Chitral Times

Oct 16, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

اگلے سال تک ڈومیسائل،ڈرائیونگ و اسلحہ لائسنس،رجسٹریشن وغیرہ کو ڈیجٹیلائز کیا جائیگا۔وزیراعلیٰ

شیئر کریں:


پشاور (چترال ٹائمز رپورٹ) خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا ایک اجلاس بدھ کے روز وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں اگلے ایک سال کے دوران انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت صوبے میں شروع کئے جانے والے مختلف منصوبوں کیلئے ایکشن پلان کی منظوری دے دی گئی ۔ اس ایک سالہ پلان کے تحت اگلے سال مختلف محکموں کے تحت فراہم کی جانے والی عوامی خدمات بشمول ڈومیسائل سر ٹیفکیٹ، ڈرائیونگ لائسنس ، گاڑیوں کی رجسٹریشن، اسلحہ لائسنس ، برتھ سر ٹیفکیٹ ،واٹر کنکشنز وغیرہ کو ڈیجٹیلائز کیا جائے گا۔ ان خدمات کی فراہمی کی ڈیجٹلائزیشن مکمل ہونے کے بعد یہ ساری خدمات انفارمیشن ٹیکنالوجی بوڈ کے تحت قائم سٹیزن فسلٹیشن سنٹرز میں ایک ہی چھت تلے فراہم ہوں گی اور شہریوں کو ان خدمات کے حصول کیلئے الگ الگ دفاتر کے چکر نہیں لگانے پڑیں گے ۔ایکشنپلان کے مطابق صوبائی حکومت کے پیپر لیس منصوبے کے تحت سرکاری محکموں میں ای۔ آفس سسٹم کے اجراءپرکا م شروع کیا جائے گاجس کا اجراءوزیراعلیٰ سیکرٹریٹ سے کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں ابتدائی طور پر تمام محکموں میں سمریاں ارسال کرنے کے نظام کو آن لائن کرنے کیلئے ای۔سمری سسٹم متعارف کروایا جائے گا۔ علاوہ ازیں عوام کی سہولت کی خاطر تمام سرکاری محکموں کے موبائل اپیلکشنز کو یکجا کرنے کیلئے ایک سپر ُ ایپ بھی متعارف کروایا جائے گا۔اسی طرح تمام سرکاری محکموں کے ڈیٹا تک عوام کی آسان رسائی کیلئے ایک آن لائن مرکزی ڈیٹا سنٹر بھی متعارف کیا جائے گا۔


وزیراعلیٰ کے معاون خصوصی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاءاﷲ بنگش، ، معاون خصوصی برائے ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن غزن جمال اور معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش کے علاوہ ، سیکرٹری انفارمیشن ٹیکنالوجی ، منیجنگ ڈائریکٹر خیبرپختونخوا انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ اور دیگر متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو اس ایکشن پلان پر عمل درآمد کیلئے حقیقت پسندانہ ٹائم لائنز مقرر کر نے اور دیئے گئے ٹائم لائنز کے مطابق منصوبے پر عملی پیشرفت کو یقینی بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر اور بہتر استعمال کے ذریعے لوگوں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات اور نوجوانوں کو روزگارکے مواقع کی فراہمی کیلئے ٹھوس اور نتیجہ خیز اقدامات اُٹھائے جائیں ، حکومت اس سلسلے میں تمام درکار وسائل فراہم کرے گی ۔ موجودہ دور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی کادور قرار دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہاکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے موثر استعمال کے ذریعے سرکاری محکموں کی استعداد کار کو بہتر بنانا اور سرکاری اُمور میں شفافیت کو یقینی بنانا صوبائی حکومت کی اہم ترجیحات کا حصہ ہے جس کے لئے انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کو دیگر متعلقہ محکموں کے ساتھ مل کر ایک مربوط حکمت عملی کے تحت اقدامات اُٹھانا ہوںگے۔ صوبائی حکومت کے تمام سرکاری محکموں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اُمور کا ایک مرکزی نظام متعارف کروانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیراعلیٰ نے ہدایت کی کہ ان محکموں میں انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اُمور کو انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت یکجا کرنے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھائے جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو مزید ہدایت کی کہ زمینوں کے انتقالات میں شفافیت کو یقینی بنانے اور شہریوں کی سہولت کے لئے انتقالات کے نظام کو ایک مرکزی آن لائن نظام کے تحت یکجا کرنے اور ا س سلسلے میں بورڈ آف ریونیو کے متعلقہ عملے کی ضروری تربیت کیلئے دس دنوں کے اند ر قابل عمل تجاویز پیش کی جائیں ۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کے تحت شروع کر دہ پروگرام دُرشل کو ضم شدہ اضلاع تک توسیع دینے کیلئے ضروری اقدامات اُٹھانے کی بھی ہدایت کی ۔ سرکاری محکموں کے آن لائن ریکارڈ اور ڈیٹا کے تحفظ کو یقینی بنانے کیلئے سائبر ایمرجنسی ریسپانس سنٹر کے قیام کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے فوری طورپر اس سلسلے میں کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔
<><><><><><>


خیبرپختونخوامیں موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا اجرائ


وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے صوبے کے آٹھ ڈویژنل ہیڈکوارٹرزکیلئے موبائل واٹرکوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا باضابطہ افتتاح کیا ہے اور کہا ہے کہ موبائل لیبارٹریز کا اجراءسماجی خدمات کے شعبوں میں عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کے سلسلے میں صوبائی حکومت کی کاوشوں کا تسلسل اور ایک اہم پیشرفت ہے جس پر محکمہ آبنوشی خیبرپختونخواخراج تحسین کا مستحق ہے ۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز دوردراز علاقوں کے عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی میں اہم کردار ادا کریں گی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمودخان نے بدھ کے روز وزیراعلیٰ ہاﺅس پشاور میں موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹری کا باضابطہ افتتاح کیا۔

cm key handover water testing lab

محکمہ آبنوشی خیبرپختونخوا کے اعلیٰ حکام نے اس موقع پر وزیراعلیٰ کو مذکورہ موبائل لیبارٹریز کے حوالے سے بریفینگ دیتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی طور پر صوبے کے آٹھ ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز کیلئے مذکورہ موبائل لیبارٹریز کا اجراءکیا گیا ہے جو محکمہ آبنوشی کا ایک اضافی اقدام ہے کیونکہ ڈویژنز کی سطح پر مستقل واٹر ٹیسٹنگ لیبارٹریز بھی پہلے سے فعال ہیں۔ موبائل لیبارٹریز دو دراز کے علاقوں اور ہنگامی ضرورت کے تحت پینے کے پانی کے نمونوں کے معائنے کیلئے استعمال کی جائیں گی اور عوام کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے اقدامات کئے جائیں گے ۔ حکام نے آگاہ کیا کہ مذکورہ اقدام کو عنقریب ضم شدہ اضلاع تک بھی توسیع دی جائے گی۔ اس مقصد کیلئے ایک منصوبہ پہلے سے منظور ہو چکا ہے جس کے تحت ضم اضلاع میں تین موبائل واٹر کوالٹی ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا اجراءکیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ نے پینے کے پانی کے معائنے کیلئے موبائل لیبارٹریز کے اجراءکو صوبائی حکومت کا ایک اور اہم قدم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبائی حکومت سماجی خدمات کے شعبوں میں عوام کو معیاری سہولیات کی فراہمی کیلئے دستیاب وسائل کا کار آمد استعمال یقینی بنارہی ہے ۔ صوبے میں صحت عامہ کا تحفظ صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے ۔ مذکورہ لیبارٹریز کا اجراءبھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔ اُنہوںنے موبائل لیبارٹریز کے اجراءپر متعلقہ حکام کی کارکردگی کو سراہا اور اُمید ظاہر کی کہ محکمہ آبنوشی میں خدمات کی فراہمی کے عمل میں بہتری کا یہ سلسلہ آئندہ بھی جاری رہے گا۔

mobile water testing lab


دریں اثنا وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کی زیر صدرات بدھ کے روز پشاور اور اس کے گرد و نواح میں گیس کی سپلائی اور کم پریشر سے متعلق اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزراءتیمور سلیم جھگڑا، اشتیاق ارمڑ، اراکین صوبائی اسمبلی آصف خان، ارباب وسیم، جنرل منیجر سوئی نادرن گیس پائپ لائن تاج علی و دیگر نے شرکت کی۔ وزیر اعلیٰ نے پورے صوبے بالخصوص پشاور اور اس کے گرد ونواح میں موسم سرما کے دوران سوئی گیس کے کم پریشر کو ایک اہم عوامی مسئلہ قرار دیتے ہوئے متعلقہ حکام کو اس کے حل کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھانے کی ہدایت کی ہے انہوں نے کہا کہ گیس پائپ لائن انفراسٹرکچر کو اپگریڈ کر کے کم پر یشر کا مسئلہ جلد از جلد حل کیا جائے تاکہ صارفین کو کسی قسم کی پر یشانی کا سامنا نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ نے صارفین کو رواں موسم سرما میں بلا تعطل گیس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے نئے پائن لائن بچھانے پر کام مزید تیز کرنے کی بھی ہدایت کی ہے۔ اس موقع پر اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ گیس کی ترسیل اور پریشر کی بہتری کے لیے مختلف منصوبوں پر کام شروع ہے جن کی تکمیل سے گیس کے کم پریشر سے متعلق مسائل حل ہو جائیں گے۔ مزید بتایا گیا کہ 150 کلومیٹر گیس پائپ لائن انفراسٹرکچر کی بحالی پر کام جاری ہے جس سے گیس سپلائی میں خاطر خواہ بہتری آئے گی جبکہ پشاور اور اس کے گرد و نواح میں آئندہ چند روز میں گیس کی لوڈ شیڈنگ اور کم پریشر کے مسئلے پر قابو پا لیا جائے گا۔ اجلاس کوآگاہ کیا گیا کہ گیس انفراسٹرکچر کو مضبوط بنانے کے لیے ڈھائی ارب کا منصوبہ منظور ہوا ہے جس سے گیس سپلائی میں بہتری آئے گی۔
<><><><><><>


<><><><><><>


شیئر کریں: