Chitral Times

Oct 15, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

بلدیاتی انتخابات کی صدائے بازگشت…..محمد شریف شکیب

شیئر کریں:


خیبرپختونخوا لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے جج جسٹس قاضی عیسیٰ نے ریمارکس دیئے ہیں کہ صوبائی لیڈرکشمیراور گلگت بلتستان میں انتخابات کی بات کرتے ہیں لیکن صوبے میں بلدیاتی الیکشن نہیں کرواتے۔دوران سماعت خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات میں تاخیرکے تذکرے پر جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نے کہاکہ 14ماہ گزرگئے بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرائے گئے، عوام کے حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونے دیں گے، بلدیاتی انتخابات نہ کراکرعوام کے حقوق پرڈاکہ ڈالاجا رہا ہے۔ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخوا کے پیش نہ ہونے پرعدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کیاایڈوکیٹ جنرل بہت مصروف ہیں؟عدالت میں پیش ہوناان کی ذمہ داری ہے۔ عدالت نے صوبائی حکومت کی رپورٹ پراظہارعدم اطمینان کرتے ہوئے کہاکہ آپ عوام کے پیسے سے وکالت کرتے ہیں کسی سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کی حفاظت کرنے والا اللہ ہے،ملک میں ہر طرف وی آئی پی کلچر کے تحت روٹ لگے ہوتے ہیں، ریاست مدینہ ایسی تو نہیں ہوتی عدالت نے اٹارنی جنرل، الیکشن کمیشن اور ایڈوکیٹ جنرل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہاکہ آئین پر عمل درآمد نہ ہوا تو حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی جائے گی۔ خیبر پختونخوا حکومت کا موقف ہے کہ وہ ضم ہونے والے قبائلی اضلاع سمیت صوبہ بھر میں ایک ساتھ بلدیاتی انتخابات کرانا چاہتی ہے صوبے کے دیگر 26اضلاع میں بلدیاتی حلقہ بندیاں پہلے سے موجود ہیں تاہم ضم قبائلی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات کے لئے حلقہ بندی کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا۔

حکومت نے مروجہ بلدیاتی نظام میں بھی تبدیلیاں کی ہیں۔ ضلع کونسل کو سرے سے ختم کیاگیا ہے شہری علاقوں میں ٹاؤن کونسل اور نیبرہڈ کونسل کے انتخابات کرائے جائیں گے جبکہ دیہی علاقوں میں تحصیل اور ویلج کونسل کے لئے انتخاب ہوگا۔ضلع کونسل جیسے بنیادی ادارے کے خاتمے پر بھی تحفظات پائے جاتے ہیں اس حوالے سے فیصلہ ہونا ابھی باقی ہے۔ بلدیاتی اداروں کو جمہوریت کی نرسری قرار دیا جاتا ہے۔ برطانیہ، سوئزرلینڈ اور دیگر جمہوری ملکوں میں ملکی اور ریاستی سطح کے سیاست دان بلدیاتی اداروں سے تربیت حاصل کرکے اوپر آتے ہیں۔ہر جمہوری ادارے کی اپنی حدود اور اختیارات ہوتے ہیں۔صوبائی، قومی اسمبلی اور سینٹ کے ممبران کا بنیادی کام قانون سازی ہوتا ہے۔ عوام کو شہری سہولیات کی فراہمی کی ذمہ داری بلدیاتی اداروں کی ہوتی ہے۔

ماضی میں حکمرانوں نے اپنے سیاسی مفادات کے لئے اراکیں پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈزکا اجراء شروع کردیا۔ جو سراسر سیاسی رشوت کے زمرے میں آتا ہے۔ اس فنڈ کا 99فیصد سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جاتا ہے دنیا کے کسی بھی جمہوری ملک میں اراکین پارلیمنٹ کو ترقیاتی فنڈز جاری کرنے کی کوئی روایت نہیں ہے۔پاکستان کے آئین کے تحت سینٹ اور قومی اسمبلی سے لے کر ویلج کونسل تک کے منتخب ممبران کے فرائض اور اختیارات متعین ہیں۔شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنا، آلودگی پر قابو پانا،مقامی سطح پر لوگوں کو روزگار کی فراہمی، اشیائے ضروریہ کا معیار چیک کرنا اور ان کی مناسب قیمتوں پر عوام کو فراہمی، گلی کوچوں کی پختگی، صفائی، کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانا، نہروں اور پشتوں کی تعمیر، صفائی اور مرمت، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر، آب پاشی اور زراعت کا فروغ، رائے عامہ ہموار کرنا، عوام کو ان کے گھر کے قریب تعلیم اور صحت کی بنیادی سہولیات بہم پہنچانا بلدیاتی اداروں کے فرائض میں شامل ہیں۔یہی وہ بنیادی ضروریات اور شہری سہولیات ہیں جن سے ضم ہونے والے اضلاع کے عوام اب تک محروم تھے۔اس لئے ضم اضلاع میں مربوط اور فعال بلدیاتی اداروں کا قیام ناگزیر ہے تاکہ وہاں کے عوام آزادی اور ترقی کے ثمرات سے فیض یاب ہوسکیں اور انہیں حقیقی معنوں میں ترقی کے قومی دھارے میں شامل کیا جاسکے۔

صوبائی حکومت دستیاب وسائل کے اندر رہتے ہوئے ضم اضلاع کی تعمیر و ترقی کے لئے اقدامات کر رہی ہے۔انضمام کے بعد قبائلی اضلاع میں سرکاری ادارے اور عدالتیں قائم ہوچکی ہیں لیویز اور خاصہ دار فورس کو پولیس فورس میں ضم کیاگیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت وسائل فراہم کرے اور ترقی کے عمل میں مقامی لوگوں کو شامل کرے جس کے لئے بلدیاتی اداروں کا قیام ضروری ہے۔توقع ہے کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع سمیت صوبہ بھر میں بلدیاتی اداروں کے انتخابات کرانے کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے گی۔ تاکہ قبائلی علاقوں کے صوبے میں انضمام کے مقاصد حاصل کئے جاسکیں۔


شیئر کریں: