Chitral Times

Jan 19, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

ذرا سوچۓ… کیادورآفتادہ علاقوں میں آن لائن کلاسزممکن ہیں؟ … تحریر: ہما حیات، پشاور

شیئر کریں:

کرونا کے ساتھ جنگ کے بارے میں بات تو ہو ہی چکی ہے لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ اٹھ ماہ کی طویل فتح کے بعد بھی جیت پھر کرونا ہی لے گیا۔ تعلیمی اداروں اور ہوسٹلوں کے خالی صحن گویا میری شکست پر میرا منہ چھیڑا رہے ہیں۔ 

 حال ہی میں وزیر تعلیم کی جانب سے تعلیمی  اداروں کی بندش کے حوالے سے ہونے والے اعلان پر صیح غلط کا فیصلہ اپ خود کریں۔ میں صرف اتنا پوچھنا چاہتی ہوں کہ جناب اعلیٰ! کیا ہر بڑے معاملے کا فیصلہ کرتے وقت اپ صرف ان علاقوں کے بارے میں سوچتے ہیں جن میں جدید ٹیکنالوجی کی سہولت موجود ہے؟ اس وباء کے پھیلنے اور نقصانات کا اپ کو جس قدر اندازہ ہے، کیا ان طلبہ و طالبات کا بھی ہے جو کتابوں کے بوجھ سے کمر ٹیڑھی کر کے 12 12 گھنٹے کی سفر کے مشکلات برداشت کر کے اپنے ماں باپ سے دور یہاں پڑھنے اتے ہیں؟

اپ نے کہا ہم ان لائن کلاس لیں لیکن کیا اپ کو پتہ ہے کہ اپر چترال میں ہم اب بھی فون پر بات کرنے کےلیے سگنل ڈھونڈتے ہیں؟ ایسے میں ان لائن کلاسیز کا کہنا کیا زیادتی نہیں ہے؟   

اس لئے ضروری ہے کہ فیصلے سنانے سے پہلے مسائل پر غور کیئے جائیں اور انہیں حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ اپر چترال میں نیٹ کی سہولت صرف ہیڈکوارٹر بونی اور موڑکھو میں موجود ہیں جبکہ دیگر علاقوں میں 2G پر گزارا ہے۔

ایسے میں کلاسز تو دور کی بات ضروری کاغذات کے چند اوراق بھی ڈاؤن لوڈ ہو جائیں تو غنیمت ہے۔ اس کے علاوہ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ سردی کی وجہ سے بجلی کا بھی بڑا مسئلہ ہے۔ پانی کی کمی اور برفباری کی وجہ سے ہر دو تین گھنٹے کے لیئے بجلی غائب رہتی ہے جس کی وجہ سے موبائل فون تک صیحی سے چارج نہیں ہوتے۔ 

اس لیئے ایم-این-اے مولانا عبد الاکبر صاحب، ایم-پی-اے ہدایت صاحب اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اقلیتی امور وزیر زادہ  صاحب کو چاہیے کہ وہ ان مسائل پر غور کریں اور انھیں حل کرنے کی کوشش کریں۔ اور پھر زرا سوچۓ۔۔۔۔ وہ سیاسی نمائندے جو ہمارے شناختی کارڈ بنتے وقت ہمارے سروں پر اپنے پارٹیوں کی ٹوپیاں سجاتے ہیں، اس بار نا ممکن ہے۔


شیئر کریں: