Chitral Times

Dec 6, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

گلگت میں امن قائم کرنے میں پنجاب ینجرز( 3 ونگ) کا اعزاز….تحریر: شان محمد گلگت

شیئر کریں:

گلگت بلتسان زمانہ قدیم سے اپنے قدرتی حسن  ، لہلہاتے کھیت ، چھاج کی مانند اُمنڈتی ندیوں ، اُچھلتی  آبشاروں ،اُبھرتے سکڑتے برفانی گلیشروں سے مزئین پہاڑی سلسلے اوربے شمار فلک بوس چوٹیوں کی وجہ سے پوری دنیا کی نگاہوں کا مرکز ہے ۔  اس خطے میں جہاں  ایک طرف انسانی گوشت کا بھوکا شیری بدد کی باقیات چراغ سحری ہیں  تو ایک طرف سر پر کفن باندھے لالک جان شہید ( نشان حیدر) اور حسن و بابرسیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر  استادہ ہیں ۔

   یہ تو طے ہے کہ جہاں حسن ہوتا ہے وہاں رقیب  بھی وجود پاتا ہے اور جہاں محبت کی فراوانی ہوتی ہے  وہاں نفرت کی آگ سلگانے والوں کی بھی  کمی نہیں ہوتی  ۔ گلگت میں دونوں طاقتیں  شانہ بشانہ  اپنی اپنی منزلوں کی طرف رو بہ سفر ہیں ۔ سننے میں یہ آتا ہےاس خطے میں ماحول کو خوشگور دیکھنا پڑوس میں ناگوار گزرتا ہے  یوں حاسد پڑوسی اپنے ناپاک عزائم اور ہتھکنڈوں سے اس خوب صورت خطے کے پاک دامن پر کیچڑ اُچھالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ کبھی مسالک کو ڈھال بناکر  ایک لڑی میں پروئے ہوئے شیرو شکر باسیوں کو ایک دوسرے کے خلاف  محاز آرا کیا جاتا ہے اور کبھی ملکی سیاست کی آڑ میں بے گناہوں کا خوان اور بے جان املاک کا بے دریغ انہدام ہوتاہے ۔  اس غیر یقیقی صورت حال سے ہم پشتوں سے گرز کے آرہے ہیں ۔  لیکن ہم یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ ہمارا وجود کب کا منہدم ہوچکا ہوتا اگر اس علاقے میں عسکری طاقتیں نہ ہوتیں ۔ مذکورہ  سطور کے تناظر میں یہاں جب ایک بھائی  اپنے دوسرے بھائی کے شانوں پر بندق رکھ کے اپنے ایک اور بھائی کی زندگی کے چراغ کو گل کرنے پر اُتر آیا ہے  تو ہماری عسکری طاقتیں ثالث کا کردار ادا کرتی ہے ۔ اگر یہ دشمن کا محاز ہوتا توایسے شر پسندوں کو ہوا میں تحلیل کیا جاتا لیکن مجبوری یہ ہےیہ لڑائی گھر کی اندورنی ہے یہاں پڑوسیوں کو معلوم کیئے بغیر مفاہمت  کا راستہ اختیار کرنا ہی  مسئلے کا بنیادی حل ہے  جو کہ ہماری فوج  اور نیم فوجی دستے کر رہے ہیں ۔

  مفاہمت اور امن کے ضمن میں  علاقے میں مقیم  پنجاب رینجر کی ونگ (3)  ہزار تحسین کے قابل ہے ۔ گزشتہ کئی سالوں سے رنجرز کے جوان یہاں تعنیات ہیں ۔ اگرچہ ان کی زمہ داری بونڈریوں کی حفاظت ہے تاہم گلگت بھی پڑوسی ملک کے گھناؤنے عزائم کے سامنے کسی بونڈی لائین سے کم نہیں ۔  پچلھے دنوں  کروشٹ میں سرکاری گاڑیوں اور عمارتوں کو جب نذر آتش کیا  گیا تب  پنجاب ریجنر ( 3 ونگ ) کے جوان موقعے پر  جائے وارداد پر پہنچے اورکسی بھی طرح کے جانی نقصان کے بغیر آگ پر قابو پایا ، روڑے اٹکے اور ٹائر جلے شاہراہوں کو سیکنڈوں میں ٹریفک کے لئے آزاد کر کے سر پر منڈلانے والے ہر طرح کے نا خوشگوار خطرے  کا قلع قمع کیا۔

میرے ایک قریبی دوست نے مجھے پنجاب رینجر کی داستان سناتے ہوئے کہ کہ  مجھے اُسی دن اسی راستے سے گزرنا تھا لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ یہاں حالات سنگین ہیں جب میں قریب پہنچا تو یونییفارم میں ملبوس کچھ جوانوں کے ساتھ اُن کا کوئی بڑا افسر بھی ڈیوٹی پر مامور تھے ، نے مجھے روکا اور مجھ سے میری منزل کا استفسار کرنے کے بعد جب انہیں معلوم ہوا کہ میں ایک طالب علم ہوں تو  بڑی حٖفاظت سے مجھے راستہ پار کروایا۔ میں بہ حفاظت دوسری  طرف نکلنے کے بعد ان کی یونیفارم کی طرف دیکھا تو مجھے پنجاب رینجر کی پٹی نظر آئی ۔ میرے پاس ان مسیحاؤں کو دینے کےلیے صرف ایک لفظ ” شکریہ ” کے علاوہ  اور کچھ نہ تھا لیکن انہوں نے میرے شکریے کے الفاظ کو بھی اپنے اوپر بوجھ سمجھتے ہوئے کہا ” ہم آپ کے ہیں آپ کی جان ، مال اور آبرو کی حفاظر ہمارا اولیں فرض ہے ”  مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا کیوں کہ ہم نے تو سنا تھا کہ رینجرز میں تمیز داری کا فقدان ہوتاہے لیکن آج معلوم ہوا کہ یہ تو امن کے داعی ہیں ۔ 

مجھے نہیں معلوم کہ ان کا سربراہ کون ہے لیکن جو بھی ہے وہ کوئی معمولی آدمی نہیں ہے کیوں کہ انہوں نے اپنے دستے کو ایک ایسی اعلیٰ تربیت سے گزاری ہے جو پاکستان جیسے ملک میں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ ہم  فوج کے علاوہ اپنی پولیس کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں لیکن رینجرز ان سب پر بھاری ہیں اور ان کا مقام افضل ہے ۔ گلگت میں پیدا ہونے والی حالیہ غیر  یقینی صورت حال پر لپک جھپکنے میں قابو پانا  گلگت میں پنجاب رینجرز کی تاریخ میں سب سے بڑی کامیابی ہے ۔ ہم اُمید رکھتے ہیں کہ ائیدہ بھی گلگت میں مقیم ریجرز کے افیسرز اور جوان  اسی طرح اپنا مقام بر قرار رکھتے ہوئے کام کریں گے  ۔ ہم  رینجرز کے سپاہی سے لیکر آخری بڑے افیسر تک تمام کے مشکو ر ہیں کہ جو کہ علاقے میں امن قائم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے ۔ پاک آرمی پاکستان رینجز اور نیم فوجی فورسز زندہ باد  پاکستان پائندہ باد ۔

pujab rangers Gilgit baltistan col 2

شیئر کریں: