئے نیا تریاق بنا کر کھربوں ڈالر کمانے کا سلسلہ شروع  جاری رہے گا، اب اس حوالے سے تاریخ فیصلہ کرے گی کہ کرونا، اتنے عرصے میں ختم کیوں نہیں ہورہا۔


کرونا کی لمبی عمر کا کیا راز ہے کہ یہ مسلسل مقامی طور پر منتقل ہورہا ہے، کیا معاشرتی طور پر افراد کا باہمی تعلق اتنا کمزور ہے کہ برسہابرس ایک دوسرے سے ملتے ہی نہیں، (کرونا کی پانچویں نسل تو یہی ظاہر کررہی ہے)۔ کرونا پر سائنسی ہی نہیں معاشرتی و عائلی تحقیق کی ضرورت بھی بڑھ جاتی ہے کہ دنیا بھر میں افراد کے درمیان میل جول و تعلقات میں قربت کا فقدان کیوں ہے، رشتے دار آپس میں کئی کئی مہینوں بعد بھی کیوں نہیں ملتے، دوست احباب برسوں ملاقات کیوں نہیں کرپاتے، جانے انجانے افراد بھولے سے نہیں ٹکراتے،بے سود  سوچ بچار کے بعد ثانوی تحقیق میں یہ اَمر سامنے آیا ہے کہ مالکان اپنے ملازمین سے، تاجر اپنے آجر سے، سیاسی کارکنان اپنے لیڈروں سے اور جرائم پیشہ افراد، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں سے بھی عرصہ دارز تک نہیں ملتے، اس لئے کرونا کی مقامی طور پر منتقلی سست روئی سے آج بھی جاری ہے، اگر باہمی تعلقات میں گرم جوشی ہوتی تو دنیا بھر کی چھوٹی بڑی آبادی رکھنے والے ممالک کی تمام عوام کرونا سے متاثر ہوچکے ہوتے اور انسانی مدافعتی نظام اس قابل ہوچکا ہوتا کہ کرونا کا مقابلہ قدرتی اصولوں کے مطابق کرپاتا۔


دوا ساز اداروں  نے کوویڈ 19 ویکسین بنانے کا’کارنامہ‘ صرف چند مہینوں میں سر انجام دے دیا، یہ توجہ طلب پہلو ہے کیونکہ یہی سائنسدان بتایا کرتے تھے کہ کسی ویکسین کی تیاری میں کم ازکم دس برس کا عرصہ لگ جاتا ہے، اب دسمبر سے ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوجائے گا، کھربوں ڈالرز کی بکنگ ہوچکی، غریب ممالک کاسہ لے کر لائن میں کھڑے ہیں کہ دو برس بعد سہی، لیکن ہمیں یہ ویکسین دے دو، ورنہ ہمارے عوام ختم ہوجائے گی، نسل تباہ ہوجائے گی، صفحہ ہستی سے نام مٹ جائے گا، اگر ایسا نہیں کیا تو اس کا نقصان آپ سب کو بھی ہے، کیونکہ آپ کبھی ہمارے اورہم آپ کے ملک نہیں آسکیں گے، ہمارے مزدور آپ کی’خدمت‘ نہیں کرسکیں گے، جھاڑو پونچا خود لگانا ہوگا، برتن بھی خود دھونے ہوں گے، یہاں تک کہ سستی لیبر کی وجہ سے مہنگی اشیا بناکر، جوفروخت کرتے ہو،تو ایسے تمام برانڈ کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا، الیکٹرونک و فوجی ساز وسامان کون خریدے گا۔خانہ جنگیاں ختم ہوجائیں گی، عالمی طاقت کا توازن بگڑ جائے گا، وغیرہ وغیرہ۔


شائد آپ کو لگے کہ میں کرونا وائرس کے’وجود‘سے انکار کررہا ہوں تو ایسا نہیں ہے، بالکل بھی ایسا”نہیں“ ہے، لیکن اس اَمر پر اعتراض ہے کہ عوام کو درست معلومات کیوں فراہم نہیں کی گئی کہ کرونا کی عمر پندرہ روز نہیں، بلکہ نامعلوم ہے۔ کرونا سیاسی حالات اورموسم کے مطابق اپنی ہیت بھی بدل کراُن جگہوں پر بھی پہنچ جاتا ہے، جہاں گرم ترین موسم میں انساں اور سرد ترین موسم میں جانور بھی زندہ نہیں رہ پاتے۔ کرونا کے بارے میں یہ کیوں نہیں بتایا گیا کہ اس کے پیر پیچھے کی جانب ہوتے ہیں،یہ شام کو گلی بازاروں میں نکلتا ہے اور جو پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے اُسے نگل لیتا ہے، عوام سے اس حقیقت کو کیوں چھپایا گیا کہ یہ صرف بڑی عمر کے افراد کے لئے ہی نہیں بلکہ کم عمر ایسے بچوں کے لئے بھی خطرناک ہے، جو اسکول جاتے ہیں، تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں، لیکن ان سے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی ایک بچے کو کرونا ہوا تو گھر کے چھ افراد اس کا شکار بن سکتے ہیں۔ کچھ تو ضرور ایسا ہے جس کی پردہ داری، دنیا بھر میں کی جارہی ہے، ٹرمپ نے تو کہہ دیا کہ یہ سب انہیں ہرانے کے لئے کیا گیا، لیکن دنیا بھر میں یہ سب کچھ کیوں ہورہا ہے، اس پر غور ومزید تحقیق کی اشد ضرورت ہے۔


شیئر کریں: