Chitral Times

Dec 2, 2020

ﺗﻔﺼﻴﻼﺕ

کرونا…….گل عدن

شیئر کریں:

سال 2020 کو آپ دیکھیں تو اآپکو زیادہ تر مایوسی اور اداسیاں نظر آئیں گی اور آپ گذرے وقت کی مصائب کو سوچ کر مزید پریشان ہو جائیں گے ۔کیونکہ اس میں کوئی شک نہیں کے رواں سال پورے عالم کے لئے ایک آزمائش کا سال رہا ۔ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا کو ناصرف محصور بلکہ بےبس کرکے رکھ دیا ۔سپر پاور ممالک بھی اس ذرا سی وائرس کا مقابلہ کرنے میں ناکام ہو گئے اور لاکھوں جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ۔تقریباً پورا سال گزرنے کے باوجود کرونا کے سامنے ہم پہلے دن کی طرح بے ںس ہیں ۔آج بھی اس کا واحد علاج احتیاط ہے۔جیسا کے کرونا اک بار پھر سر اٹھا چکاہے مگر عوام کو دیکھ کر نہيں لگتا کے اب کے بار بھی یہ کرونا کے نام پر گھر بیٹھ جائے گی ۔


یوں تو انفرادی طور پر ہر شخص کو اس سال ناچاہتے ہوئے بھی بہت کچھہ دیکھنا اور سہنا پڑا ۔اک کرونا نے ہمیں انسانی اقدار کےہزار رنگ دکھائے ۔ہمیں وہ آیئنے دکھائے کہ ہم میں پھر کبھی آئینہ دیکھنے کی چاہ باقی نہ رہی ۔دراصل کرونا نے ہی ہمیں بتایا کہ ہم اچھے مسلمان تو کیا اچھے انسان بھی نہیں ہیں ۔مگر میں کبھی بھی انسانی اقدار پر کچھ لکھنا نہیں چاہتی کے مجھے انسانی معاشرے میں انسانیت پر لکھنا انسانیت کی تو ہین لگتی ہے ۔۔چونکہ کرونا کی اک اور لہر آچکی ہے اور ممکن ہے موسمیاتی تبدیلی کی بدولت اب کے بار کرونا کا یہ لہر زیادہ خطرناک ہو ۔اسلئیے میں اپنے اردگرد اپنی ان بہن بھائیوں کے اس لاپرواہ روئے پر لکھنا ضروری سمجھتی ہوں جس نے مجھے پورا سال تقریباً فرسٹریشن کا شکار کیا۔میرے مشاہدے میں ایسے کئی لوگ آئے جو محفل میں دوسرے شخص کی ایک کھانسی سے ڈر کر اس سے میلوں دور جاکے بیھٹتے تھے مگر اپنی کھانسی کو معمول کی کھانسی قرار دیتے رہے ۔دوسروں کا زکام اپنا بخار انھیں موسمیاتی بخار لگتا ہے ۔آپ ان کی صحت کے پیش نظر انکو احتیاط کرنے یا دوا لینے کو کہیں گے تو یہ پہلے تو بحث مباحثے کے ذریعے اپنی بخار کو ہر قیمت پر موسمیاتی بخار ثابت کریں گے یا پھر آپ سے ناراض ہو جائیں گے ۔اس درجہ جہالت پر مجھے تعجب ہے۔مانا کے ایک موذی مرض کا اپنے یا اپنے کسی عزیز کےلیے تصور کرنا بھی مشکل ہے لیکن اگر ہم میں کرونا کے علامات ظاہر ہو رہے تو کیا کبوتر کی طرح آنکھیں بند کرنے سے کرونا موسمیاتی بیماری میں بدل جائے گا ؟؟الله کرے کے ایسا ہی ہو مگر اس درجہ لاپرواہی سے نقصان کس کا ہو گا ؟؟صرف آپکا اور آپکے قریب رھنے والے آپکے عزیز وں کا۔اپنی ضد میں اڑے رہنے والوں کو میرے دو مشورے ہیں ۔یا تو آپ اپنی کھانسی سے بھی اتناہی ڈریں جتنا دوسروں کی کھانسی سے ڈرتے ہیں اور بروقت اپنا خیال رکھیں ۔اور خدارا بخار کی حالت میں کسی سے نہ ملیں ۔دوسرا مشورہ مجھ ناچیز کا یہ ہے کہ اگر آپکی کھانسی موسمی ہے تو محفل میں دوسروں کی کھانسی سے خوفزدہ ہوکر انکی دل آزاری کا سبب نہ بنیں ۔کیونکے انکی کھانسی زکام بخار موسمی ہوسکتی ہے۔


اسکے علاوہ کرونا ہم پر الله کا عذاب ہے جو ٹل نہیں رہا ۔شریعت نے بتایا ہے کہ وبا عذاب الٰہی ہےجو کسی ملک پر اسکے باشندوں کی بداعمالیوں کی پاداش میں نازل کیا جا تا ہے ۔لیکن اگر اس سزائے عام میں نیک اور مومن لوگ بھی آجائیں تو انکے لئے باعثِ شہادت اور موجبِ اجر ہے ۔


ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا کہتی ہیں کہ میں نے رسول پاک ﷺسے طاعون کے متعلق سوال کیا تو آپﷺ نے فرمایا یہ عذاب الٰہی ہی اللہ جس پر چاہتا ہے بیھجتا ہے اور اللہ نے اسکو مومنوں کے لئے رحمت بنایا ہے ۔جب طاعون شروع ہو جائے تو جو شخص اپنے شہر میں صبر کے ساتھ اللہ پربھروسہ کر کے بیھٹا رہے اور سمجھے کے اللہ نے جو لکھ دیا ہے اسکے سوا اسکو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا تو اسکو شہید کے برابر اجر ملے گا ۔


انسؓ کہتے ہیں کہ رسول پاکﷺنے فرمایاکہ الطاعون شھادة کل مسلم۔۔یعنی طاعون ہر مسلمان کی شہادت ہے ۔
اسامہ بن زید ؓسے روایت ہے آپﷺنے فرمایا طاعون عذاب ہے جو بنی اسرائیل کی اک جماعت پے یا تم سے پہلے لوگوں پر نازل ہوا تھا ۔پس جب تم کسی زمین میں اس کا پھوٹنا سنو تو وہاں نہ جاؤ ۔اور جب کسی زمین میں پھوٹ پڑے اور تم وہاں موجود ہو تو اس سے بھاگ کر نہ نکلو ۔” ۔جانا اسلئیے منع ہے کے نفس کو ہلاکت میں نہ ڈالے۔اور بھاگے نہیں کیوں کہ یہ تقدیر سے بھاگنا ہے۔(مظ(


شیئر کریں: