Chitral Times

Oct 17, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرونا, ہمارا تعلیمی نظام اور حکومت کے اقدامات…تحریر….صباحت رحیم بیگ

شیئر کریں:

کرونا کا ایک سال مکمل اور اس پر حکومت نے دوبارہ تعلمی ادارے بند کر کے اس کو برتھ ڈے گفٹ بھی دے دیا لیکن میں اب تک اپنے معصوم ذہن پر زور دے دے کر بھی اس کو سمجھنے سے قاصر ہوں ادھر عوام کو سختی سے SOPs پر عمل کرنے کو کہا جاتا ہے اور کہی پر ڈاکٹرز اور حکمران خود کئ مواقعوں پر اس pandemic سے بے خبر gathering enjoy کرتے ہوئے دیکھائی دیتے ہیں تو کہی پر کباڑ کے نام پر دنیا بھر کے گند import کرتے وقت کرونا کا خیال نہیں آتا.

 ہسپتالوں میں جاکر دیکھے تو ایک بیڈ پر تین مریض ہیں اسے کہتے ہیں social distance اور ان سب کے باوجود ہم حکومت سے توقع بھی یہی کر رہے تھے کہ تعلمی ادارے بند ہونگے کیونکہ کرونا صرف تعلمی اداروں میں ہے بازاروں، پارک اور شادی ہال میں مستی کرنے کا ٹائم کہا ہے کرونا کے پاس لیکن کیا حکومت نے سوچا ہے کہ آج کے بعد سٹوڈنٹس  اسکول جانے کے بجائے فوٹبال گراؤنڈ جاکر کرونا سے محفوظ رہنگے اور کیا کرونا وائرس صرف سکول اور یونیورسٹیوں میں ہی پھیلتے ہیں ہاسٹلز میں نہیں اور آخر میں حکومت نے ان لائن پڑھائی جاری رکھنے کا اعلان کیا تو میں پوچھتی ہوں کہ ایک سال میں حکومت نے ان لائن تعلیم کے لیے کیا اقدامات کیے.

ان لائن پڑھائی کے لیے سب سے پہلے تمام علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہونی چاہیے اور حکومت طلباء میں مفت لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ دیوایز تقسیم کریں پھر تمام طلباء ان لائن پڑھائی کرینگے وزیر تعلیم صرف چھٹیاں کرنے کے بارے میں سوچنے کے بجائے ان لائن پڑھائی پر بھی تھوڑا سا توجہ دیا ہوتا تو آج طالب علموں کا ایک سال یوں ظائع نہ ہوتا اس گزرے ہوئے وقت کی قیمت اس طالب علم سے پوچھیں جو طویل چھٹیوں کے بعد خوشی خوشی سکول جا رہے تھےاس مزدور باپ سے پوچھیں جو ان چھٹیوں میں بھی سکول انتظامیہ کو دس ہزار روپے فیس ادا کرتا ہے اس ماں سے پوچھیں جو دن بھر کے کام کاج سے فارغ ہونے کے بعد بچوں کو ہوم ورک کرواتی ہےسیاسی جلسے کرتے وقت کرونا کہاں ہے سیاسی جلسے کریں تعلمی ادارے SOPs فالو کرکے بھی بند کیوں؟؟ جواب چاھتے ہیں


شیئر کریں: