Chitral Times

May 16, 2022

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

پی پی اے ایف کنسلٹنٹ مس پاولا کی چترال چیمبرآف کامرس کا دورہ،خواتین کی بہتری کیلئے کام کرنیکی یقین دہانی

شیئر کریں:

چترال (نمائندہ چترال ٹائمز) اٹالیئن ایمبیسی اسلام آباد دمیں تعینات پاکستان پاورٹی ایلوی ایشن فنڈ ( پی پی اے ایف ) کے کنسلٹنٹ مس پاولا نے کہا ہے کہ وہ چترال کے خواتین کی دستکاری اور ہاتھ سے بنے دیگر مصنوعات کو نیشنل اور انٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی کیلئے اپنی ہر ممکن تعاون اور کوشش جاری رکھیں گے تاکہ چترال کے ہنرمند خواتین کی مصنوعات کی صحیح مارکیٹنگ ہوسکے۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے گزشتہ روز چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے دفترکا دورہ کرنے کے موقع پر مقامی خواتین اور چیمبر کے ذمہ داروں سے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ مس پاولا نے چترال کے خواتین کی دستکاری اورہاتھ سے بنے دیگر مصنوعات کی کوالٹی کو سراہا اوراس میں مذید نکھار پیداکرنے اور جدید خطوط پر استوار کرنے پر زور دیاتاکہ زیادہ سے زیادہ منافع کمایا جاسکے۔ مس پاولا نے چترال کے خواتین کی ہاتھ سے بنائے ہوئے مصنوعات کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہ چترال میں ان کیلئے ایک ایسا ادارہ یا سنٹر بنانے کی کوشش کریں گے جہاں انکی مصنوعات کی ڈیزائننگ میں مذید نکھار لانے، ان کی استعداد کار کومذید بڑھانے اور بہتر مارکیٹنگ میں مدد مل سکے گی۔ مس پاولا نے خواتین کو اپنے پاوں پر کھڑے کرنے کیلئے چترال چیمبر آف کامرس کی کاوشوں کو بھی سراہا۔
اس سے قبل چترال چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سینئر نائب صدر لیاقت اور ڈاکٹر نذید احمد نے مہمان کو چیمبر کے بارے میں بریفنگ دی۔ جبکہ موقع پر خواتین نے ان کی مصنوعات کو نیشنل اورانٹرنیشنل مارکیٹ تک رسائی دینے اور انھیں بیغیر سود کے قرضہ یا گرانٹ دلوانے کا بھی مطالبہ کیا۔

لیاقت نے چترال کے خواتین کو باروزگار اور ان کو اپنے پاوں پر کھڑے کرنے کیلئے اے۔کے۔ڈی۔این کے مختلف اداروں اور دوسرے این جی اوز کی طرف سے سپورٹ اور سمیڈا کی طرف سے خصوصی گرانٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تعاون سے چترال کی کافی خواتین خود روزگار ہونے کے ساتھ دوسرے خواتین کو بھی روز گار کے مواقع مہیا کررہی ہیں۔ انھوں نے چترال کے سڑکوں کی ناگفتہ بہ حالت کا زکر کرتے ہوئے کہا کہ روڈ زبہتر نہ ہونے کی وجہ سے چترال کی مصنوعات کو نیشنل مارکیٹ تک پہنچانے میں انتہائی مشکلات درپیش ہیں۔ انھوں نے چترال کے خواتین کیلئے ایک بہتر سکل ڈویلپمنٹ سنٹر کے قیام کا بھی مطالبہ کیا۔


شیئر کریں: