Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

صخت کارڈ کا استعمال اور درپیش مسائل …عجب خان

شیئر کریں:

ہر ایک کی زندگی قیمتی ہے بے شک زندگی اور موت اللہ تعالی کے ہاتھ میں ہے مگر انسان کو ہمیشہ پچتاوا رہتا ہے جب تک وہ اپنے کسی عزیر اقارب کی زندگی بچانے کے لئے آخری حد تک کوشش نہ کرے۔آج صبخ سوشل میڈیا پر نظر پڑی توایک دل دھلا دینے والی منظر تھا پشاور کے خیبر ٹیچنگ ہسپتال میں افریشم نام کی ایک پھول سی بچی کی زندگی بچانے کے لئے ایک عمر رسیدہ شخض جوشائد اس بچی کا قریبی رشتدار ہو چندے کی اپیل کر رہا تھا جو غالبا گردوں کی بیماری میں مبتلا ہے۔چند لمحے تو موبائل ہلاتا رہ گیا پھر اچانک زہن میں صخت کارڈ کا خیال آگیا ادھر ادھر رابطہ کرنے کی کوشش کی کہ صخت کارڈ پر اس بچی کا علاج کیوں نہیں ہو رہا ہے بہت کوشش کے بغد یہ بات مغلوم ہوئی کہ اس بچے کے ساتھ کمپیوٹرائز فارم ب نہیں ہے جس کی وجہ سے اس مغصوم بچی کو صخت کارڈ پر علاج کروانے میں مشکلات پیش آرہے ہیں۔ہم نے پہلے بھی اس مسلے کو اجاگر کیا ہے اب بھی تمام با شعود اور تغلیم یافتہ لوگوں سے اپیل ہے کہ خدا را اس مسلے کو سنجیدہ لیں اور عوام میں شعور پیدا کریں تا لوگ مشکل وقت میں خکومت کی صخت کارڈ کی شکل میں دی ہوئی سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔خکومت خیبر پختونخواہ نے صخت کارڈ میں سو فیصد آبادی کو تو کوریج دی ہے مگر کچھ مسائل بار بار سامنے آ رہے ہیں۔

1. جن بچوں کے کمپیوٹراز فارم ب نہیں بنے ہیں ان کا اس کارڈ کے زریغے سے علاج ممکن نہیں جب تک ان کا فارم ب نہ بنے۔

۔2۔ بیوہ مائیں جن کے شوہر کے انتقال کا ڈیٹا نادرا کے پاس نہ ہو۔

3. وہ خاندان جو شادی کے بغد خود کو میاں بیوی کے طور پر نادرا کے پاس رجسٹرڈ نہیں کیے ہیں۔تمام لوگوں سے گزارش ہے جو میری تحریر پڑھ رہے ہیں ذمہ داری کا ثبوت دے کر اپنے غزیز و اقارب کا خیال رکھتے ہوئے یہ پیغام گھر گھر پہنچاییں اور لوگوں کی صخت کادڈ سہولت سے فائدہ اٹھانے میں رہنمائی فرمائیں۔آخر میں ہم چیف منسٹر سے اپیل کرتے ہیں کہ اس واقعے کا نوٹس لے کر سرکاری طور پر بچی کا علاج کرائیں۔شکریہ

عجب خان یوتھ لیڈر پی ٹی آئی


شیئر کریں: