Chitral Times

Nov 28, 2021

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

جنوبی ایشیاء میں امریکہ بھار ت اجارہ داری کے خلاف دفاعی بلاک ۔۔۔۔پروفیسرعبدالشکورشاہ

شیئر کریں:

 خطے کی تین بڑی طاقتیں، چین، پاکستان اور ایران جنوبی ایشیاء کے تین حصوں، جنوبی ایشیاء،مشرقی ایشیاء اور مشرق وسطی میں باہمی دفاعی تعاون سے سے نقشہ بدل سکتے ہیں۔ ایران کا مشرق وسطی میں دفاعی،سلامتی، لسانی،ثقافتی، معاشی اور سیاسی اثرورسوخ کے علاوہ قدرتی ذخائر کی فروانی اسے خطے کا اہم ملک بناتے ہے۔ چین اپنی تیزی سے ترقی کرتی معیشت، ویٹو پاور، عالمی اثر ورسوخ اور اپنے ون بیلٹ منصوبوں کے زریعے تمام ممالک کو اپنے ساتھ جوڑتے ہوئے مستقبل کی سپر پاور بننے جا رہا ہے۔ پاکستان پہلا اسلامی ایٹمی ملک،شدید مشکلات سے نبرد آزما ہونے کا تلخ تجربہ،خطے کی ابھرتی ہوئی معاشی اور دفاعی طاقت اوراپنے انتہائی اہم جغرافیائی اور دفاعی محل وقوع کے اعتبار سے ایک نمایاں اہمیت کا حامل ہے۔ چین، پاکستان اور ایران کی دفاعی تکون دنیا کے تین اہم ترین جغرافیائی،سیاسی، معاشی اور دفاعی خطوں میں سے ایک ہے۔ ان کا ثقافتی اشتراک، قدرتی وسائل،آبی گزر گاہیں،جغرافیائی محل وقوع اور ان کے مسائل عالمی سطح پر اثرانداز ہوتے ہیں۔تینوں ممالک کے دفاعی اور تحفظ کے مسائل ایک دوسرے سے گہری مماثلت رکھتے ہیں جنہیں باہمی تعاون سے باآسانی حل کیا جا سکتا ہے۔ تینوں ممالک کو درپیش مشکلات میں سے سب سے پہلا مسئلہ افغانستان میں قیام امن ہے۔

افغانستان میں قیام امن علاقائی اور غیرملکی دونوں عوامل کے بہترین مفاد میں ہے۔ پاکستان افغانستان، ایشیاء اور عالمی امن کے قیام کے لیے پہلے ہی ان گنت قربانیاں دے چکاہے۔چین اور ایران کا تحفظ اور معیشت بھی افغانستان کے امن پیوستہ ہے۔ اگرچہ پاکستان اور ایران ماضی میں مسئلہ افغانستان پر الگ رائے کے حامل رہے ہیں۔ پاکستان طالبان حکومت کا حمایتی تھا اور ایران شمالی اتحاد کا، مگر اب دونوں کو متفقہ طور پرنہ صرف پر امن افغانستان کے لیے کوششیں کرنی ہیں بلکہ خطے میں امریکہ بھارت گھٹ جوڑ کی وجہ سے خطے کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے یکجا ہونا ہے۔ چین بھی افغانستان میں امن کا خواہاں ہے جسکی ایک وجہ امریکہ کی خطے میں موجودگی چین کے لیے مسائل پیدا کر رہی ہے دوسری وجہ افغانستان میں بدامنی کی صورت میں نہ صر ف چین کی خلیج ریاستوں سے تجارت متاثر ہو گی بلکہ اس کا صوبہ ژیانگ جینگ بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ چین اپنے ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے زریعے خطے کے ممالک کو اپنے ساتھ ملانے میں مصروف ہے۔تینوں ممالک کے مشترکہ مفادات اس بات کے متقاضی ہیں کہ وہ افغانستان میں امن کے قیام کو یقینی بنائیں۔ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی چین، ایران اورپاکستان تینوں میں سے کسی کے مفاد میں بھی نہیں ہے۔ امریکہ ایران کے ایٹمی پروگرام کی آڑ میں ایران کو کمزور کرنا چاہتا ہے،

چین کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت اور عالمی اثرورسوخ امریکہ کے لیے ایک چیلنج بنا ہو ا ہے اور امریکہ بھارت نوازی کے زریعے بھارت کو چین اور پاکستان کے خلاف اکسا رہا ہے۔چین اور ایران ہمیشہ خطے میں غیر علاقائی عوامل کے خلاف رہے ہیں۔امریکہ بھارت گھٹ جوڑ نے نہ صرف خطے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے بلکہ امریکہ بھارت معائدوں سے خطے میں طاقت کا توازن شدید متاثر ہوا ہے جو جنوبی ایشیا ء میں ایٹمی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے جس کی لپیٹ میں نہ صرف جنوبی ایشیاء بلکہ پوری دنیا آئے گی۔ پاکستان نے امریکہ طالبان امن معائدوں میں اہم کردار ادا کیا ہے مگر بھارت افغانستان میں دہشت گردی کرو ا رہا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے افغانستان سے مکمل امریکی انخلاء اس کے ہندو سامراجیت کے خوابوں کے لیے موت ثابت ہو گا۔ پاکستان اور روس کی سپیشل فورسسز کی حالیہ مشترکہ مشقوں کے زریعے بھی امریکہ اور بھارت کو نہ صرف ایک پیغام دیا گیا ہے بلکہ دونوں کو یہ باور کروایا گیا ہے کہ روس بھی جنوبی ایشیاء میں کسی غیر علاقائی عنصر کو برداشت نہیں کرے گا اور وہ یورپ کے بجائے ایشیائی ممالک کا ساتھ دے گا۔ بھارت نے روس کی گود میں بیٹھ کر جنوبی ایشیاء پر حکمرانی کے خواب دیکھے جو چکنا چور ہوئے اور اب امریکی کی گود میں بیٹھ کر اکھنڈ بھارت کے سپنے دیکھ رہا ہے۔

ٹرمپ کی جنوبی ایشیاء پالیسی میں بھارت نوازی نے خطے کے تمام ممالک کوبھارتی خرچے پر چین کے ساتھ لا کھڑا کیا ہے۔ بھارت ہمیشہ سے سامراجی اور ہندوانہ نظریہ کے تحت چلتا آیا ہے اور امریکہ کی جانب سے جنوبی ایشیاء کے لیے بھارت کی تاج پوشی کے اقدامات چین، پاکستان، ایران اور روس میں سے کسی کے لیے بھی قابل قبول نہیں ہو سکتے۔ بھارت اپنی اجاراہ دارانہ اور ہندوانہ سوچ کی وجہ سے اپنے کسی بھی ہمسائے ملک کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کرنے میں ناکام رہا ہے۔ پاکستان اور چین دراصل جنوبی ایشیاء میں بھارتی اجارہ داری کی راہ میں رکاوٹ ہیں اسی لیے بھارت پاکستان اور چین کے خلاف محاذ آرائی پر کاربند رہتا ہے۔ چین بھارت تنازعہ بھی درحقیقت غیر خطی عوامل کا شاخسانہ تھا جس کا مقصد چین کے لیے نئے محاذ کھولنا ہے۔ امریکہ پا ک بھارت اور بھارت چین تنازعات کو ہوا دے کر اپنے مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے کیونکہ دونوں صورتوں میں ایک طرف تو وہ چین کو کمزور کرے گا دوسری جانب ایران پر چڑھائی کا راستہ ہموارہو جائے گا۔ یہ وقت کا تقاضا ہے کہ تینوں ممالک مشترکہ طور پر ایک تکون بناتے ہوئے آگے بڑھ کر اس صورتحال کو تبدیل کریں۔ امریکہ اور بھارت کو پاک چین اقتصاری راہداری ایک آنکھ نہیں بہاتی۔

اگرچہ ایران اور بھارت کے تعلقات بہتر ہیں مگر زیادہ تر معائدے کاغذی کاروائی تک محدود ہیں اور بھارت امریکہ اور ایران میں سے یقینا امریکہ کا انتخاب کرے گا اور امریکہ اپنی ناجائز اولاد اسرائیل کے تحفظ کے لیے بھارتی کو ایران کے خلاف استعمال کرنے میں کو ئی دقت محسوس نہیں کرے گا۔ اس سے قبل بھی امریکی دباوہ پر بھارت پاکستان،ایران اور بھارت گیس پائپ لائن سے دوری اختیار کر لی تھی۔ایران کے لیے بھی ضروری ہے کہ وہ بھارت کی ہندوانہ چالوں کو سمجھتے ہوئے پاکستان اور چین کے بلاک کا حصہ بنے۔ تینوں ممالک اس حقیقت سے بھی پوری طرح آشنا ہیں کہ امریکہ کی جنوبی ایشیاء پالیسی میں ہمیشہ بھارت نوازی کا مظاہر ہ کیا جا تا ہے جو ان تینوں کے مفادات کے لیے خطرہ ہے۔ بھارت کے سر سے امریکی بھوت اتارنے کے لیے بھی پاکستان، چین اور ایران کا ایک ہونا اشد ضروری ہے کیونکہ بھارت خطے کے دیگر چھوٹے ممالک کواپنا اتحادی بننے پر مجبور کر سکتا ہے مگر پاکستان، چین اور ایران پر یہ حربہ کارگر نہیں ہے۔پاکستان، چین اور ایران کی دفاعی تکون ہی ایشیاء کی ترقی اور امن کی ضامن ہو سکتی ہے۔ تینوں ممالک خطے میں بھارت اور امریکی اجارہ داری قبول کرنے کے لیے کسی بھی صورت تیار نہیں ہیں۔


شیئر کریں: